ملعون عبید اللہ ابن زیاد کا ہولناک انجام! - ردِ رافضیت |…

ملعون عبید اللہ ابن زیاد کا ہولناک انجام!

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

ملعون عبید اللہ ابن زیاد کا ہولناک انجام!

دیکھیے اور پڑھیے جامع ترمذی کی یہ صحیح السند روایت!حدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: " لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَيْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً، ثُمَّ خَرَجَتْ، فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ، ثُمَّ قَالُوا: قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا

هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

(جامع الترمذی: 3780)

عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے: آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبید اللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہوگیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہو گیا، پھر لوگ کہنے لگے: آیا آیا اس طرح دو یا تین بار ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

وضاحت : امام حسن اور حسین علیھم السلام کے مناقب میں اس روایت کو لا کر امام ترمذی نواسۂ رسولﷺ کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک، آنکھ اور منہ پر کریدا تھا کہ اللہ نے نواسۂ رسولﷺ کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ترمذیؒ کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

اور ناصر الدین البانی بھی اس روایت کو صحیح الاسناد کہا ہے۔

(جامع ترمذی از تحقیق و تخریج از شیخ ناصر الدین البانی: جلد 2 حدیث 3780)