بدعتی کی عزت و اکرام کرنا
بدعتی کی عزت و اکرام کرنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: جو بدعتی شخص سے عقیدت و محبت رکھتا ہو، اور اس کا اعزاز و اکرام کرتا ہو، یہ بات جانتے ہوئے کہ وہ اپنے غلط عقیدے اور عمل میں متشدد ہے۔ کیا اس کے لئے ایسا کرنا جائز ہے؟
جواب: کسی بھی شخص کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ بدعتی لوگوں کا اعزاز و اکرام کرے، الا یہ کہ کوئی بہت ہی زیادہ ضرورت ہو۔ کیونکہ بدعتی کی عزت و توقیر کرنے پر وعید نازل ہوئی ہے، اور محبت و عقیدت یہ تو اس کے آگے درجہ ہے۔ لہٰذا کسی بھی حال میں بدعتی سے محبت و عقیدت رکھنا جائز نہیں ہو گا۔
:لما في المشكاة عن ابراهيم بن ميسرة قال قال رسول اللہﷺ من وقر صاحب بدعة فقد أعان على هدم الاسلام و في المرقاة تحت هذه الرواية (من وقر صاحب بدعة) سواء كان داعيا لها ام لا قال ابن حجر كان قام و صدره في مجلس او خدمه من غير عذر يلجنه الى ذلك:
(نجم الفتاویٰ:جلد:1:صفحہ:212)