معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ…

معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 4
واضح رہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا آخری خطبہ ہے، جس میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کی وحی کوہ سینا پر اتری، جس سے مراد تورات ہے، پھر کوہ شعیر پر اترے گی، جس سے مراد انجیل ہے، کیونکہ کوہ شعیر وہ پہاڑ ہے، جسے آج جبل الخلیل کہتے ہیں، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تبلیغ کا مرکز تھا، پھر فرمایا گیا ہے کہ تیسری وحی کوہ فاران پر اترے گی، جس سے مراد قرآن کریم ہے، کیونکہ فاران اس پہاڑ کا نام ہے جس پر غار حرا واقع ہے، اور اسی میں حضور اقدسﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی۔
فتح مکہ کے موقع پر آنحضرتﷺ کے صحابہ کی تعداد دس ہزار تھی، لہٰذا دس ہزار قدسیوں میں سے آیا سے ان صحابہ کی طرف اشارہ ہے، (واضح رہے کہ قدیم نسخوں میں دس ہزار کا لفظ ہے، اب بعض نسخوں میں اسے لاکھوں سے تبدیل کردیا گیا ہے)۔
نیز قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ صحابہ کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ: اس کے داہنے ہاتھ پر ان کے لیے آتشیں شریعت تھی۔
قرآن کریم میں ہے کہ: وہ آپس میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل ہیں۔
اور وہ استثناء کی مذکورہ عبارت میں ہے کہ: وہ بیشک قوموں سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے بات دور از قیاس نہیں ہے کہ قرآن کریم نے اس عبارت کا حوالہ دیا ہو، اور وہ تبدیل ہوتے ہوتے موجودہ استثناء کی عبارت کی شکل میں رہ گئی ہو۔
انجیل مرقس میں بالکل یہی تشبیہ ان الفاظ میں مذکور ہے، خدا کی بادشاہی ایسی ہے جیسے کوئی آدمی زمین میں بیج ڈالے اور رات کو سوئے اور دن کو جاگے، اور وہ بیج اس طرح اگے اور بڑھے کہ وہ نہ جانے زمین آپ سے آپ پھل لاتی ہے پہلے پتی، پھر بالیں، پھر بالوں میں تیار دانے پھر جب اناج پک چکا تو وہ فی الفور درانتی لگاتا ہے کیونکہ کاٹنے کا وقت آپہنچا۔ 
(مرقس: 26 تا 29)
یہی تشبیہ انجیل لوقا: 18، 19 اور انجیل متی: 31 میں بھی موجود ہے۔ 
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰهِ‌ وَالَّذِيۡنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ ‌ تَرٰٮهُمۡ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضۡوَانًا‌ۖسِيۡمَاهُمۡ فِىۡ وُجُوۡهِهِمۡ مِّنۡ اَثَرِ السُّجُوۡدِ‌ ؕ ذٰ لِكَ مَثَلُهُمۡ فِى التَّوۡرٰٮةِ وَمَثَلُهُمۡ فِى الۡاِنۡجِيۡلِ  كَزَرۡعٍ اَخۡرَجَ شَطْئَـهٗ فَاٰزَرَهٗ فَاسۡتَغۡلَظَ فَاسۡتَوٰى عَلٰى سُوۡقِهٖ يُعۡجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنۡهُمۡ مَّغۡفِرَةً وَّاَجۡرًا عَظِيۡمًا۔
(سورت الفتح: آیت، 29)
آیت کریمہ کا مقصد اور خلاصہ: اثبات رسالت اور شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
(محمد رسول اللہ) کے ساتھ رسول الله صلی الله علیه وسلم کی رسالت کا اثبات ہے، پھر اگلے جملے سے رسالت نبوی صلی اللہ علیه وسلم پر بطور دلیل شان صحابک پیش کیا گیا ہے اور صحابہ کے مندرجہ ذیل صفات بیان کیے گئے ہیں:
    (فتویٰ از امام مالک بن انسؒ بحواله تفسیر ابن کثیر)
    11. آیت کے اخیر میں اللہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کا ذکر فرمایا، مطلب یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مؤمن ہے اور کا ایمان کامل ہے۔
    12. صحابہ کرامؓ کے اعمال نیک ہے
    13. ان کے ساتھ الله کی طرف سے بخشش اور
    14. اجر عظیم کا وعدہ ہے۔

    احادیثِ رسولﷺ قرآن مجید کے دلائل کے بعد بیان کیے جائیں گے:

    کافروں پر شدید سخت ہے

     آپس میں رحم دل ہیں

    اللہ کو رکوع کرنے والے ہیں

     اللہ کو سربسجود ہیں

    اللہ کے فضل کی جستجو میں ہیں

    اللہ کی رضامندی کی جستجو میں ہیں

    سجدوں (قرآن وسنت کی تابعداری) کی نشانیاں ان کے چہروں سے ظاهر ہے۔

    تورات و انجیل میں بھی شان صحابہ بیان ہوا تھا

     ان کی مثال کھیتی کی ہے، جیسے کھیتی کمزوری کی بعد قوت پاتی ہے ایسے ہی صحابہ ابتداء میں قلیل تھے، پھر زیادہ اور مضبوط ہو گںٔے

     ان کی شان کو بیان کرنے اور ان کو قوت دینے پر اللہ کافروں کو چڑاتا ہے، یعنی شان صحابہ پر غصہ ہونے والا کافر ہے۔ 

      "محمد رسول الله": 
      محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔
      "والذین معه اشداء علی الکفار رحماء بینهم"
      اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں (یعنی آپ کے تمام صحابہ کرامؓ) وہ کافروں پر تو نہایت سخت (مگر) آپس میں رحم دل ہیں۔
       اس بات سے قطع نظر که تاریخ "تاریک" ہے، مورخین میں جهوٹوں اور متعصب رافضیوں کی بھر مار ہے، اس بنیادی پوائنٹ سے قطع نظر تاریخ کے ذریعے صحابه کرام رضی اللہ عنہم کا آپس میں بغض ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے والے حضرات ہمیں صرف یہ بتاۓ کہ کیا تاریخ کو قرآنی آیات کے مقابل پیش کرنے والا شخص مسلمان کہلانے کے لائق ہے؟
      یاد رہے صحابہؓ کے مابین لڑی جانے والی جنگیں (مشاجرات صحابہؓ) بھی اس وقت کے خوارج و شیعوں اور اسلام دشمنوں کے ہاتھوں آپس میں غلط فہمیوں کے سبب سے ہوئی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو قرآنی آیت کے عین مطابق سب کے سب آپس میں شیر و شکر تھے، ہم کون ہوتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں اور قرآن و سنت کے گواہوں پر جرح و طعن کرنے والے، ان کے مشاجرات پر ہمیں بات کرنے کا حق کس نے دیا ہے کہ ہم مرچ مصالحہ لگا کر تاریخ کے چور دروازے سے ان پر سب و شتم کی بوچھاڑ کریں؟
      ہم صحابہؓ کا صرف ذکر خیر ہی کرسکتے ہیں اور بس)
      "تراهم رکعا سجدا یبتغون فضلا من الله ورضوانا"
      (اے دیکھنے والے) تم جب (بھی) انھیں (ان صحابہ کرام کو) دیکھو گے تو رکوع و سجود کرتے ہوئے اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی تلاش کرتے ہوئے دیکھو گے
      "سیماهم فی وجوههم من اثر السجود"
      (کثرت) سجدوں (یعنی قرآن و سنت کی تابعداری) کی وجہ سے ان کے چہروں پر ان کی نشانیاں ہے/ ہوگی 
      سجدے کے اثر سے صحابہ و تابعین سے اس نشانی کی تفسیر میں مختلف اقوال مذکور ہیں۔
      جن میں سے دو قوی ہے۔
      اول: وہ نور کہ روز قیامت ان کے چہروں پر کثرت سجود (تابعداری) سے ہوگا یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنه اور امام حسن بصری و عطیہ و خالد حنفی و مقاتل بن حیان سے ہے۔
      صفحہ 2 از 4