امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ - ردِ رافضیت |…

امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ

  عبدالہادی عبدالخالق مدنی

صفحہ 5 از 6

۱۲۔ مہدی علیہ السلام خراسان کی طرف سے کالے جھنڈوں کے ساتھ نکلیں گے ۔

۱۳۔ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں آسمان خوب بارش برسائے گا۔

۱۴۔ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں زمین اپنے پودے بھر پور اگاۓ گی۔

۱۵۔ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں جو پاۓ کثیر تعداد میں ہو جائیں گے ۔

۱۶۔ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں امت عظیم ہو جائے گی۔

۱۷۔ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں امت ایسی نعمت میں ہوگی جیسی نعمت اسے کبھی حاصل نہ ہوئی ہو گی۔

۱۸۔ مہدی علیہ السلام مال کی صحیح تقسیم کریں گے ۔

۱۹۔ مہدی علیہ السلام مال کو اپنی ہتھیلیوں سے بھر بھر کر دیں گے ۔

۲۰۔ مہدی علیہ السلام مال کو گنتی کئے بغیر دیں گے ۔

۲۱۔ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں عیسی علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور ان کے پیچھے صلاۃادا کریں گے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انھیں کے زمانہ میں دجال بھی نکلے گا کیونکہ عیسی علیہ السلام نازل ہو کر دجال کا قتل کریں گے ۔

مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کو کیسے پہچانیں ؟

مہدی علیہ السلام کی آمد اور آپ کا ظہور بر حق ہے ۔ یہ عقیدہ صحیح احادیث سے ثابت ہے، لہذا صرف اس وجہ سے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بعض لوگوں نے اس عقید و کانار والاستعمال کر کے اللہ کے بندوں کو راہ حق سے برگشتہ کیا اور اپنے لئے دنیوی منافع و فوائد حاصل کئے۔

ہم ذیل میں ایسی باتیں ذکر کریں گے جن سے مہدویت کے جھوٹے دعویداروں کو پہچانا جا سکتا ہے ۔

ا۔ مہدی کی شخصیت اور اوصاف کے تعلق سے جو خلاصہ پیش کیا گیا ہے ان علامات کے ذریعہ سے سچے اور جھوٹے میں تمیز کی جاسکتی ہے ۔

۲۔ صحیح احادیث میں کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں ملتی جس سےمعلوم ہوتا ہو کہ مہدی علیہ السلام اپنے مہدی ہونے کا دعوی کریں گے اور اپنی مہدویت پر ایمان لانے کی دعوت دیں گے ، لہذا جو شخص اپنی مہدویت کا دعوی کرے اس کا دعوی ہی اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے ۔

۳۔ کوئی ایک بھی ایسی صحیح حدیث موجود نہیں جس سے معلوم ہوتا ہوکہ مہدی علیہ السلام اپنا لقب مہدی رکھیں گے اور انھیں اس لقب سے پکارا جاۓ گا۔

بہت ممکن ہے کہ مہدی سے لغوی معنی مراد ہو یعنی وہ ایک نیک و صالح اور ہدایت یافتہ شخص ہوں گے ۔

۴۔ کسی ایک بھی صحیح اور ثابت حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ایک متعین شخص کے مہدی ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے ۔ جیسا کہ متعین انبیاء کی نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کو مجدد والی حدیث کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے، صحیح حدیث کے مطابق ہر سو سال کے سرے پر ایک مجدد کا ظہور ہو گا جو دین کی تجدید فرمائے گا ، کوئی عالم یہ بات نہیں کہتا کہ فلاں متعین شخص کے مجدد ہونے پر ایمان لانا ضروری ہے، ایسے ہی معاملہ مہدی کا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک شخص کے مہدی ہونے پر ایمان رکھنا ضروری ہے لیکن وہ متعین طور پر کون ہے ؟ اس کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔

دعویداران مهدویت

مہدی علیہ السلام سے متعلق مذکورہ عقیدہ کا ناروا استعمال کر کے بہت سے مہدویت کے دعویدار پیدا ہوئے ، ہر ایک کے اپنے اپنے مقاصد تھے ۔ کوئی اس دعوی سے مسلمانوں کے دین ودنیا کی تباہی کا خواہش مند تھا، کوئی دنیا کا حریص اور سلطنت و بادشاہت کا طلبگار تھا، کوئی اپنی کم عقلی کی بنا پر شیطانی چالوں کا شکار ہو گیا، کوئی اپنی عبادت اور زہد و تقوی کے فریب میں مبتلا ہو کر مہدویت کا دعوی کر بیٹھاء کسی نے خود تو دعوی نہ کیا لیکن اس کے چاہنے والوں نے اس سے متعلق ایسا دعوی کر دیا۔ بہر کیف مہدویت کا دعوی کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہے، چند دعویداروں کے بارے میں مختصر معلومات پیش خدمت ہیں۔

علی رضی اللہ عنہ کے فرزند ارجمند محمد جو اپنی ماں کی جانب نسبت کی وجہ سے محمد بن حنفیہ کے نام سے مشہور ہیں ان کو شیعہ حضرات نے مہدی کا لقب دے رکھا تھا، اگر چہ انھوں نے خود کبھی ایسا دعوی نہیں کیا۔ (سیر اعلام النبلاء (111/4

مغرب اقصی جو آج مراکش کے نام سے جانا جاتا ہے اس کے مقام تامسنا میں صالح بن طریف نامی شخص نے مہدویت کا دعوی کیا، امام ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں اس کا تذکرہ کیا ہے ۔ اس نے بعد میں دعوی نبوت بھی کیا۔

جعفر صادق کے بیٹے محمد نے سنہ ۲۰۰ھ میں اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا۔

محمد بن عبد اللہ الحسنی جو نفس زکیہ کے لقب سے مشہور ہیں ،ان کے بارے میں بھی مہدویت کا دعوی کیا گیا ،انھوں نے بادشاہ وقت ابو جعفر منصور سے علم بغاوت بلند کی اور قتل کر دیے گئے۔

جعفر صادق کے بارے میں بھی مہدی ہونے کا دعوی کیا گیا۔

جعفر صادق کے بیٹے موسی کے بارے میں بھی مہدی ہونے کا دعوی کیا گیا، اور ان کے نام سے موسویہ فرقہ بھی بنا۔

جعفر صادق کے دوسرے بیٹے محمد نے بھی اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا۔

عبد الله بن معاوية بن عبدالله بن جعفر بن أبي طالب الھاشمی القرشی کے بارے میں بھی مہدی ہونے کا دعوی کیا گیا۔

جعفر صادق کے تیسرے بیٹے اسماعیل کے بارے میں تو نہیں لیکن ان کے صاحبزادے محمد بن اسماعیل کے بارے میں مہدی ہونے کا دعوی کیا گیا۔

ابو جعفر عبداللہ منصور کے بیٹے محمد مہدی نے بھی اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا۔

محمد بن الحسن بن علي : بن محمد بن علي الرضا بن موسى الکاظم کے بارے میں اثنا عشری شیعوں نے مہدی ہونے کا دعوی کیا ہے ۔

أبو عبد الله محمد بن عبدالله بن تومرت البربري المصمودی نے بھی اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا، اس کی وفات 524 ھ میں ہوئی ہے۔ مغرب میں اس نے اپنی حکومت بنائی اور سخت قتل و خوں ریزی کا بازار گرم

نے

حسین بن منصور حلاج (وفات 309ھ) نے بھی اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا۔ بعد میں اس نے اپنے رب ہونے کا دعوی کیا، انا الحق کا نعرہ لگا یا ، اس لئے اس کے کفر والحاد کی بنا پر اسے قتل کر دیا گیا۔

عبيد الله العبيدي (وفات 322ھ) نے بھی اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا تھا۔ یہ غالی قسم کا شیعہ تھا، یہی فاطمی حکومت کا بانی ہے ۔ فاطمیوں نے مصر پر دو سو سال سے زیادہ حکومت کی ہے ، ان کا کفر والحاد مشہور و معروف ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں 568 ھ میں ان کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔

معز بن منصور جو عبید اللہ العبیدی کا پوتا تھا ، اس نے بھی اپنی مہدویت کادعوی کیا۔ یہ 365ھ میں ہلاک ہوا۔

صفحہ 5 از 6