Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ام سلمہ ؓ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو علی ؓ کو گالی دیتے تھے۔

  سلفی فائیٹر

ام سلمہ ؓ نے ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو علی ؓ کو گالی دیتے تھے۔

مرزا علی انجینئر نے جو روایت سنائی ہے اس میں ام سلمہؓ  نے صرف ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو علیؓ کو گالی دیتے تھے لیکن یہ کہاں ہے کہ یہ گالیاں بنوامیہ یا امیر معاویہؓ  دیتے تھے ؟؟

ہم تو کہتے کہ یہ گالیاں شیعانِ علی اور سبائی دیتے تھے ۔
کیونکہ

ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کوفیوں ہی کو مخاطب کرکے یہ بات کہی ہے 
مثلاً پیش کردہ روایت میں ام سلمہؓ  نے یہ بات ابو عبد الله الجدلى الكوفى ثقہ رمی بالتشیع سے یہ بات کہی ہے کہ تمہارے علاقہ میں علیؓ کو گالی دی جاتی ہے۔
اور ان کا علاقہ کوفہ ہی ہے۔

بلکہ ایک روایت میں ام سلمہؓ نے صراحت بھی کردی ہے کہ یہ گالیاں کون دیتے تھے ملاحظہ ہو:

امام طبرانيؒ (المتوفى360)نے کہا:

حدثنا أحمد بن رشدين قال: نا يوسف بن عدي الكوفي قال: نا عمرو بن أبي المقدام، عن يزيد بن أبي زياد،. عن عبد الرحمن بن أخي زيد بن أرقم قال: دخلت على أم سلمة أم المؤمنين، فقالت: «من أين أنتم؟» فقلت: من أهل الكوفة. فقالت: «أنتم الذين تشتمون النبي صلى الله عليه وسلم؟» قلت: ما علمنا أحدا يشتم النبي صلى الله عليه وسلم. قالت: «بلى، أليس تلعنون عليا؟ وتلعنون من يحبه؟» وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحبه [المعجم الأوسط 1/ 110]

اس روایت میں صراحت کہ ام سلمہؓ  نے اہل کوفہ کو علیؓ  کو گالی دینے والا کہا ہے۔
اور کون نہیں جانتا کہ اہل کوفہ سبائیوں اور شیعوں کا مسکن تھا ۔ معلوم ہوا کہ علیؓ  کو گالی دینے والے اہلِ کوفہ ، و سبائی اور شیعہ ہی تھے انہیں کی مذمت ام سلمہؓ  نے کی ہے۔
اب یہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی بات نہیں تو اور کیا ہے۔


ڈاؤن لوڈ