امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ - ردِ رافضیت |…

امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ

  عبدالہادی عبدالخالق مدنی

صفحہ 4 از 6

11 - وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( لا تقوم الساعة حتى يملك رجل من اهل بيتي اجلى اقنى يملا الارض عدلا كما ملئت قبله ظلما يكون سبع سنين ) رواه احمد وابن حبان وإسناده حسن

(ترجمہ : ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میرے اہل بیت کا ایک شخص بادشاہ شہ بن جائے ، وہ کشادہ پیشانی والا اور اونچی ناک والا ہو گا، وہ زمین کو اسی طرح عدل  وانصاف سے معمور کر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوئی ہو گی ، وہ کل سات سال ہوں گے )۔ یہ روایت احمد اور ابن حبان کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔

12- وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( تملا الارض جورا وظلما فيخرج رجل من عترتي يملك سبعا او تسعا فيملا الارض قسطا وعدلا ) رواه احمد والحاكم وهو حسن لشواهده

(ترجمہ : ابوسعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روۓ زمین ظلم وستم سے بھر جائے گی، میری نسل سے ایک شخص پیدا ہو گا جو سات یانو سالوں تک بادشاہ رہے گا اور وہ ساری روۓ زمین کو پھر سے عدل وانصاف سے بھر دے گا )۔ یہ روایت احمد اور حاکم کی ہے اور اپنے شواہد کی بناپر حسن ہے ۔

13- وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( لتملان الارض ظلما وعدوانا ثم ليخرجن من اهل بيتي او قال عترتي من يملؤها قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وعدوانا ) رواه ابو الحارث بن اسامة وإسناده صحيح لغيره

(ترجمہ : ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روۓ زمین ظلم و ستم سے بھر جاۓ گی ، پھر میری نسل یا فرمایا میرے اہل بیت سے ایک شخص پیدا ہوگا جو ساری روئے زمین کو پھر سے عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ پہلے ظلم و سرکشی سے بھری ہوئی تھی ۔ یہ روایت ابوالحارث بن اسامہ کی ہے اور اس کی سند صحیح لغیرہ ہے ۔ 

14- وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( لا تقوم الساعة حتى تمتلا الارض ظلما وعدوانا قال : ثم يخرج رجل  من عترتي او من اهل بيتي يملؤها قسطا وعدلا كما ملئت ظلما  وعدوانا) رواه احمد وإسناده صحيح

(ترجمہ: ابوسعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ روئے زمین ظلم و ستم سے بھر نہ جائے ، پھر میری نسل یا فرمایا میرے اہل بیت سے ایک شخص پیدا ہو گا جو ساری روئے زمین کو پھر سے عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ پہلے ظلم و سرکشی سے بھری ہوئی تھی ۔ یہ روایت احمد کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔

15- وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ( منا الذي يصلي عيسى بن مريم خلفه ) رواه أبو نعيم وهو حسن لغيره

(ترجمہ: ابو سعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ ہم میں سے ہی ہو گا جس کے پیچھے ابن مریم صلاۃ ادا کر یں گے ۔ یہ روایت ابو نعیم کی ہے اور حسن لغیرہ ہے۔

16- وعن ابي سعيد عن النبي صلى عليه وسلم قال: (يخرج في آخر الزمان خليفة يعطي الحق بغير عدد ) رواه ابن أبي شيبة وإسناده صحيح

(ترجمہ : ابو سعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ پیدا ہو گا جو بغیر گنتی کئے حق کو دیا کرے گا)۔ یہ روایت ابن ابی شیبہ کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔

17- وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ( من خلفائكم خليفة يحثو المال حثيا لا يعده عدا ) رواه مسلم 

(ترجمہ : ابوسعید رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمھارے خلفاء میں ایک ایسا خلیفہ پیدا ہو گا جو چلو بھر بھر کر مال دے گا اسے کچھ بھی شمار نہ کرے گا)۔ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے ۔

18- وعن أبي سعيد وجابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : (يكون في آخر الزمان خليفة يقسم المال ولا يعده ) رواه مسلم

(ترجمہ : ابوسعید اور جابر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ پیدا ہو گا جو بغیر گنتی کئے مال کو تقسیم کیا کرے گا )۔ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے ۔

19- وعن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ( يكون في آخر أمتي خليفة يحثي المال حثيا لا يعده عدا ) رواه مسلم۔

(ترجمہ : جابر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آخری زمانہ میں ایک ایسا خلیفہ ہو گا جو چلو (دونوں ہتھیلیاں بھر بھر کر مال دے گا اسے کچھ بھی شمار نہ کرے گا)۔ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے۔

20- وعن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ( لا تزال طائفة من أمتي يقاتلون على الحق ظاهرين الى يوم القيامة قال : فيترل  عيسى بن مريم صلى الله عليه وسلم فيقول أميرهم : تعال صل لنا فيقول : لا ان بعضكم على بعض أمراء تكرمة الله هذه الأمة ) رواه مسلم

(ترجمہ : جابر رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ حق پر قتال کر تار ہے گا، روز قیامت تک غالب رہے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: پس عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ، ان کا امیر کہے گا: آئیے ہمیں صلاۃ پڑھایئے تو عیسی علیہ السلام کہیں گے : نہیں، تم ایک دوسرے پر امیر ہو ،اللہ نے اس امت کو عزت عطافرمائی ہے ۔ یہ صحیح مسلم کی روایت ہے ۔

مہدی کی شخصیت اور اس کے اوصاف

صحیح وثابت احادیث کی روشنی میں مہدی کی شخصیت اور اس کے اوصاف کے تعلق سے چند باتیں سامنے آتی ہیں :

ا۔ مہدی علیہ السلام کا نام نبی ﷺ کے نام کے مطابق ہو گا۔

۲۔ مہدی علیہ السلام کے والد کا نام نبی ﷺ کے والد کے نام کے مطابق ہوگا۔

۳۔ مہدی علیہ السلام نبی ﷺ کے اہل بیت میں سے ہوں گے۔

۴۔ مہدی علیہ السلام فاطمہ رض کی اولاد میں سے ہوں گے۔

۵۔ مہدی علیہ السلام کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والے ہوں گے ۔

۲۔ مہدی علیہ السلام کی اصلاح ایک رات کے اندر ہو گی۔

۷۔ مہدی علیہ السلام کے خلیفہ ہونے سے پہلے زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی۔

۸۔ مہدی علیہ السلام اپنی خلافت کے بعد زمین کو عدل وانصاف سے بھر دیں گے ۔

۹۔ مہدی علیہ السلام سے کعبہ کے پاس رکن و مقام کے درمیان بیعت کیا جائے  گا۔

۱۰۔ مہدی علیہ السلام سات سال تک حکومت کریں گے ۔

۱۱۔ مہدی علیہ السلام آخری زمانہ میں حاکم بنیں گے ،ان کی حکومت سے پہلے قیامت نہیں آسکتی۔

صفحہ 4 از 6