سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 5

سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ قبولیت اسلام

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا ستائیسواں سال تھا کہ عرب میں آفتاب رسالت طلوع ہوا۔ یعنی رسول اللهﷺ مبعوث ہوئے اور اسلام کی صدا بلند ہوئی حضرت عمرؓ کے گھرانے میں زید کی وجہ سے توحید کی آواز بالکل نامانوس نہیں رہی تھی۔
چنانچہ سب سے پہلے زید کے بیٹے سعید رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ سعید کا نکاح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن فاطمہؓ سے ہوا تھا۔ اس تعلق سے فاطمہؓ بھی مسلمان ہو گئیں۔ اسی خاندان میں ایک اور معزز شخص نعیم بن عبد الله رضی اللہ عنہ نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ ابھی تک اسلام سے بیگانہ تھے۔ ان کے کانوں میں جب یہ صدا پہنچی تو سخت برہم ہوئے۔ یہاں تک کہ قبیلے میں جو لوگ اسلام لا چکے تھے ان کے دشمن بن گئے۔
لبینہ ان کے خاندان میں ایک کنیز تھی جس نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کو بے تحاشہ مارتے اور مارتے مارتے تھک جاتے تو کہتے ذرا دم لے لوں تو پھر ماروں گا۔ لبینہ کے سوا اور جس جس پر قابو چلتا تھا زد و کوب سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ لیکن اسلام کا نشہ ایسا تھا کہ جس کو چڑھ جاتا تھا اترتا نہ تھا۔ ان تمام سختیوں پر ایک شخص کو بھی وہ اسلام سے بد دل نہ کر سکے۔
نبی کریمﷺ نے مکہ مکرمہ میں دو لوگوں (عمر بن خطاب اور ابو جہل) کو نامزد کیا اور فیصلہ خدائے علام الغیوب پر چھوڑ دیا کہ اللہ! ان دونوں میں سے جو تجھے پسند ہو وہ دے دے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے پیغمبرِ اسلامﷺ کی دعا کو شرفِ قبولیت سے نوازا اور اسباب کی دنیا میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کا سبب یہ بنا کہ ایک روز تیغِ برہنہ لیے جارہے تھے، راستہ میں بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ملا، جس نے پوچھا کہ عمر! خیریت! کہاں کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے محمدﷺ کو قتل کرنے جارہا ہوں، اس نے نئے دین کااعلان کرکے مکہ والوں میں تفریق کر دی ہے، کیوں نہ اس قصہ کو ہی ختم کر دوں۔ بنو زہرہ سے تعلق رکھنے والے شخص نے کہا کہ عمر! اگر تم نے ایسا کیا تو کیا بنو ہاشم وبنو زہرہ تم سے انتقام نہیں لیں گے؟ کہنے لگے لگتا ہے کہ تم بھی اس نئے دین میں شامل ہو چکے ہو، انہوں نے کہا کہ پھر پہلے اپنے گھر کی خبر تو لو، تمہاری بہن و بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔
جلال میں نکلنے والا عمر سیدھا بہن کے گھر پہنچتا ہے، یہاں سیدنا خباب بن الارت رضی اللہ عنہ ان کے بہنوئی و بہن کو سورہۃ طہٰ پڑھا رہے تھے، باہر سے آواز سنی اور دروازہ پر دستک دی، اندر سے پوچھا گیا کون؟ عمر! نام سنتے ہی سیدنا خبابؓ چھپ گئے، عمر نے آتے ہی پوچھا تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے بات ٹالتے ہوئے کہا کہ ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے، کہنے لگے میں نے سنا ہے تم نئے دین میں شامل ہو گئے ہو؟ بہنوئی نے کہا کہ عمر! وہ دین تیرے دین سے بہتر ہے، تو جس دین پر ہے یہ گمراہ راستہ ہے، بس سننا تھا کہ بہنوئی کو دے مارا زمین پر، بہن چھڑانے آئی تو اتنی زور سے اس کے چہرے پر طمانچہ رسید کیا کہ ان کے چہرے سے خون نکل آیا، بہن کے چہرے پہ خون دیکھ کر غصہ ٹھنڈا ہوا اور بہنوئی کو چھوڑ کر الگ ہو بیٹھے اور کہنے لگے کہ اچھا! لاؤ، دکھاؤ، تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟ بہن نے کہا کہ تم ابھی اس کلام کے آداب سے ناواقف ہو، اس کلامِ مقدس کے آداب ہیں، پہلے تم وضو کرو، پھر دکھاؤں گی، انہوں نے وضو کیا اور سورۃ طہٰ پڑھنی شروع کی، یہ پڑھتے جارہے تھے اور کلامِ الہٰی کی تاثیر قلب کو متاثر کیے جارہی تھی۔ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ یہ منظر دیکھ کر باہر نکل آئے اور کہنے لگے عمرؓ! کل رات نبی کریمﷺ نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کی تھی کہ اللّٰھمّ أعزّ الإسلام بأحد الرجلین إمّا ابن ھشام وإمّا عمر بن الخطاب اور ایک دوسری روایت میں الفاظ کچھ اس طرح سے ہیں کہ اللّٰھم أید الإسلام بأبي الحکم بن ھشام وبعمر بن الخطاب۔ اے اللہ! عمر وبن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے کسی کو اسلام کی عزت کا ذریعہ بنا، یا ان میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کی تائید فرما۔ اے عمر! میرے دل نے گواہی دی تھی کہ یہ دعائے پیغمبرﷺ عمر بن خطاب کے حق میں پوری ہو گئی۔ اسی طرح کی ایک روایت سیدنا سعید بن مسیبؒ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ کان رسول اللہﷺ إذا رأی عمر بن الخطاب أو أبا جھل بن ھشام قال اللّٰھم اشدد دینک بأحبّہما إلیک یعنی جب کبھی رسول اللہﷺ عمر بن خطابؓ یا ابوجہل کو دیکھتے تو رب العزت کے حضور دستِ دعا دراز کرتے ہوئے فرماتے اے اللہ! ان دونوں میں سے جو تیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، اس سے اپنے دین کو قوت عطا فرما۔ (طبقات ابن سعد)
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اچھا! تو مجھے بتاؤ محمدﷺ کہاں ہیں؟ میں ان سے ملنا چاہتا ہوں، انہوں نے بتایا کہ صفا پہاڑی پر واقع ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان میں قیام پذیر ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ چل پڑے، دَرّے پر مقیم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے جب دیکھا کہ عمر آرہا ہے اور ہاتھ میں ننگی تلوار ہے، تو گھبرائے ہوئے آنحضرتﷺ کو بتایا، وہیں اسداللہ ورسولہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ فرمانے لگے آنے دو، اگر ارادہ نیک ہے تو خیر ہے اور اگر ارادہ صحیح نہیں تو میں اس کی تلوار سے اس کا کام تمام کر دوں گا۔
صفحہ 1 از 5