Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور ناجائز مال کھانے کا حکم دیا کرتے تھے؟ (صحیح مسلم، مسند احمد)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور ناجائز مال کھانے کا حکم دیا کرتے تھے؟ (صحیح مسلم، مسند احمد) 

بسم الله الرحمن الرحیم۔

یہ روایت بلکل صحیح ہے،ملاحظہ فرمائیں۔

صحیح مسلم کتاب: امارت اور خلافت کا بیان

باب: پہلے خلیفہ کی بیعت کو پورا کرنے کے وجوب کے بیان میں

حدیث نمبر: 4776

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْکَعْبَةِ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْکَعْبَةِ وَالنَّاسُ مُجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُمْ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَائَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَی مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَکُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا کَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَی خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَکُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَائٌ وَأُمُورٌ تُنْکِرُونَهَا وَتَجِيئُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِکَتِي ثُمَّ تَنْکَشِفُ وَتَجِيئُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَی النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَی إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنْ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَائَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ لَهُ أَنْشُدُکَ اللَّهَ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْوَی إِلَی أُذُنَيْهِ وَقَلْبِهِ بِيَدَيْهِ وَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي فَقُلْتُ لَهُ هَذَا ابْنُ عَمِّکَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْکُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللَّهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْکُلُوا أَمْوَالَکُمْ بَيْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْکُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللَّهَ کَانَ بِکُمْ رَحِيمًا قَالَ فَسَکَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ

ترجمہ:

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، زہیر، جریر، اعمش، زید بن وہب، حضرت عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ (رح) سے روایت ہے کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ ان کے ارد گرد جمع تھے میں ان کے پاس آیا اور ان کے پاس بیٹھ گیا تو عبداللہ نے کہا ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہم ایک جگہ رکے ہم میں سے بعض نے اپنا خیمہ لگانا شروع کردیا اور بعض تیراندازی کرنے لگے اور بعض وہ تھے جو جانوروں میں ٹھہرے رہے اتنے میں رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز دی الصلوہ جامعہ (یعنی نماز کا وقت ہوگیا ہے) تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا میرے سے قبل کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے ذمے اپنے علم کے مطابق اپنی امت کی بھلائی کی طرف راہنمائی لازم نہ ہو اور برائی سے اپنے علم کے مطابق انہیں ڈرانا لازم نہ ہو اور بیشک تمہاری اس امت کی عافیت ابتدائی حصہ میں ہے اور اس کا آخر ایسی مصیبتوں اور امور میں مبتلا ہوگا جسے تم ناپسند کرتے ہو اور ایسا فتنہ آئے گا کہ مومن کہے گا یہ میری ہلاکت ہے پھر وہ ختم ہوجائے گا اور دوسرا ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا یہی میری ہلاکت کا ذریعہ ہوگا جس کو یہ بات پسند ہو کہ اسے جہنم سے دور رکھا جائے اور جنت میں داخل کیا جائے تو چاہیے کہ اس کی موت اس حال میں آئے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ اس معاملہ سے پیش آئے جس کے دیئے جانے کو اپنے لئے پسند کرے اور جس نے امام کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر دل کے اخلاص سے بیعت کی تو چاہیے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے اور اگر دوسرا شخص اس سے جھگڑا کرے تو دوسرے کی گردن مار دو راوی کہتا ہے پھر میں عبداللہ کے قریب ہوگیا اور ان سے کہا میں تجھے اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا آپ نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے تو عبداللہ نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرکے فرمایا میرے کانوں نے آپ ﷺ سے سنا اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا تو میں نے ان سے کہا یہ آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی معاویہ ہمیں اپنے اموال کو ناجائز طریقے پر کھانے اور اپنی جانوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اللہ کا ارشاد ہے اے ایمان والو اپنے اموال کو ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ ایسی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے اور نہ اپنی جانوں کو قتل کرو بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے راوی نے کہا عبداللہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کہا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔

مسند احمد

کتاب: حضرت عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) کی مرویات

باب: حضرت عبداللہ بن عمرو (رضی اللہ عنہ) کی مرویات

حدیث نمبر: 6214

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ إِذْ نَادَى مُنَادِيهِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَاجْتَمَعْنَا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا دَلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ وَيُحَذِّرُهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ شَدِيدٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ ثُمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ ثُمَّ تَنْكَشِفُ فَمَنْ سَرَّهُ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَأَنْ يُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ قَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قَالَ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ قَالَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔۔

نیز یہ روایت مسند احمد میں حدیث نمبر6503 پر بھی موجود ہے۔

تنبیہ

اس حدیث کے ظاہر سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کا مال بھی لوٹتے تھے اور لوگوں کو ناحق طریقے سے قتل بھی کرواتے تھے۔

اس حدیث میں جو آدمی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بات اور سوال کررہا ہے آپ جانتے ہیں کہ یہ شخص کون ہے؟ وہ تھا عبدالرحمن بن عبد رب کعب جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیاسی حریف ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حامی ہے یعنی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مخالف ہے اور کھل کر تنقید بھی کررہا ہے، یہ مخالف آدمی ہے، اگر کسی کو قتل کروانا تھا تو کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے حامیوں کو حکم دیتے یا پھر اپنے مخالف کو؟

ان کی عقل کو سلام۔۔۔

یہ شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیاسی نظریے کو نہیں مانتا اور سارے سلف بھی یہی کہتے ہیں، مثال کے طور پر شرح نووی میں امام نووی رحمہ اللہ نے یہی بات کی ہے کہ جو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حق پر سمجھتے تھے وہ یہ بات سمجھتے تھے کہ جو لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جنگ میں لوگ قتل ہورہے ہیں وہ ناحق قتل ہورہے ہیں، جو مال خرچ ہورہا ہے وہ ناحق ہورہا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں حق پر نہیں سمجھتے تھے۔ اور ہمارے اکابر علمائے دیوبند کا یہی عقیدہ ہے کہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب تھا اور مسند احمد کی حدیث ہمارے اکابرین کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ جس میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما نے تو دورانِ جنگ ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن آپ کے ساتھ مل کر لڑائی نہیں کررہا، آپ لوگ غلطی پر ہو کیونکہ عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ چونکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت جنگ صفین میں ہوٸ۔ لہذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غلطی پر ہیں، باغی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اجتہادی غلطی پر ہونگے۔ یعنی اجتہادی خطإ پر ہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ۔

اس لیے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس مخالف ذہن والے کو حکمت کے ساتھ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔

اب اس میں مرزا انجنیئر اور رافضی گروہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نعوذوباللہ ناجائز مال کھانے کا حکم دیتے تھے اور ناجائز قتل کرتے تھے۔ تو اس روایت میں یہ اعتراض بنتا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جب ایک شخص مخالف ذہنیت کا اعتراض کرتا ہے تو وہ ظاہر ہے پہلے سے ہی مخالفت میں ہوتا ہے۔ اس وقت وہ اپنے مخالف پر اعتراض ہی کرے گا۔ تو یہ اعتراض باطل ہوا۔ کیونکہ مخالف کا اعتراض ایک رخ کو مدنظر رکھتے ہوئے  قابل استدلال نہیں بن سکتا۔

اللہ تعالٰی ہمیں شرور و فتن سے محفوظ فرماۓ۔

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے لئے  ہمارے دلوں میں سچی اور پکی محبت راسخ فرماۓ۔ آمین یارب العالمین۔


  علامہ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ نے جو اعتراض کیا اس کا پس منظر یہ تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پہ مسلمانوں نے بیعت کر لی، بیعت کے بعد خلیفہ کی اطاعت کرنےکا حکم ہے اور اس کی نافرمانی سے رکنے کاحکم ہےتو معاویہ جو اپنے لشکروں پر مال خرچ کررہے ہیں اور جو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی میں مارے جارہے ہیں یہ تو گویا ناحق ہے تو اس تناظر میں عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ نے یہ بات کی تھی کہ یہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت ہے جو درست نہیں ہے،حق نہیں ہے ناحق ہے،یہ ان کا ایک موقف تھا۔

اہل سنت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی آپسی لڑائیوں اور جنگوں میں اولی بالحق ہیں، لیکن یہ کہنا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بلکل حق پر تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بلکل ہی باطل پر تھے۔


عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔  انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ،  کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ،  کوئی تیر مارنے لگا ،  کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔  ہم سب آپ کے پاس جمع ہوئے ۔  اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا اور پتلا کردے گا  ( یعنی بعد کا فتنہ پہلے سے ایسا بڑھ کر ہوگا کہ پہلا فتنہ اس کے سامنے کچھ حقیقت نہ رکھے گا )  او رایک فتنہ آوے گا تو مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے پھر وہ جاتا رہے گا اور دوسرا آوے گا مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے ۔  پھر جو کوئی چاہے کہ جہنم سے بچے او رجنت میں جاوے اس کو چاہیے کہ مرے اﷲ تعالیٰ اور پچھلے دن پر یقین رکھ کر اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہو کہ لوگ اس سے کریں ۔  اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اس کو اپنا ہاتھ دے دیوے اور دل سے نیت کرے اس کی تابعداری کی تو اس کی طاعت کرے اگر طاقت ہو ۔  اب اگر دوسرا امام اس سے لڑنے کو آوے تو  ( اس کو منع کرو اگر نہ مانے بغیر لڑائی کے تو )  اس کی گردن مارو ۔  یہ سن کر میں عبداﷲ کے پاس گیا اور ان سے کہا میں تم کو قسم دیتا ہوں اﷲ کی تم نے یہ رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا ہاتھ سے اور کہا میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا ۔  میں نے کہا تمہارے چچا کے بیٹے معاویہؓ ہم کو حکم کرتے ہیں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے کے لیے اوراپنی جانوں کو تباہ کرنے کے لیے اور اﷲتعالیٰ فرماتا ہے ”اے ایمان والو اپنے اموال کو ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ ایسی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے اور نہ اپنی جانوں کو قتل کرو بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے۔“  یہ سن کر عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ تھوڑی دیر تک چپ رہے پھر کہا معاویہؓ کی اطاعت کرو اس کام میں جو اﷲ کے حکم کے موافق ہو اور جو کام اﷲ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو اس میں معاویہؓ کا کہنا نہ مانو ۔

یہ اس سائل کا دعوی ہے، حالانکہ حضرت معاویہ نے خلافت کا دعوی نہیں کیا تھا بلکہ قاتلین عثمان کو اپنے حوالہ کرنے کی استدعا کی تھی اور قاتلین عثمان کی سازشوں کے نتیجہ میں اپنا دفاع کرنے کے لیے جنگ لڑنی پڑی تھی، اس لیے وہ اپنے اجتہاد اور اپنی راۓ کی روشنی میں اس لڑائی کو صحیح سمجھتے تھے اور اس کے لیے مال خرچ کرنا نا جائز طریقہ سے مال کھانا قرار نہیں دیا جا سکتا ، حضرت علی  نے ایک خط لکھوا کر ، ملک کے اکناف و اطراف میں نشر کر دیا تھا، جس میں لکھا، ہمارا اور اہل شام کا مقابلہ ہوا اور کھلی حقیقت ہے، ہمارا رب ایک ہے، ہمارا نبی ایک ہے، اسلام کے بارے میں ہماری وحدت یکساں ہے، اللہ تعالى کے ساتھ ایمان لانے اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے میں ، ہم ان سے بڑھ کر نہیں ہیں اور نہ وہ ہم پر اس میں فائق ہیں ، ہمارا معاملہ یکساں ہے، مگر خون عثمان میں ہمارا اور ان کا اختلاف ہو گیا ہے اور ہم اس سے بری الذمہ ہیں ۔

( نہج البلاغۃ ج۲، ص۱۱۴۔ مع حواشی امام عبده، بحوالہ رحماء بینھم ج ۴ص۱۸۳۔ یہی بات درة نجفیه شرح نہج البلاغۃ ص۳۴۴ میں موجود ہے )

مثال کے طور پر شرح نووی میں امام نووی رحمہ اللہ نے یہی بات کی ہے جو ہم نے بیان کی ہے کہ جو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گروہ سے تھے  وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی آپسی لڑائی میں جو قتل ہورہے ہیں وہ ناحق قتل ہورہے ہیں اور جو مال خرچ ہو رہا ہے وہ ناحق خرچ ہو رہا ہے،  اس کی ذمہ داری حضرت امیر معاویہؓ  پر ہے اور آج بھی رافضیوں کا یہی نظریہ ہے۔

 سیدنا عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنھما بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں حق پر نہیں سمجھتے تھے اور مسند احمد کی کچھ احادیث کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما نے تو دورانِ جنگ ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن آپ کےساتھ مل کر لڑائی نہیں کر رہا،آپ لوگ غلطی پر ہو کیونکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی چونکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت بظاہر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کے ہاتھوں ہوئی لہذا آپ غلطی پر ہیں،حالانکہ قاتلین عمار وہی باغی گروہ تھا جو قتل عثمان غنیؓ میں ملوث تھا اور مسلمانوں کی آپسی جنگیں بھی اسی باغی گروہ کی سازشوں کا نتیجہ تھیں۔

 حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما جو رافضیوں کے بقول بھی آپسی جنگوں کے مسئلہ پر حضرت امیر معاویہؓ  کے حامی نہیں ہیں ، اس کے باوجود بھی وہ خاموش ہو کر امت کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آپ نے بھی اس معاملے میں خاموش ہی رہنا ہے کیونکہ یہ ایک اجتہادی معاملہ ہے۔

 حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے عبدالرحمان بن عبدربہ کی تنقید اور سوال پر کوئی منفی تبصرہ نہیں کیا ۔اس سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مشاجرات صحابہ کےمسئلے میں اپنی زبان کو بند رکھنا چاہئے، کوئی منفی تبصرہ نہیں کرنا چاہئے، اگر کوئی زبان دراز کرے گا تو اس کا اپنا ایمان برباد ہو جائے گا۔

 حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ نے خاموش ہو کر جواب دیا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اللہ کی فرمانبرداری میں وہ جو حکم دیں اس کو مان لو، اور جس بات کو تم سمجھتے ہو کہ اس میں اللہ کی نافرمانی ہے اسے چھوڑ دو۔