سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 5
جب سیدنا عمرؓ وہاں پہنچے تو پیغمبر اسلامﷺ پر نزولِ وحی جاری تھا، چند لمحوں بعد آپﷺ نے عمرؓ سے فرمایا اے عمر! تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تم اسلام قبول کرو؟ بس یہ سننا تھا کہ فوراً کلمۂ شہادت پڑھتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ اصحابِ رسولﷺ نے حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کی خوشی میں اس زور سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ صحنِ کعبہ میں بیٹھے ہوئے کفار و مشرکین نے بھی سنا اور اس نعرے کی آواز سے وادیِ مکہ گونج اُٹھی۔ پھر نبی رؤوف و رحیمﷺ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سینہ مبارک پر دستِ اقدس رکھا اور دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ اخْرُجْ مَافِيْ صَدْرِہٖ مِنْ غِلٍّ وَأَیِّدْ لَہٗ إِیْمَانًا۔یا اللہ! اس کے سینے میں جو کچھ میل کچیل ہو وہ دور کر دے اور اس کے بدلے ایمان سے اس کا سینہ بھر دے۔
(مستدرک للحاکم)
قبولِ اسلام کے وقت بعض مؤرخین کے نزدیک آپ کی عمر تیس سال تھی اور بعض کہتے ہیں کہ عمر چھبیس سال تھی۔ مصر کے ایک بہت بڑے عالم مفسرِ قرآن جناب علامہ طنطناویؒ نے عجیب جملہ کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ عمرؓ اسی گھڑی پیدا ہوئے اور یہیں سے ان کی تاریخی زندگی کا آغاز ہوا۔
مفسرِ قرآن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں قال رسول اللہﷺ لما أسلم أتاني جبرائیل، فقال استبشر أھل السماء بإسلام عمرؓ
 یعنی حضور سرورِکائناتﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا کہ آسمان والے عمر ؓ کے قبولِ اسلام پر خوشیاں منا رہے ہیں۔
(مستدرک للحاکم و طبقات ابن سعد)
چند ہی لمحوں بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے نبی! کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ آپﷺ نے اثبات میں جواب دیا، تو فرمانے لگے کہ پھر چھپ کر عبادت کیوں کریں؟ چلیے خانہ کعبہ میں چل کر عبادت کرتے ہیں، میں قربان جاؤں اپنے آقا و مولاﷺ پر کہ انہوں نے ایسے ہی عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں مانگا تھا، بلکہ دوررس نگاہِ نبوت دیکھ رہی تھی کہ اسلام کو عزت و شوکت عمرؓ کے آنے سے ہی نصیب ہو گی۔
حضور اکرمﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دو صفوں میں تقسیم کیا ایک صف کے آگے اسد اللہ و رسولہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ چل رہے تھے اور دوسری صف کے آگے مرادِ رسولؐ، پیغمبرِ اسلامﷺ کے لیے عطائے خداوندی یعنی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ چل رہے تھے۔ مسلمان جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو کفارِ مکہ نے دیکھا، نظر پڑی حمزہ رضی اللہ عنہ پر اور عمر رضی اللہ عنہ پر تو بڑے غمگین ہوئے، لیکن کس میں جرأت تھی کہ کوئی بولتا؟ اس دن سے مسلمانوں کے لیے تبلیغِ دین میں آسانی پیدا ہوئی اور یہی وہ دن تھا جب اللہ کے نبی پاکﷺ نے فرمایا تھا کہ ان اللہ جعل الحق علٰی لسان عمرؓ وقلبہ وھو الفاروق فرّق اللہ بہٖ بین الحق والباطل۔اللہ تعالیٰ نے سچ کو عمرؓ کے قلب ولسان پر جاری کر دیا اور وہ فاروق ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ حق و باطل میں فرق کردیا ہے۔
(طبقات ابن سعد)
جناب سیدنا عبداللہؓ فرماتے ہیں کہ واللہ ما استطعنا أن نصلّي عندالکعبۃ ظاھرین حتٰی أسلم عمرؓ اللہ کی قسم! ہم کعبہ کے پاس کھلے بندوق نماز نہیں پڑھ سکتے تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ (مستدرک للحاکم)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا واقعہ سنہ نبوی کے چھٹے سال میں واقع ہوا۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی ہیں اور انہوں نے وہ کام کیے ہیں کہ غیر مسلم آج بھی ان کی تعریف کرتے ہیں. اور جو اصلاحات انہوں نے نافذ کی تھیں آج غیر مسلموں نے وہ اصلاحات اپنے ملکوں میں نافذ کر کے وہ ترقی کی ہے کہ ہم مسلمان آج ان کی بنائی ہوئی ہر چیز استعمال کرتے ہیں. ہم لوگوں میں بس اختلافات رہ گۓ باقی اچھائی والے ترقی والے کام دوسروں نے اپنا لیے ہیں. کیا اچھا ہو کہ ہم اپنے اعمال کو ان بزرگ ہستیوں کے مطابق ڈھال لیں اور کامیابی کی طرف چل پڑیں۔
نام و نسب:
سلسلہ نسب یہ ہے کہ عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزی بن رباح بن عبد اللہ بن قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک۔
اہلِ عرب عموماً عدنان یا قحطان کی اولاد ہیں۔ عدنان کا سلسلہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ عدنان کے نیچے گیارہویں پشت میں فہر بن مالک بڑے صاحبِ اقدار تھے۔ ان ہی کی اولاد ہے جو قریش کے لقب سے مشہور ہے۔ قریش کی نسل میں دس شخصوں نے اپنے زور لیاقت سے بڑا امتیاز حاصل کیا، اور ان کے ِانتساب سے دس جدا نامور قبیلے بن گئے۔ یعنی ہاشم، امیہ، نوفل، عبد الدار، اسد، تیم، مخزوم، عدی، جمح، سمح، سیدنا عمرؓ عدی کی اولاد سے ہیں۔ عدی کے دوسرے بھائی مرۃ تھے۔ جو رسولﷺ اللہ کے اجداد سے ہیں۔
اس لحاظ سے سیدنا عمرؓ کا سلسلہ نسب رسولﷺ سے آٹھویں پشت میں جا کر مل جاتا ہے۔
قریش چونکہ خانہ کعبہ کے مجاور بھی تھے۔ اس لیے دنیاوی جاہ و جلال کے ساتھ مذہبی عظمت بھی ان پر سایہ فگن تھا۔ تعلقات کی وسعت اور کام کے پھیلاؤ سے ان لوگوں کے کاروبار کے مختلف صیغے پیدا ہو گئے تھے۔ اور ہر صیغے کا اہتمام جدا تھا۔ مثلاً خانہ کعبہ کی نگرانی، حجاج کی خبر گیری، سفارت، شیوخ قبائل کا انتخاب، فصل مقدمات، مجلس شورا وغیرہ وغیرہ، (عدی جو سیدنا عمرؓ کے جد اعلیٰ تھے) ان صیغوں میں سفارت کے صیغے کے افسر تھے۔ یعنی قریش کو کسی قبیلے کے ساتھ کوئی معاملہ پیش آتا تو یہ سفیر بن کر جایا کرتے۔ (یہ تمام تفصیل عقد الفرید باب فضائل عرب میں ہے )۔ اس کے ساتھ منافرہ کے معرکوں میں ثالث بھی ہوا کرتے تھے۔
عرب میں دستور تھا کہ برابر کے دو رئیسوں میں سے کسی کو افضلیت کا دعویٰ ہوتا تو ایک لائق اور پایہ شناس ثالث مقرر کیا جاتا۔ اور دونوں اس کے سامنے اپنی اپنی ترجیح کے دلائل بیان کرتے۔ کبھی کبھی ان جھگڑوں کو اس قدر طول ہوتا کہ مہینوں معرکے قائم رہتے۔ جو لوگ ان معرکوں میں حکم مقرر کئے جاتے ان میں معاملہ فہمی کے علاوہ فصاحت اور زور تقریر کا جوہر بھی درکار ہوتا، یہ دونوں منصب عدی کے خاندان میں نسلاً بعد نسل چلے آتے تھے۔
سیدنا عمرؓ کے جد امجد:
صفحہ 2 از 5