حدیث اصحابی کالنجوم کی تحقیق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

حدیث اصحابی کالنجوم کی تحقیق

  مولانا مہرمحمد میانوالی

صفحہ 2 از 3

2. فرمانِ نبویﷺ ہے! میرا کوئی بھی صحابی کسی زمین میں فوت ہو وہ قیامت کے دن اس سر زمین کے لوگوں کے لیے قائد اور نور بن کر اٹھے گا (رواہ الترمذی وقال حدیث حسن) اب اگر علاقہ والوں کے لیے وہ صحابی حجت نہیں ان کو اسکی تقلید میں ہدایت پانا ضروری نہیں یا یہ غیر عادل ہے اور ثقہ نہیں ہے تو پھر اس کا ان کا قائد اور نور ہدایت کیسے مانا جائے گا، حدیث نبویﷺ غلط ہوئی معاذ اللہ۔

3. حضرت انس رضی اللہ عنہ مرفوعاً فرماتے ہیں! میری امت میں صحابہ کرام کی مثال کھانے میں نمک جیسی ہے، نمک کے بغیر کھانا درست نہیں ہوتا حسن بصری رحمۃ اللہ کہتے ہیں ہمارا نمک جاتا رہا تو ہم کیسے درست ہوں گے (رواہ ابو یعلیٰ: مشکوٰۃ صفحہ، 554)

4. سب لوگوں سے بہتر میرے زمانے کے لوگ ہیں (صحابہ) پھر جو ان کے بعد ہوں گے (تابعی) پھر جو ان کے بعد ہوں گے (تبع تابعی) پھر ایسے لوگ آئیں گے جن کی قسمیں گواہی سے پہلے ہوں گی(جھوٹی گواہی دیں گے) ان میں موٹاپا (یعنی عیش و عشرت) آ جائے گا۔ (مشکوٰۃ: صفحہ، 55 اور 554)

5. لوگو! میرے صحابہ کی عزت کرنا وہ تم سے بہتر ہیں پھر ان کے بعد کے لوگ پھر ان کے بعد کے لوگ اچھے ہیں یہ سب احادیث بتا رہی ہیں کہ ہم جیسوں کو صحابہ کرامؓ کی عزت کرنا، ان کی اتباع کرنا اور اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے اسی کا دوسرا نام اقتداء اور اھتداء ہے جو ان پر اعتماد پھر ان کی تقلید سے حاصل ہو گی۔

6. قدیم الاسلام فقیہ صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں لوگو! جو سنت پر چلنا چاہے تو وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نقشِ قدم پر چلے جو فوت ہو گئے، زندہ پر تو آزمائش کا خطرہ رہتا ہے اور وہ اصحابِ محمدﷺ ہیں۔

  1.  وہ اس امت کے سب سے افضل لوگ تھے۔
  2. ان کے دل بہت پاک اور نیک تھے۔
  3.  علم ان کا بہت گہرا تھا۔
  4. بناوٹ و تکلف ان میں بہت کم تھا۔
  5. اللہ نے انکو اپنے نبیﷺ کی صحابیت اور دین قائم کرنے کے لیے چن لیا تھا تو تم ان کی فضیلت پہچانو، ان کے پیچھے چلو حتیٰ الامکان ان کے اخلاق اور ان کی عادات پر جمے رہو کیونکہ وہی سیدھی راہِ ہدایت پر تھے۔ (رواہ رزین مشکوٰة: صفحہ، 32)

صحابہ کرامؓ نجوم ہدایت ہیں:متعدد سندوں سے یہ حدیث مروی ہے:

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ہے کہ میں نے اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اپنے رب سے پوچھا تو اللہ نے مجھے وحی (خفی) کی کہ تیرے صحابہ میرے ہاں آسمان کے ستاروں جیسے ہیں، روشنی میں اگرچہ کچھ دوسروں سے زیادہ ہیں مگر نورِ ہدایت ہر ایک میں ہے تو ان سے جو بھی دین کی بات حاصل کرے گا وہ میرے ہاں ہدایت پر ہو گا(رواہ رزین بحوالہ مشکٰوة: صفحہ، 554) 

اور یہاں مشکوٰة میں یہ لفظ زائد ہیں کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تو تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے، خطیب بغدادی نے اپنی سند سے کفایہ صفحہ 46 پر اسے روایت کیا ہے:

محدث سنجری نے ابانہ میں ابن عساکرؒ ،بیہقیؒ اور ابنِ عدی نے ریاض النضرۃ: جلد، 1 صفحہ، 9 میں محبّ طبری نے بھی روایت کیا ہے(حاشیہ جمع الفوائد: جلد، 2 صفحہ، 492، نیز مسامرہ: صفحہ، 314 پر ہے کہ اسے دارمی ابنِ عدی وغیرہ نے روایت کیا ہے) 

الحاصل: اس کی متعدد اسناد ہیں جو جامع بیان العلم و فضلہ میں اور مجمع الزوائد وغیرہ میں مذکور ہیں۔ بعض میں اگرچہ کچھ کلام ہے مگر تعدد طرق کی وجہ سے یہ حسن لغیرہ ہے، معنوی لحاظ سے اس کی صحت مسلم ہے، چونکہ شیعوں کو تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس واسطے کا بغض ہے، کہ وہ حضورﷺ سے دین کی بات کیوں نقل کرتے ہیں تو وہ اپنے بد عقیدہ فاسق و فاجر ذاکروں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے افضل ماخذ دین مانتے اور مذہب کے نام سے ہر بات میں انکی اتباع کرتے ہیں۔ مگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بد اعتمادی چلانے کے لیے راویوں کی بحث چھیڑ دیتے ہیں یہ نہیں جانتے کہ ماء کثیر دریا، نہر، ڈیم، بڑی بَن، اور تالاب میں جانور پانی پی کر پیشاب بھی کر دے تو وہ ناپاک نہیں ہوتا یہاں اتنا واضح رہے کہ جس مسئلہ میں خلفائے راشدینؓ کا اتفاق ہو یا فقہاء صحابہؓ کا اجماعی مسئلہ ہو تو اس کے خلاف یا کسی صحابی سے غلطی یا گناہ ہو گیا ہو یا اسے کسی بات کا منسوخ ہونا معلوم نہ ہو یا وہ اپنی بات سے رجوع کر لے تو اس میں اس کی اتباع و تقلید نہ ہو گی مگر اس بہانہ سے ان کی عدالت، ثقاہت اور عام اتباع ختم نہ ہو گی۔

اصحابی کالنجوم شیعہ کے ہاں بھی مسلم ہیں:

یہ شیعہ کی کتب معتبرہ میں ہے چنانچہ ابو علی حسن بن احمد حاکم کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن یحییٰ صوفی نے ان سے محمد بن موسیٰ نصر رازی نے اور ان سے ان کے والد نے روایت کی ہے فرماتے ہیں:

 یسئل الرضا علیہ السلام عن قول النبیﷺ اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم وعن قولہ دعولی اصحابی فقال صحیح عیون اخبار الرضا

ترجمہ: سیدنا رضا سے حضورﷺ کے اس فرمان کے متعلق پوچھا گیا کہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں، تم جس کی بھی پیروی کرو گے ہدایت پا لو گے اور اس فرمان کے بارے میں کہ میرے صحابہ کو میرے لیے (برا کہنا) چھوڑ دو تو فرمایا یہ دو حدیثیں صحیح ہیں۔

اس کی تائید میں ایک اور روایت بھی ہے جسے ملا علی آملی نے جامع الاستفسار میں لکھا ہے:

قال النبیﷺ انا کالشمس وعلی کالقمر واصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم (بحوالہ آیات بینات و عدالت صحابہؓ) 

آپﷺ نے فرمایا میں سورج جیسا ہوں علی چاند جیسے ہیں (تو علی کو حضورﷺ کے برابر یا افضل ماننا غلط ہوا) اور میرے صحابہ کرام ستاروں جیسے ہیں تم جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاؤ گے اس تفصیل سے ان سب حوالوں کا جواب ہو گیا جو روایت کو کمزور بتانے کے لیے لکھے ہیں۔ 

اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر و عمر صحیح حدیث ہے:

یہ ترمذی صفحہ 526 پر تین سندوں سے ہے راویوں کی توثیق یہ ہے

پہلی حدیث: 

صفحہ 2 از 3