امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ - ردِ رافضیت |…

امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ

  عبدالہادی عبدالخالق مدنی

صفحہ 2 از 6

(ترجمہ : علی ا سے روایت ہے آپ نے فرمایا: (مہدی ہم اہل بیت میں سے ہو گا، ایک رات میں اللہ اس کی اصلاح فرماۓ گا)۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ کی ہے اور موقوفا حسن ہے۔

2- وعن ابن عباس قال : (منا ثلاثة : منا السفاح، ومنا المنصور، ومنا المهدي.) أخرجه ابن أبي شيبة والبيهقي وإسناده حسن موقوفا.

(ترجمہ : ابن عباس سے روایت ہے آپ نے فرمایا: (ہم میں سے تین ہوں گے ، سفاح ہم میں سے ہو گا، منصور ہم میں سے ہو گا اور مہدی ہم میں سے ہو گا)۔

یہ روایت ابن ابی شیبہ اور بیہقی  کی ہے اور اس کی سند موقوفا حسن ہے ۔

3- وعن مجاهد عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال : (إن المهدي لا يخرج حتى يقتل النفس الزكية، فاذا قتلت النفس الزكية غضب عليهم من في السماء ومن في الارض، فأتى الناس المهدي، فزفوه كما تزف العروس الى زوجها ليلة عرسها، وهو يملأ الارض قسطا وعدلا، وتخرج الارض من نباتها، وتمطر السماء مطرها، وتنعم أمتي في ولايته نعمة لم تنعمها قط. ) أخرجه ابن أبي شيبة وهو صحيح موقوفا۔

(ترجمہ : مجاہد ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا: (مہدی اس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک کہ نفس زکیہ کو قتل نہ کر دیا جائے ، جب نفس زکیہ کو قتل کر دیا جائے گا تو ان پر آسمان والوں اور زمین والوں کا غضب ہوگا ، پھر لوگ مہدی کے پاس آئیں گے ، اور اسے حکومت اس طرح سونپ دیں گے جس طرح ایک دلہن کو اس کی شب عروسی میں اس کے شوہر کے سپرد کر دیا جاتا ہے ، وہ زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دے گا، زمین اپنے پودے پوری طرح آگائے گی ،آسمان خوب بارش بر سائے گا، میری امت اس کی حکومت میں ایسی نعمت میں رہے گی جیسی نعمت اسے کبھی نہ ملی ہو گی )۔

یہ روایت ابن ابی شیبہ کی ہے اور اس کی سند موقوفا صحیح ہے ۔

4- وعن عبد الله بن عمرو قال : (يا أهل الكوفة : أنتم أسعد الناس بالمهدي.) أخرجه ابن أبي شيبة وهو حسن موقوفا، وقد يكون الخبر من الاسرائيليات لأن ابن عمرو رضي الله عنهما كان ممن أخذ عن أهل الكتاب .

(ترجمہ : عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے آپ نے فرمایا: (اے کوفہ والو ! تم دیگر لوگوں کی بہ نسبت مہدی کو پانے والے زیادہ خوش نصیب ہو )۔

یہ روایت ابن ابی شیبہ کی ہے اور اس کی سند موقوفا حسن ہے ۔ یہ خبر اسرائیلیات میں سے بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ابن عمرو رض نے اہل کتاب سے بعض باتیں لی تھیں ۔

5- وعن ابن سيرين قال : (المهدي من هذه الأمة، وهو الذي يؤم عيسى بن مريم.) أخرجه ابن أبي شيبة وأبو نعيم وهو صحيح الاسناد مقطوع.

(ترجمہ : ابن سیرین سے روایت ہے انھوں نے کہا: (مہدی اس امت میں سے ہوں گے ، یہ وہی ہوں گے جو عیسی بن مریم کی امامت کریں گے )۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ اور ابو نعیم کی ہے اور اس کی سند مقطوعا صحیح ہے ۔

6- وعن علي بن عبدالله بن العباس قال : (لا يخرج المهدي حتى تطلع مع الشمس آية.) أخرجه عبدالرزاق وأبو نعيم وهو صحيح الاسناد مقطوع.

(ترجمہ : علی بن عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں: (مہدی اس وقت تک نہیں نکلیں گے جب تک کہ سورج کے ساتھ ایک اور نشانی ظاہر نہ ہو )۔ یہ روایت عبدالرزاق اور ابو نعیم کی ہے اور اس کی سند مقطوعا صحیح ہے ۔

7- وعن إبراهيم بن ميسرة قال : قلت لطاؤوس : عمر بن عبد العزيز المهدي؟ قال: كان مهديا، وليس بذاك المهدي، إذا كان زيد المحسن في إحسانه وتيب المسي من إساءته، وهو يبذل المال، ويشتد على العمال، ويرحم المساكين.) أخرجه ابن أبي شيبة وأبو نعيم وهو حسن مقطوع. 

(ترجمہ :ابراہیم بن میسرہ فرماتے ہیں: میں نے طاؤس سے پوچھا: کیا عمر بن عبد العزیز مہدی ہیں ؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں دو مہدی تھے لیکن وہ( مخصوص ) مہدی نہیں ہیں جب نیکو کاروں کی نیکیوں میں بہت اضافہ کردیا جائے گا اور بد کاروں کو توبہ کی توفیق دی جائے گی اور وہ خوب مال خرچ کرے گا اپنے اہلکاروں پر سختی کرے گا، مسکینوں پر رحم کرے گا) ۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ اور ابو نعیم کی ہے اور اس کی سند مقطوعا حسن ہے۔

-8 وعن قتادة قال : قلت لسعيد بن المسيب : (المهدي حق هو؟  قال : حق، قلت : ممن هو؟ قال : من قريش، قلت: من أي قریش؟ قال: من بني هاشم، قلت: من أي بني ھاشم؟ قال من بنی عبد المطلب؟ قلت: من أي بنی عبدالمطلب؟ قال: من ولد، فاطمة.) أخرجه نعيم بن حماد وهو حسن مقطوع.

(ترجمہ : قتادہ کہتے ہیں : میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا: کیا مہدی کی بات بر حق ہے ؟ آپ نے جواب دیا: ہاں، بر حق ہے، میں نے پوچھا: وہ کن میں سے ہو گا ؟ آپ نے کہا: قریش میں سے ۔ میں نے کہا: قریش کے کس قبیلے سے ؟ آپ نے کہا: بنو ہاشم سے ۔ میں نے پوچھا: بنو ہاشم کی کس شاخ سے ؟ آپ نے کہا: بنو عبد المطلب سے ۔ میں نے پوچھا: بنو مطلب کے کس خاندان سے ؟ آپ نے کہا: فاطمہ کی اولاد میں سے ہو گا) ۔ یہ روایت نعیم بن حماد کی ہے اور اس کی سند مقطوعا حسن ہے۔

9- وعن مطر قال : بلغنا أن المهدي يصنع شيئا لم يصنعه عمر بن عبدالعزيز، قلنا: ما هو؟ قال: يأتيه رجل فيسأله فيقول: ادخل بيت المال فخذ، فيدخل فيأخذ، فيخرج فيرى الناس شباعا، فيندم فيرجع إليه، فيقول: خذ ما أعطيتني، فيأبى ويقول: إنا نعطي ولا نأخذ.) أخرجه أبونعيم وهو صحيح الاسناد الى مطر مقطوعا.

(ترجمہ : مطر کہتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ مہدی کچھ ایسے کام کرے گا جو عمر بن عبدالعزیز نہیں کر سکے ، ہم نے پوچھا: وہ کیا؟ فرمایا: ایک شخص مہدی کے پاس آکر سوال کرے گا، مہدی کہے گا : بیت المال کے اندر چلے جاؤ اور ( جتنا چاہو ) لے لو، وہ شخص داخل ہو گا اور بہت کچھ لے کر نکلے گا، پھر دیکھے گا کہ لوگ آسودہ ہیں تو شرمندہ ہو گا اور واپس آکر کہے گا: جو آپ نے دیا تھا واپس لے لیجئے ، مہدی انکار کر دیں گے اور کہیں گے: ہم دیا کرتے ہیں لیا نہیں کرتے)۔ یہ روایت ابو نعیم کی ہے اور اس کی سند مقطوعا صحیح ہے ۔

10- وعن السميط قال : اسمه اسم نبي، وهو ابن إحدى أو اثنتين وخمسين، يقوم على الناس سبع سنين، وربما قال: ثمان سنين.) أخرجه ابو عمرو الداني وهو صحيح الاسناد الى السميط.

صفحہ 2 از 6