امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ - ردِ رافضیت |…

امام مہدی علیہ السلام کے متعلق صحیح عقیدہ

  عبدالہادی عبدالخالق مدنی

صفحہ 6 از 6

حسین بن زکر ویہ بن مہرویہ قرمطی نے بھی مہدویت کا دعوی بلیا نام کے ایک شخص نے بصرہ میں 482ھ میں مہدی ہونے کا دعوی کیا۔اسے پھانسی کی سزادی گئی۔

أحمد بن عبد الله بن هاشم أبو العباس جو ملثم کے لقب سے تاریخ میں معروف ہے ، اس نے بھی مہدی ہونے کا دعوی کیا۔

محمد بن حسن نام کے ایک شخص نے 717 ھ میں مہدی ہونے کا دعوی کیا۔ یہ نصیریہ فرقہ سے تھا، اس نے خوب فساد مچایا اور قتل و غارت گری کی ۔

مہدویت کے دعویداروں میں ایک نام محمد بن یوسف جونپوری کا بھی آتا ہے ۔انھوں نے 905ھ میں اپنے مہدی ہونے کا دعوی کیا اور 910ھ میں ان کی وفات ہوئی۔

ان کی تردید میں علماء نے بہت سی کتابیں لکھیں، ان کتابوں میں سے ایک مفید ترین کتاب کا نام (الهدية المهدوية ) ہے جو شیخ محمد زمان بن محمد اکبر شاہجہان پوری کی تصنیف ہے۔ علامہ صدیق حسن خان قنوجی نے اس کتاب کی  تعریف کی ہے۔

سوڈان کے ایک شخص محمد احمد بن عبد اللہ صوفی نے بھی مہدی ہونے کا دعوی کیا۔ اس کی وفات 1885ء میں ہوئی۔

بہائی فرقہ کے بانی علی محمد رضا شیرازی نے بھی دعوی نبوت سے پہلے مہدویت کا دعوی کیا تھا۔ اسے 1265ھ میں مرتد ہونے کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔

غلام احمد قادیانی نے بھی دعوی نبوت سے پہلے مہدویت کا دعوی کیا تھا۔

محمد بن عبد اللہ قحطانی سعودی نے بھی 1400ھ مطابق 1980ء میں اپنی مہدویت کا دعوی کیا اور مسجد حرام کے اندر ایک زبردست فتنہ کھڑا کر دیا۔ اللہ کے فضل و کرم سے یہ فتنہ بھی چند ہی دنوں میں ختم ہو گیا۔

کویت کے ایک شخص حسین بن موسی بن حسین اللحیدی نے بھی 1422ھ میں مہدویت کا دعوی کیا۔

امام ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اور امام ابن خلدون نے اپنی تاریخ میں اور امام ابن تیمیہ نے اپنی کئی کتابوں میں نیز دیگر مورخین نے بھی بہت سے  مدعیان مہدویت کا ذکر کیا ہے ۔


صفحہ 6 از 6