حدیث اصحابی کالنجوم کی تحقیق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حدیث اصحابی کالنجوم کی تحقیق

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 1 از 3

حدیث اصحابی کالنجوم کی تحقیق

اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم

میرے صحابہ ستاروں جیسے ہیں تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پالو گے۔ (شیعہ کتاب تحقیقی دستاویز: صفحہ، 116) پھر اس پر ابن تیمیہؒ سے ابو حیان سے ابن حزم سے ابنِ قیمؒ سے محب اللہ بہاری اور جسٹس ملک غلام علی سے تنقید تضعیف اور غیر تصحیح نقل کی ہے۔

الجواب: چند باتوں پر غور فرمائیں۔

  1.  گو اس کے متعدد راویوں، سندوں پر ماہرین نے گرفت کی ہے اور شیخینؓ کی اتباع والی صحیح حدیث اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر و عمر کے مقابل جان کر اس کی تضعیف کی ہے، حالانکہ عام و خاص میں تغایر تضاد اور مخالفت نہیں ہوتی کہ ایک کو مانیں تو دوسری کو رد کرنا پڑے۔
  2. شیخینؓ کی اتباع خاص ہے کہ میرے بعد بحیثیت خلیفہ و حکمران ان کو مان کر ان کی اتباع کرنی ہوگی، فرمانِ رسولﷺ پر عمل کر کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کی اتباع اور اقتداء میں قیصر و کسریٰ کی بین الاقوامی طاقتیں مٹا دیں اور نصف معلوم دنیا تک کلمۂ اسلام کا جھنڈا لہرایا مگر حدیث بایھم اقتدیتم اھتدیتم عام ہے کہ ان سے دین کی ہر بات پوچھو، سیکھو پھر اتباع کرو، ہدایت تمہارے قدم چومے گی۔ کیونکہ وہ سب عادل، صادق، راست رو اور دیندار ہیں۔
  3.  ان کی اقتداء ایسی ہے جیسے مہاجرین و انصار کے ذکر خیر میں ان کے تابعداروں کو بھی اللہ نے سند رضا و جنت دے دی۔

وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ (سورۃ التوبہ: آیت، 100)

ترجمہ: اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہو گیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

اس آیت سے علامہ ابنِ حزم ظاہری (غیر مقلد) کا قول غلط ہوا کہ ہر صحابی کی اقتداء جائز نہیں، کیا مہاجرین و انصار کے معرف بلام صیغے ہر ایک کو اور ھُمْ مفعول بہ کا صیغہ سب کو شامل نہیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 

وَمَنۡ يُّشَاقِقِ الرَّسُوۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَيَّنَ لَـهُ الۡهُدٰى وَ يَـتَّبِعۡ غَيۡرَ سَبِيۡلِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصۡلِهٖ جَهَـنَّمَ‌ وَسَآءَتۡ مَصِيۡرًا (سورۃ النساء: آیت، 115)

ترجمہ: اور جو شخص اپنے سامنے ہدایت واضح ہونے کے بعد بھی رسول کی مخالفت کرے، اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرے، اس کو ہم اسی راہ کے حوالے کر دیں گے جو اس نے خود اپنائی ہے، اور اسے دوزخ میں جھونکیں گے، اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ 

اس آیت سے اجماع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اجماعِ امت کی حقانیت جیسے واضح ہے عام صحابہؓ مؤمنین کی انفرادی اتباع بھی ثابت ہے، جیسے عرف میں اس پر اعتماد کر کے اس کی نیک کام میں اتباع و تقلید کرنا ہے گناہ یا غلطی میں کوئی کسی کی تقلید نہیں کرتا۔

4. قرآن مجید کے علاوہ حدیث شریف بھی عموماً ظاہر کرتی ہے، حجۃ الوداع کے سوا لاکھ مجمع میں جو آپﷺ فرما رہے ہیں: الا لیبلغ الشاھد الغائب فرب مبلغ اوعی می سامع (الحدیث)

ترجمہ: سنو! جو تم میں موجود ہیں وہ غیر موجود تک یہ میرے احکام پہنچا دیں کیونکہ بسا اوقات وہ غائب اس سننے والے سے ان کو زیادہ یاد رکھے گا (کہ اس کا دماغ اور قوت حافظہ زیادہ ہو سکتا ہے، گو درجہ میں مجھے دیکھنے والا اور براہِ راست سننے والا صحابی زیادہ شان رکھتا ہے)

اس صحیح حدیث سے جب سب سے پہلے اور سب سے آخر میں ایک ہی دفعہ حجۃ الوداع میں مسلم صحابی کو تبلیغِ دین کی یہ سند اور ڈگری مل رہی ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کو یہ احکام پہنچائے اور وہ ثقہ عادل معتبر واجب الاطاعت ہے کہ ان سے غیر صحابی سننے والا یہ تو نہیں کہ سکتا "میں تم کو معتبر نہیں مانتا تم جھوٹ بولتے ہو میں تو دین مدینہ جا کر صرف اکابر صحابہ خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یا اہل بیتؓ ہی سے سیکھوں گا" کیونکہ اس سے دین کی تبلیغ و اشاعت بہت محدود ہو جائے گی، نہ اھل بیت و اکابر صحابہ کرامؓ ہر شہر و گاؤں پہنچ سکیں گے نہ ہر آدمی ان تک پہنچ سکے گا تو روایت کے علاوہ عقل و درایت سے بھی ہر بڑے چھوٹے خوش قسمت زائر صحابی کا عادل ہونا دین کی معلوم بات دوسرے تک پہنچانا اور عمل کر کے دکھانا ضروری ہے۔

5. تو بالفرض تعدد طرق اسناد کی وجہ سے اس حسن لغیرہ حدیث "جس کی تابعداری کرو گے ہدایت پاؤ گے" کو اگر کوئی صحیح نہ مانے تو اس کی مؤید صحیح احادیث کو مان کر معنوی لحاظ سے تو اس حدیث کو سچا جاننا ضروری ہوا

نجوم ہدایت کی مؤید احادیث:

6. چند مؤید احادیث یہ ہیں، پوری تفصیل کے لیے عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ملاحظہ فرمائیں۔

1. آپﷺ کا ارشاد ہے! ستارے آسمان کے امان کا سبب ہیں، جب ستارے ختم ہو جائیں گے تو وعدہ موعود (قیامت) آسمان کو بھی آ پہنچے گا، میں اپنے اصحاب کے لیے امن و سلامتی کا سبب ہوں جب میں رخصت ہو جاؤں گا تو میرے صحابہ کو بھی وعدہ موعود (اختلافات و فتن) آ پہنچے گا اور میرے صحابہ میری امت کے لیے امان ہیں، جب یہ رخصت ہو جائیں گے تو میری امت کو ان سے وعدہ موعود آ پہنچے گا۔ (یعنی گمراہی و تفرقہ بازی)  (مسلم: جلد، 2 صفحہ، 308 واللفظ لہ، جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 492، مجمع الزوائد: جلد، 10 صفحہ، 17 قال الہیثمی رواہ الطبرانی فی الاواسط و اسنادہ جید (بحوالہ عدالت صحابہ کرامؓ: صفحہ، 126)

باعثِ برکت امن و ہدایت ستاروں اور صحابہ کرام کا ذکر آمنے سامنے آپﷺ نے کر دیا۔ 

صفحہ 1 از 3