معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ…

معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 4

معیارِ حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہﷺ:

تاریخ لکھنے والے اکثر مؤرخین تحقیق نہیں کرتے اور جنہوں نے کی ہے ان کی وہ باتیں چھپانے والے مخالفین ہی ہوتے ہیں، جب کہ اس کے خلاف نہ صرف صحیح تاریخی خبریں مخالفین نے عوام سے چھپائی ہیں بلکہ اکثر عوام نے بھی انصاف پسند جج کی طرح دونوں (اہلِ حق اور اہلِ باطل) فریقوں کی باتوں کو اطمینان و تفصیلی دلائل سے جاننے اور جانچنے کیلئے سب سے پہلا (سچا، پکا اور کافی) معیار قرآنِ مجید کو نہیں بنایا، جس کیلئے فرمایا گیا کہ

وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيۡلًا (سورۃ النساء: آیت، 122)

ترجمہ: اور کون ہوگا اللہ کے مقابلہ میں زیادہ سچا قول میں۔

    صحابہؓ کے متعلق قرآنی عقائد:
    تمام صحابہ (نبی کے ساتھی) حقیقی مومن، بخشش اور عزت والا (جنتی) رزق پانے والے ہیں۔
    (دلیلِ قرآن: سورۃ الانفال: آیت، 74)
    وہ معیارِ حق اور تنقید سے بالاتر ہیں، بلکہ ان گستاخ ہی بیوقوف ہیں۔
    (سورۃ البقرۃ: آیت، 13 اور 137)
    وہ اس قابل ہیں کہ ان پیروی کی جائے اور وہ جنتی ہیں۔
    (سورۃ التوبۃ: آیت، 100، سورۃ الحدید: آیت، 10)
    دین میں فقہ (سمجھ) بھی ان سے حاصل ہوگی (ان کے بغیر نہیں)
    (سورۃ التوبہ: آیت، 122)
    پیدا ہونے سے پہلے ہی ان کی خوبیاں پہلی کتابوں تورات و انجیل میں بیان کرتے انہیں محمد رسول اللہﷺ کا ساتھی چنا جاچکا تھا۔
    (سورۃ الفتح: آیت، 29)
    اللہ ان سے راضی ہوچکا اور وہ اس سے راضی ہوچکے۔
    (سورۃ الفتح: آیت، 18)
    قیامت کے دن مواخذہ (پکڑ و حساب) سے محفوظ رہیں گے
    (سورۃ التحریم: آیت، 8)
    ان (جنتیوں) کے سینوں میں جو (باہمی) خفگی/کینہ ہوگا نکال دیا جاںٔے گا۔
    (سورۃ الاعراف: آیت، 43 سورۃ الحشر: آیت، 10)
    القرآن: کہا (نبی نے انہیں) کہ ان کا علم میرے رب کو ہے جو کتاب میں لکھا ہوا ہے، میرا رب نہ بھولتا ہے نہ چُوکتا ہے۔
    (سورۃ طهٰ: آیت، 52)
    لہٰذا رب جو پاک ہے بھول چوک سے اور وہی ہر چیز کا خالق ہونے کی وجہ سے مالک بھی ہے اور ہر چیز کا جاننے والا قادر بھی ہے، وہ قیامت تک کے ایمان والوں کو نبی ﷺ کے صحابہؓ (ساتھیوں) کے بارے میں یہ تعلیم کیوں پڑھتے سنواتے رہنا چاہے گا؟
    یہ (دلائل) اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو پڑھ کر سناتے ہیں سچائی کے ساتھ تو اب یہ اللہ اور اس کی آیتوں کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟ 
    (سورۃ الجاثیۃ: آیت، 6)
    رضائے الہٰی پانے کے خاص اعمال:
    1. مہاجر وانصار (صحابہ) کے پیچھے چلنا (کیونکہ) اللہ ان سب سے راضی ہوا
    (سورۃ التوبہ: آیت، 100)
    2.  اور راضی ہوتا ہے
     پرہیزگار بننے والوں سے
    (سورۃ آل عمران: آیت، 15)
    3. سچا رہنے والوں سے
    (سورۃ المائدۃ: آیت، 119)
    4. ایمان لانے والوں سے
    (سورۃ التوبہ: آیت، 72)
    5. شکر (حق) ماننے والوں سے
    (سورۃ الزمر: آیت، 7)
    6. نیک اعمال کرتے رہنے والوں سے
    (سورۃ الاحقاف: آیت، 15)
    7.  بیعت (آزمائش) میں پورا اترنے والوں سے
    (سورۃ الفتح: آیت، 18)
    8. اللہ اور رسول کے مخالفین، اگرچہ وہ ان کے باپ، بیٹے، بھائی یا رشتہ دار ہوں، سے محبت نہ رکھنے والوں سے
    (سورۃ المجادلہ: آیت، 22)
    9. رب سے ڈرنے والوں سے
    (سورۃ البینۃ: آیت، 8)
    قرآن مجید میں اصحابِ رسولﷺ کا تعارف:
     تقدیری خوبیاں:
    مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ ‌ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌سِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ؕ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌  وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا 
    (سورۃ الفتح: آیت، 29)
    ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں (اور) آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں تم انہیں دیکھو گے کہ کبھی رکوع میں ہیں، کبھی سجدے میں، (غرض) اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں، ان کی علامتیں سجدے کے اثر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں، یہ ہیں ان کے وہ اوصاف جو تورات میں مذکور ہیں، اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوگئی، پھر اپنے تنے پر اس طرح سیدھی کھڑی ہوگئی کہ کاشتکار اس سے خوش ہوتے ہیں، تاکہ اللہ ان (کی اس ترقی) سے کافروں کا دل جلائے یہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، اللہ نے ان سے مغفرت اور زبردست ثواب کا وعدہ کرلیا ہے۔
    تشریح:
    کافروں نے صلح نامہ لکھواتے وقت آنحضرتﷺ کا نام مبارک محمد رسول اللہ لکھوانے سے انکار کیا تھا، اور صرف محمد بن عبداللہ لکھوایا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آپ کو محمد رسول اللہ فرما کر اشارہ دیا ہے کہ کافر لوگ اس حقیقت سے چاہے کتنا انکار کریں، اللہ تعالیٰ نے اس کو قیامت تک قرآن کریم میں ثبت فرما دیا ہے،
    اگرچہ تورات میں بہت سی تبدیلیاں ہوچکی ہیں، لیکن بائبل کے جن صحیفوں کو آج کل یہودی اور عیسائی مذہب میں تورات کہا جاتا ہے، ان میں سے ایک یعنی استثناء: 2، 3 میں ایک عبارت ہے جس کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ شاید قرآن کریم نے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہو، وہ عبارت یہ ہے:
    خداوند سینا سے آیا، اور شعیر سے ان پر آشکار ہوا، اور کوہ فاران سے جلوہ گر ہوا، اور وہ دس ہزار قدسیوں میں سے آیا، اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے، اس کے سب مقدس لوگ تیرے ہاتھ میں ہیں، اور وہ تیرے قدموں میں بیٹھے ایک ایک تیری باتوں سے مستفیض ہوگا۔ (استثناء: 2، 3)
    صفحہ 1 از 4