تفسیر اتقان جلد اول ص 60 پر علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت…

تفسیر اتقان جلد اول ص 60 پر علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  نے اقرار کیا کہ ان کے جمع کردہ قرآن میں غلطیاں ہیں۔ مگر ان کی تصحیح عرب خود ہی کر لیں گے۔ جواب دیجیے۔ اس قول کی موجودگی میں قرآن کو غلطیوں سے پاک ماننے کا عقیدہ آپ کے مذہب کے مطابق کِس طرح درست ہوا؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 2

"اس وجہ سے عمر نے اس قرآن کو قبول نہ کیا۔"

اور لاہور کے مطبوعہ ترجمہ میں یہ لکھا ہے کہ:-

"اس وجہ سے خلافت نے اس قرآن سے انکار کر دیا۔" 

بہرحال مندرجہ دونوں روایتوں سے بالکل واضح ہے کہ جو قرآن حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے جمع کر کے لوگوں کے سامنے پیش فرمایا تھا اس کو انہوں نے قبول نہ کیا اور دوسری روایت سے حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے جمع کردہ قرآن کی وجہ بھی یہ بیان کر دی ہے کہ اس قرآن میں منافقین قوم کے کفر اور نفاق کے متعلق چند آیات صریح پائی جاتی تھیں اور حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی خلافت کے لیے بھی صریح آیات تھیں۔ اس لیے انہوں نے اس قرآن کو قبول نہ کیا۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو قرآن ان لوگوں کے پاس پہلے سے موجود تھا اس میں نہ ان منافقین کے خلاف تصریح پائی جاتی تھی اور نہ ہی اس میں حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے حق میں ان کی خلافت کے لیے تصریح موجود تھی۔ اور چونکہ آج بھی امت مسلمہ کے پاس وہی قرآن ہے جو حضرت عمر رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ اور اصحابِ خلافت کے پاس اس وقت موجود تھا اس لیے اس قرآن میں حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی خلافت پر کوئی نص نہیں پائی جاتی۔ تو پھر شیعہ علماء اور مجتہدین موجودہ قُرآن میں سے حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی خلافت و امامت کی نص کیونکر ثابت کر سکتے ہیں؟ اور یہی وجہ ہے کہ مولوی عبد الکریم مشتاق نے اپنے رسالہ "میں شیعہ کیوں ہوا" میں اگرچہ دعویٰ یہی پیش کیا ہے کہ بارہ اماموں کی امامت قرآن سے ثابت ہے لیکن وہ اس قرآن میں سے بطور نص کوئی آیت پیش نہیں کر سکے۔ صرف وہی آیات پیش کی گئی ہیں جن میں اگلی امتوں اور ان کے پیشواؤں کا ذکر ہے۔ اگر اس قرآن میں حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ سمیت بارہ ائمہ کی امامت و خلافت کا کہیں ذکر کسی آیت میں پایا جاتا ہے تو پاکستان کا کوئی شیعہ عالم اور مجتہد ہمارے سامنے پیش کر دے۔

قُلْ هَاتُوا بُرْهَانكُمْ إنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۔

6️⃣۔ حسبِ حدیث اصول کافی جب حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ نے اصلی اور صحیح قرآن کو غائب کر دیا تو وہ نہ معصوم ثابت ہو سکتے ہیں نہ خلیفہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم۔ کیونکہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:-

{إِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡتُمُوۡنَ مَاۤ اَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡبَیِّنٰتِ وَ الۡھُدٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا بَیَّنّٰہُ لِلنَّاسِ فِی الۡکِتٰبِ ۙ أُولٰٓئِكَ یَلۡعَنُھُمُ اللّٰہُ وَ یَلۡعَنُھُمُ اللّٰعِنُوۡنَ۔

إِلَّا الَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ أَصۡلَحُوۡا وَ بَیَّنُوۡا فَأُولٰٓئِکَ أَتُوۡبُ عَلَيْهِمْ ۚ وَ أَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ۔}

(پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت 159، 160)

ترجمہ:-

"بےشک جو لوگ ان واضح بیانات اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جِن کو ہم نے نازل کیا ہے اس کے بعد کہ ہم نے ان واضح ہدایات کو اپنی کتاب میں لوگوں (کی ہدایت کے لیے) کھلم کھلا بیان کر دیا ہے۔ ایسے لوگوں پر اللّٰه کی لعنت ہوتی ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں۔ مگر جو لوگ توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں اور ان ہدایات کو ظاہر کر دیں تو ایسے لوگوں کی توبہ میں قبول کر لیتا ہوں اور میں بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور بہت زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔"

اس آیت میں ان لوگوں کے متعلق اللّٰه تعالٰی نے اپنا واضح حکم بیان فرما دیا ہے جو اللّٰه کی کتاب میں نازل شدہ ہدایات کو چھپاتے ہیں اور ان کو لوگوں پر ظاہر نہیں کرتے۔تو فرمائیے کہ اگر حضرت علی رضی اللّٰهُ تعالی عنہ کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ انہوں نے غضب ناک ہو کر اللّٰه تعالٰی کا نازل کردہ سارا قرآن ہی غائب کر دیا اور پھر اس کو امامِ غائب صدیوں سے اپنے پاس رکھ کر امتِ مسلمہ سے غائب کئے ہوئے ہیں۔ تو اللّٰه تعالٰی کے حکم کے تحت ان کا کیا حال ہوگا، العیاذ باللّٰہ۔ اہل السنّت والجماعت تو حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کے متعلق یہ تصوّر بھی نہیں کرسکتے کہ انہوں نے صحیح اور اصلی قرآن کو غصّہ میں آ کر چھپا دیا تھا لیکن جِن لوگوں کا یہ عقیدہ ہے اور حضرت امام مہدی کی مصدقہ کتاب اصول کافی میں جِس کا ذکر ہے اور جو شیعہ علماء کے نزدیک سب سے صحیح ترین کتاب ہے ان کے اس عقیدہ کی بنا پر حضرت علی المُرتضٰی رضی اللّٰهُ تعالٰی عنہ کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے کہ ان کو خلیفۂ بلا فصل ماننا امت مسلمہ پر لازم قرار دیا جائے۔

شاہ صاحب۔ سمجھیں اور غور فرمائیں۔ کہ حضرات اہلِ بیت کی طرف منسوب کردہ اس مذہب کے کیسے کیسے عجیب و غریب عقائد و مسائل ہیں جِس کی طرف امّتِ مسلمہ کو دعوت دی جا رہی ہے۔


صفحہ 2 از 2