امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ - ردِ رافضیت |…

امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ

  عبدالہادی عبدالخالق مدنی

صفحہ 1 از 6

مہدی علیہ السلام سے متعلق صحیح عقیدہ

مہدی علیہ السلام سے متعلق تمام مسلمانان اہل سنت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ قیامت سے پہلے آخری زمانہ میں ان شاء اللہ ضرور پیدا ہوں گے ، وہ ایک مسلمان عدل پرور و با انصاف خلیفہ ہوں گے، وہ سات سال تک حکومت کریں گے، وہ روئے زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے معمور کر دیں گے جیسا کہ اس سے قبل وہ ظلم وجور سے سسک رہی ہوگی ، انہی کے زمانہ میں عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور مہدی علیہ السلام ان کے ساتھ مل کر دجال سے جنگ کریں گے ۔ عیسی علیہ السلام مہدی کی اقتدا میں صلاۃ ادا کریں گے ۔

مذکورہ باتیں مہدی علیہ السلام کے عقیدہ سے متعلق خلاصہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے دلائل حسب ذیل احادیث میں موجود ہیں۔ واضح رہے کہ اس مضمون کی تیاری میں 

الأحاديث الواردة في المهدي في ميزان الجرح والتعدیل

نامی کتاب سے مدد لی گئی ہے ، جو دراصل ایک ایسی تحقیقی کتاب ہے جس کے ذریعے مؤلف شیخ عبدالعلیم عبد العظيم صاحب بستوی نے ام القری یونیورسٹی مکہ مکرمہ سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے ۔

ہم سب سے پہلے ان احادیث و آثار کو ذکر کریں گے جن میں مہدی کا ذکر صراحت کے ساتھ موجود ہے:

الأحاديث : -

1- عن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (المهدي منا أهل البيت يصلحه الله في ليلة). أخرجه ابن ماجه وأحمد وابن أبي شيبة وهو حسن لذاته .

(ترجمہ : علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہدی ہمارے اہل بیت میں سے ہو گا ، ایک رات میں اللہ اس کی اصلاح فرمائے گا)۔ یہ روایت ابن ماجہ ،احمد اور ابن ابی شیبہ کی ہے اور حسن لذاتہ ہے۔

2- وعن أبي سعيد رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (يخرج في آخر أمتي المهدي، يسقيه الله الغيث ، وتخرج الارض نباتها، ويعطي المال صحاحا، وتكثر الماشية، وتعظم الأمة، يعيش سبعا أو ثمانيا يعني حججا) أخرجه الحاكم وهو صحيح.

(ترجمہ : ابوسعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے آخر میں مہدی کا ظہور ہوگا، اللہ اسے باران رحمت سے خوب سیراب کرے گا، زمین اپنے پودے (پوری طرح) اگائے گی ، وہ مال کو لوگوں کے درمیان صحت کے ساتھ تقسیم کرے گا، مویشی کثیر تعداد میں ہو جائیں گے، امت عظیم ہو جائے گی، وہ سات یا آٹھ سال زندہ ر ہے گا)۔

اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے اور حدیث صحیح ہے۔

3- وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (المهدي مني، أجلى الجبهة، أقنى الانف، يملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا، ويملك سبع سنين). أخرجه أبو داود والحاكم وهو حسن لشواهده .

(ترجمہ : ابوسعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہدی میرے خاندان سے ہو گا، کشادہ پیشانی والا اور اونچی ناک والا، وہ زمین کو اسی طرح عدل وانصاف سے معمور کر دے گا جس طرح وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی ، وہ سات سال بادشاہ رہے گا )۔اسے امام ابو داود اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے۔

4- وعن أبي سعيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ( يكون في أمتي المهدي، إن طال عمره أو قصر عاش سبع سنين أو ثمان سنين أو تسع سنين، ويملأ الارض قسطا وعدلا، تخرج الأرض نباتها، وتمطر السماء مطرها.) أخرجه أحمد وابن أبي شيبة وهو حسن لشواهده.

(ترجمہ : ابوسعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں ایک شخص مہدی ہو گا، اس کی عمر طویل ہو یا مختصر ، دو سات یا آٹھ یا نو سال زندہ رہے گا ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دے گا ،زمین اپنے پودے ( پوری طرح) آگاۓ گی ، اور آسمان خوب بارش برسائے گا)۔ اسے امام احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر حسن ہے ۔

5- وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (يترل عيسى بن مريم فيقول أميرهم المهدي: صل بنا فيقول : لا، إن بعضهم أمير بعض تكرمة الله لهذه الأمة. )أخرجه الحارث بن أبي أسامة وأبو نعيم وإسناده صحيح۔

(ترجمہ : جابر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عیسی بن مریم علیم نازل ہوں گے تو مسلمانوں کا امیر مہدی ان سے کہے گا: آپ ہمیں صلاۃ پڑھائیے تو وہ انکار کر دیں گے ، اس امت کو اللہ کی جانب سے دی گئی عزت و تکریم کی بنا پر اس امت ہی کا ایک شخص دوسرے پر امیر ہو گا )۔ اسے حارث بن ابی اسامہ اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

6- وعن ثوبان رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (يقتتل عند كتركم ثلاثة، كلهم ابن خليفة، ثم لا يصير الى واحد منهم، ثم تطلع الرايات السود من قبل المشرق، فيقتلونكم قتلة لم يقتله قوم) ثم ذكر شيئاً لم احفظه، فقال : فإذا سمعتموه فأتوه فبايعوه، ولو حبوا على الثلج، فإنه خليفة الله المهدي.) أخرجه الحاكم وابن ماجه وإسناده صحيح۔

(ترجمہ : ثوبان رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمھارے خزانے کے پاس تین لوگ جنگ کریں گے ، تینوں خلیفہ کے بیٹے ہوں گے ، پھر وہ خزانہ ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ مل سکے گا، پھر مشرق کی جانب سے کالے جھنڈے نکلیں گے ، وہ تمھیں اس طرح قتل کر یں گے جس طرح کوئی قوم قتل نہ کی گئی ہو گی۔ پھر آپ نے کچھ کہا جو مجھے یاد نہیں رہا، پھر فرمایا: جب تم اس کے بارے میں سنا تو اس کے پاس آکر اس سے بیعت کر نا، چاہے برف پر گھسٹ گھسٹ کر ہی کیوں نہ آنا پڑے، کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہو گا )۔ اسے امام حاکم اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

7- وعن أم سلمة  رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : (المهدي من عترتي من ولد فاطمة.) أخرجه أبو داود وابن ماجه والحاكم وهو حسن.

(ترجمہ : ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مہدی میری نسل سے فاطمہ کی اولاد میں سے ہو گا )۔اسے ابوداود ،ابن ماحبہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے۔

الآثار :-

1- وعن علي رضي الله عنه قال : (المهدي منا أهل البيت يصلحه الله في ليلة.) أخرجه ابن أبي شيبة وهو حسن موقوفا.

صفحہ 1 از 6