معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ…

معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 3 از 4
دوم: خشوع و خضوع و روشن نیک جس کے آثار صالحین کے چہروں پر دنیا ہی میں بے تصنع یعنی بغیر بناوٹ کے ظاہر ہوتے ہیں، یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنه و امام مجاہد سے ہے۔
ذالک مثلهم فی التوره
(صحابہ کے بارے میں جو یہ بیان ہوا) ان کی یہ صفت تورات میں بیان ہوئی ہے۔
ومثلهم فی الانجیل کزرع اخرج شطاه فازره فاستغلظ فاستوی علی سوقه یعجب الذراع
اور ان کی صفت انجیل میں (یوں) ہے جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی کونپل نکالی پھر اسے مضبوط کیا، پھر وہ موٹی ہوئی اور اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی (اس وقت وہ) کسانوں کو خوش کرتی ہے۔
"لیغیظ بهم الکفار"
لیغیظ میں لام کا متعلق محذوف ہے، اللہ نے صحابه کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ شان بیان فرمائی تاکہ کافروں کو ان کی وجہ سے غصہ دلائے۔
"وعد الله الذین امنوا وعملوا الصالحات منهم مغفره واجرا عظیما"
ان ایمان والوں اور شائستہ اعمال والوں سے اللہ نے مغفرت (بخشش) اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔
امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ یہ آیت شیعوں کی تکفیر کرتی ہے کیونکہ وہ صحابہ سے بغض رکھتے ہیں اور ان کے دل ان سے جلتے ہیں بس جس کا دل صحابہ سے جلے وہ اس آیت کے مطابق کافر ہے۔
(استفادہ منزل الصحابہ فی القرآن: صفحہ، 16-20)
“من" تبعیضیہ نہیں، کہ یہ مغفرت و اجر عظیم کا وعدہ بعض صحابہ کے ساتھ ہے، تمام کے ساته نہیں، جیسا کہ شیعہ اور شیعہ نواز لوگ باور کراتے ھیں. بلکہ "من" بیانیہ ہے، اور اس سے مراد تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے، یعنی مغفرت اور اجر عظیم کا وعده الٰہی تمام صحابه کرام رضی اللہ عنہم کے ساته ہے، دیکھیے تفسیر بیضاوی: جلد، 2 صفحہ، 406، ابو سعود: جلد، 8 صفحہ، 115 ابن کثیر: جلد، 4 صفحہ، 205 تفسیر ماجدی وغیرہ)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ:
 امام مالک رحمہ اللہ نے اس آیت سے رافضیوں (جو آج کل شیعہ کے نام سے مشہور ہے) کے کفر پر استدلال کیا ہے، کہ جنہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی وجہ سے غیض و غضب کا سامنا ہے، کہا:
اس لئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انہیں غصہ دلاتے ہیں، اور جسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غصہ دلائیں وہ اس آیت کی بنا پر کافر ہے، انکے اس استدلال پر کچھ علمائے کرام نے موافقت بھی کی ہے، جبکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے فضائل میں احادیث بہت زیادہ ہیں، اسی طرح ایسی احادیث بھی موجود ہیں کہ جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا برے الفاظ سے تذکرہ کرنا منع کیا گیا ہے، اگرچہ ان کے لیے اللہ کی تعریف ہی کافی ہیں، اور اللہ تعالیٰ ان پر راضی بھی ہے۔ 
(تفسیر ابن کثیر: جلد، 7 صفحہ، 362)
جبکہ امام ابن جوزی زاد المسیر میں سورہ فتح کی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں
قوله تعالیٰ: (والذين معه) يعني أصحابہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم،
ترجمہ: والذین معه وه لوگ جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم کے ساته ہے سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہے۔
پھر لکھتے ہیں
قوله تعالى: (ليغيظ بهم الكفار) أي: إنما كثرهم وقواهم ليغيظ بهم الكفار۔
یعنی اللہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو قوت و کثرت دی، تاکہ اس کے ذریعے کفار کو غصہ دلاںٔے۔
پھر لکھتے ہیں:
وقال مالك بن أنس: من أصبح وفي قلبه غيظ على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقد أصابته هذه الآية
یعنی امام مالک ابن انسؒ فرماتے ہیں کہ جس کسی کے دل میں صحابه کے لیے بغض ہو یہ آیت اس کے لیے ہے۔
و قال ابن إدريس:يعني الرافضة، لأن الله تعالى يقول: ليغيظ بهم الكفار
اور امام ابن ادریس فرماتے ہیں کہ وہ کفار رافضی (شیعہ) ہے، جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
ليغيظ بهم الكفار۔
(تاکہ غصہ کرے صحابہؓ کی شان و شوکت کے ساتھ افروں کو)۔
اللہ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرماںٔے۔
صحابہ کافروں کے مقابلہ میں سخت مضبوط اور قوی، جس سے کافروں پر رعب پڑتا اور کفر سے نفرت و بیزاری کا اظہار ہوتا ہے۔ قال تعالیٰ:
وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً 
(سورۃ التوبہ: آیت، 123)
وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ 
(سورۃ التوبہ: آیت، 73) 
وقال تعالیٰ اَذِلَّۃٍ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ 
(سورۃ المائدہ: آیت، 54)
حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں جو تندی اور نرمی اپنی خو ہو وہ سب جگہ برابر چلے اور جو ایمان سے سنور کر آئے وہ تندی اپنی جگہ اور نرمی اپنی جگہ علماء نے لکھا ہے کہ کسی کافر کے ساتھ احسان اور سلوک سے پیش آنا اگر مصلحت شرعی ہو کچھ مضائقہ نہیں، مگر دین کے معاملہ میں وہ تم کو ڈھیلا نہ سمجھے۔
آپس میں نرم دل ہیں: اپنے بھائیوں کے ہمدرد و مہربان، اُنکے سامنے نرمی سے جھکنے والے اور تواضع و انکسار سے پیش آنے والے "حدیبیہ" میں صحابہ کی یہ دونوں خوبیاں چمک رہی تھیں۔
اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ
صحابہ کرامؓ کے صفات حَسنہ: 
نمازیں کثرت سے پڑھتے ہیں، جب دیکھو رکوع و سجود میں پڑے ہوئے اللہ کے سامنے نہایت اخلاص کے ساتھ وظیفہ عبودیت ادا کر رہے ہیں ریاء و نمود کا شائبہ نہیں، بس اللہ کے فضل اور اسکی خوشنودی کی تلاش ہے نمازوں کی پابندی خصوصاً تہجد کی نماز سے انکے چہروں پر خاص قسم کا نور اور رونق ہے گویا خشیت و خشوع اور حسن نیت و اخلاص کی شعاعیں باطن سے پھوٹ پھوٹ کر ظاہر کو روشن کر رہی ہیں حضرت کے اصحاب اپنے چہروں کے نور اور متقیانہ چال ڈھال سے لوگوں میں الگ پہچانے جاتے تھے۔
صحابہ کرامؓ کا پچھلی کتابوں میں تذکرہ:
پہلی کتابوں میں خاتم الانبیاء ﷺ کے ساتھیوں کی ایسی ہی شان بیان کی گئ تھی چنانچہ بہت سے غیر متعصب اہلِ کتاب انکے چہرے اور طور و طریق دیکھ کر بول اٹھتے تھے کہ واللہ یہ تو مسیحؑ کے حواری معلوم ہوتے ہیں۔
کھیتی کی مثال اور صحابہ کرامؓ: 
صفحہ 3 از 4