کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور…

کیا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرواتے تھے اور ناجائز مال کھانے کا حکم دیا کرتے تھے؟ (صحیح مسلم، مسند احمد)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

صفحہ 3 از 4

  علامہ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ نے جو اعتراض کیا اس کا پس منظر یہ تھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پہ مسلمانوں نے بیعت کر لی، بیعت کے بعد خلیفہ کی اطاعت کرنےکا حکم ہے اور اس کی نافرمانی سے رکنے کاحکم ہےتو معاویہ جو اپنے لشکروں پر مال خرچ کررہے ہیں اور جو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی میں مارے جارہے ہیں یہ تو گویا ناحق ہے تو اس تناظر میں عبد الرحمن بن عبد رب کعبہ نے یہ بات کی تھی کہ یہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت ہے جو درست نہیں ہے،حق نہیں ہے ناحق ہے،یہ ان کا ایک موقف تھا۔

اہل سنت کا بھی یہی مؤقف ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ مسلمانوں کی آپسی لڑائیوں اور جنگوں میں اولی بالحق ہیں، لیکن یہ کہنا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بلکل حق پر تھے اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بلکل ہی باطل پر تھے۔


عبدالرحمن بن عبد رب الکعبہ سے روایت ہے میں مسجد میں گیا وہاں عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے تھے اور لوگ ان کے پاس جمع تھے میں بھی گیا اور بیٹھا ۔  انہوں نے کہا ہم رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ایک سفر میں تو ایک جگہ اترے ،  کوئی اپنا ڈیرہ درست کرنے لگا ،  کوئی تیر مارنے لگا ،  کوئی اپنے جانوروں میں تھا کہ اتنے میں رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پکارنے والے نے آواز دی نماز کے لیے اکٹھا ہوجاؤ ۔  ہم سب آپ کے پاس جمع ہوئے ۔  اپ نے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس پر ضروری نہ ہو اپنی امت کو جو بہتر بات اس کو معلوم ہو بتانا اور جو بری بات ہو اس سے ڈرانا اور تمہاری یہ امت اس کے پہلے حصہ میں سلامتی ہے اور اخیر حصے میں بلا ہے اور وہ باتیں ہیں جو تم کو بری لگیں گی اور ایسے فتنے آویں گے کہ ایک فتنہ دوسرے کو ہلکا اور پتلا کردے گا  ( یعنی بعد کا فتنہ پہلے سے ایسا بڑھ کر ہوگا کہ پہلا فتنہ اس کے سامنے کچھ حقیقت نہ رکھے گا )  او رایک فتنہ آوے گا تو مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے پھر وہ جاتا رہے گا اور دوسرا آوے گا مومن کہے گا اس میں میری تباہی ہے ۔  پھر جو کوئی چاہے کہ جہنم سے بچے او رجنت میں جاوے اس کو چاہیے کہ مرے اﷲ تعالیٰ اور پچھلے دن پر یقین رکھ کر اور لوگوں سے وہ سلوک کرے جیسا وہ چاہتا ہو کہ لوگ اس سے کریں ۔  اور جو شخص کسی امام سے بیعت کرے اور اس کو اپنا ہاتھ دے دیوے اور دل سے نیت کرے اس کی تابعداری کی تو اس کی طاعت کرے اگر طاقت ہو ۔  اب اگر دوسرا امام اس سے لڑنے کو آوے تو  ( اس کو منع کرو اگر نہ مانے بغیر لڑائی کے تو )  اس کی گردن مارو ۔  یہ سن کر میں عبداﷲ کے پاس گیا اور ان سے کہا میں تم کو قسم دیتا ہوں اﷲ کی تم نے یہ رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے؟ انہوں نے اپنے کانوں اور دل کی طرف اشارہ کیا ہاتھ سے اور کہا میرے کانوں نے سنا اور دل نے یاد رکھا ۔  میں نے کہا تمہارے چچا کے بیٹے معاویہؓ ہم کو حکم کرتے ہیں ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے کے لیے اوراپنی جانوں کو تباہ کرنے کے لیے اور اﷲتعالیٰ فرماتا ہے ”اے ایمان والو اپنے اموال کو ناجائز طریقے سے نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ ایسی تجارت ہو جو باہمی رضا مندی سے کی جائے اور نہ اپنی جانوں کو قتل کرو بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے۔“  یہ سن کر عبداﷲ بن عمرو بن العاصؓ تھوڑی دیر تک چپ رہے پھر کہا معاویہؓ کی اطاعت کرو اس کام میں جو اﷲ کے حکم کے موافق ہو اور جو کام اﷲ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو اس میں معاویہؓ کا کہنا نہ مانو ۔

یہ اس سائل کا دعوی ہے، حالانکہ حضرت معاویہ نے خلافت کا دعوی نہیں کیا تھا بلکہ قاتلین عثمان کو اپنے حوالہ کرنے کی استدعا کی تھی اور قاتلین عثمان کی سازشوں کے نتیجہ میں اپنا دفاع کرنے کے لیے جنگ لڑنی پڑی تھی، اس لیے وہ اپنے اجتہاد اور اپنی راۓ کی روشنی میں اس لڑائی کو صحیح سمجھتے تھے اور اس کے لیے مال خرچ کرنا نا جائز طریقہ سے مال کھانا قرار نہیں دیا جا سکتا ، حضرت علی  نے ایک خط لکھوا کر ، ملک کے اکناف و اطراف میں نشر کر دیا تھا، جس میں لکھا، ہمارا اور اہل شام کا مقابلہ ہوا اور کھلی حقیقت ہے، ہمارا رب ایک ہے، ہمارا نبی ایک ہے، اسلام کے بارے میں ہماری وحدت یکساں ہے، اللہ تعالى کے ساتھ ایمان لانے اور اس کے رسول ﷺ کی تصدیق کرنے میں ، ہم ان سے بڑھ کر نہیں ہیں اور نہ وہ ہم پر اس میں فائق ہیں ، ہمارا معاملہ یکساں ہے، مگر خون عثمان میں ہمارا اور ان کا اختلاف ہو گیا ہے اور ہم اس سے بری الذمہ ہیں ۔

( نہج البلاغۃ ج۲، ص۱۱۴۔ مع حواشی امام عبده، بحوالہ رحماء بینھم ج ۴ص۱۸۳۔ یہی بات درة نجفیه شرح نہج البلاغۃ ص۳۴۴ میں موجود ہے )

مثال کے طور پر شرح نووی میں امام نووی رحمہ اللہ نے یہی بات کی ہے جو ہم نے بیان کی ہے کہ جو لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گروہ سے تھے  وہ سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی آپسی لڑائی میں جو قتل ہورہے ہیں وہ ناحق قتل ہورہے ہیں اور جو مال خرچ ہو رہا ہے وہ ناحق خرچ ہو رہا ہے،  اس کی ذمہ داری حضرت امیر معاویہؓ  پر ہے اور آج بھی رافضیوں کا یہی نظریہ ہے۔

 سیدنا عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنھما بھی ان لوگوں میں شامل تھے جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں حق پر نہیں سمجھتے تھے اور مسند احمد کی کچھ احادیث کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنھما نے تو دورانِ جنگ ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہہ دیا تھا کہ میں آپ کے ساتھ تو ہوں لیکن آپ کےساتھ مل کر لڑائی نہیں کر رہا،آپ لوگ غلطی پر ہو کیونکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے کہ عمار رضی اللہ عنہ کو ایک باغی جماعت قتل کرے گی چونکہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی شہادت بظاہر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے گروہ کے ہاتھوں ہوئی لہذا آپ غلطی پر ہیں،حالانکہ قاتلین عمار وہی باغی گروہ تھا جو قتل عثمان غنیؓ میں ملوث تھا اور مسلمانوں کی آپسی جنگیں بھی اسی باغی گروہ کی سازشوں کا نتیجہ تھیں۔

صفحہ 3 از 4