Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کا حکم


سنی لڑکی کا شیعہ لڑکے سے نکاح کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک لڑکی جس کا تعلق اہلِ سنت و الجماعت حنفی مذہب سے ہے اور اس کے گھر والے اس کی شادی اس کے چچا کے بیٹے سے کرنا چاہتے ہیں، اور منگنی بھی کر دی گئی ہے، لیکن اس لڑکے کا اور اس کے گھرانے کا تعلق شیعہ فیملی سے ہے اور وہ اہلِ تشیع کے عقائد کے حامل ہیں اور گھر والے زبردستی اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں، اور مذکورہ لڑکی بھی اس لڑکے سے اس وجہ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ اب شریعت مطہرہ کی روشنی میں ہماری دینی رہنمائی فرمائیں۔ 

جواب: جعفریہ 12 امامیہ اہلِ تشیع کفریہ عقائد رکھنے کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور مسلمان لڑکی کا نکاح کافر مرد سے جائز نہیں ہے۔ لہٰذا مذکورہ سنی لڑکی کا نکاح شیعہ مسلک کے لڑکے کے ساتھ شرعاً جائز نہیں ہے، وبشرطیکہ اس لڑکے کے عقائد بھی کفریہ ہوں۔

ويكفر الرافضة الذين كفروا الصحابةؓ وفستوهم وسبوهم:

(مجموعه رسائل ابن عابدين:جلد:1:صفحہ:358)

و منها ان لا تكون المرءة مشركة اذا كان الرجل مسلما فلا يجوز للمسلم أن ينكح. المشركة لقوله تعالى : ولا تنكحو المشركين حتى يؤمنوا:

(بدائع الصنائع:جلد:2:صفحہ:554)

نعم لاشك في تكفير من قذف السيدة عائشةؓاوانكر صحبة الصديقؓ او اعتقدالالوهية في علىؓ اوان جبرئيل غلط فى الوحى أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف.للقرآن ولكن لو تاب تقبل توبته:

(فتاویٰ شامی:جلد:3:صفحہ:321)

(ارشاد المفتين:جلد:2:صفحہ:152)