کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور…

کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور ناجائز مال کھانے کا حکم دیا کرتے تھے؟ (صحیح مسلم، مسند احمد)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 2 از 4
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ رَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ إِذْ نَزَلَ مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يَضْرِبُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ إِذْ نَادَى مُنَادِيهِ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ قَالَ فَاجْتَمَعْنَا قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنَا فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا دَلَّ أُمَّتَهُ عَلَى مَا يَعْلَمُهُ خَيْرًا لَهُمْ وَيُحَذِّرُهُمْ مَا يَعْلَمُهُ شَرًّا لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَتْ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَإِنَّ آخِرَهَا سَيُصِيبُهُمْ بَلَاءٌ شَدِيدٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا تَجِيءُ فِتَنٌ يُرَقِّقُ بَعْضُهَا لِبَعْضٍ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ ثُمَّ تَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ ثُمَّ تَنْكَشِفُ فَمَنْ سَرَّهُ مِنْكُمْ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَأَنْ يُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتُدْرِكْهُ مَوْتَتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ قَالَ فَأَدْخَلْتُ رَأْسِي مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَقُلْتُ أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى أُذُنَيْهِ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي قَالَ فَقُلْتُ هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَعْنِي يَأْمُرُنَا بِأَكْلِ أَمْوَالِنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَأَنْ نَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ قَالَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَلَى جَبْهَتِهِ ثُمَّ نَكَسَ هُنَيَّةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ۔۔

نیز یہ روایت مسند احمد میں حدیث نمبر6503 پر بھی موجود ہے۔

تنبیہ

اس حدیث کے ظاہر سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کا مال بھی لوٹتے تھے اور لوگوں کو ناحق طریقے سے قتل بھی کرواتے تھے۔

اس حدیث میں جو آدمی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے بات اور سوال کررہا ہے آپ جانتے ہیں کہ یہ شخص کون ہے؟ وہ تھا عبدالرحمن بن عبد رب کعب جو سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیاسی حریف ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حامی ہے یعنی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مخالف ہے اور کھل کر تنقید بھی کررہا ہے، یہ مخالف آدمی ہے، اگر کسی کو قتل کروانا تھا تو کیا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے حامیوں کو حکم دیتے یا پھر اپنے مخالف کو؟

ان کی عقل کو سلام۔۔۔

یہ شخص سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے سیاسی نظریے کو نہیں مانتا اور سارے سلف بھی یہی کہتے ہیں، مثال کے طور پر شرح نووی میں امام نووی رحمہ اللہ نے یہی بات کی ہے کہ جو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حق پر سمجھتے تھے وہ یہ بات سمجھتے تھے کہ جو لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جنگ میں لوگ قتل ہورہے ہیں وہ ناحق قتل ہورہے ہیں، جو مال خرچ ہورہا ہے وہ ناحق ہورہا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں حق پر نہیں سمجھتے تھے۔ اور ہمارے اکابر علمائے دیوبند کا یہی عقیدہ ہے کہ حق حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب تھا اور مسند احمد کی حدیث ہمارے اکابرین کئی بار بیان کرچکے ہیں کہ جس میں ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما نے تو دورانِ جنگ ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن آپ کے ساتھ مل کر لڑائی نہیں کررہا، آپ لوگ غلطی پر ہو کیونکہ عمار رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی۔ چونکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت جنگ صفین میں ہوٸ۔ لہذا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ غلطی پر ہیں، باغی کا مطلب یہ ہے کہ وہ اجتہادی غلطی پر ہونگے۔ یعنی اجتہادی خطإ پر ہیں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ۔

اس لیے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے اس مخالف ذہن والے کو حکمت کے ساتھ تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا اللہ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ کی نافرمانی میں ان کی نافرمانی کرو۔

اب اس میں مرزا انجنیئر اور رافضی گروہ یہ اعتراض کرتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نعوذوباللہ ناجائز مال کھانے کا حکم دیتے تھے اور ناجائز قتل کرتے تھے۔ تو اس روایت میں یہ اعتراض بنتا ہی نہیں ہے۔ کیونکہ جب ایک شخص مخالف ذہنیت کا اعتراض کرتا ہے تو وہ ظاہر ہے پہلے سے ہی مخالفت میں ہوتا ہے۔ اس وقت وہ اپنے مخالف پر اعتراض ہی کرے گا۔ تو یہ اعتراض باطل ہوا۔ کیونکہ مخالف کا اعتراض ایک رخ کو مدنظر رکھتے ہوئے  قابل استدلال نہیں بن سکتا۔

اللہ تعالٰی ہمیں شرور و فتن سے محفوظ فرماۓ۔

اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے لئے  ہمارے دلوں میں سچی اور پکی محبت راسخ فرماۓ۔ آمین یارب العالمین۔


صفحہ 2 از 4