معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ…

معیار حق، ایمان و ہدایت اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 4 از 4
حضرت شاہ صاحبؒ کھیتی کی مثال کی تقریر کرتے ہوئے لکھتے ہیں یعنی اول اس دین پر ایک آدمی تھا پھر دو ہوئے پھر آہستہ آہستہ قوت بڑھتی گئی حضرت کے وقت میں پھر خلفاء کے عہد میں بعض علماء کہتے ہیں کہ اَخۡرَجَ شَطۡـَٔہٗ میں عہد صدیقی فَاٰزَرَہٗ میں عہد فاروقی فَاسْتَغْلَظَ میں عہد عثمانی اور فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ میں عہد مرتضوی کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ بعض دوسرے بزرگوں نے وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الۡکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمۡ تَرٰىہُمۡ رُکَّعًا سُجَّدًا کو علی الترتیب خلفائے اربعہ پر تقسیم کر دیا ہے مگر صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تمام جماعت صحابہؓ کی بہیات مجموعی مدح و منقبت پر مشتمل ہے، خصوصاً اصحاب بیعت الرضوان کی جن کا ذکر آغاز سورۃ سے برابر چلا آ رہا ہے، واللہ اعلم کھیتی کرنے والے چونکہ اس کام کے مبصر ہوتے ہیں اس لئے ان کا ذکر خصوصیت سے کیا، جب ایک چیز کا مبصر اسکو پسند کرے دوسرے کیوں نہ کریں گے۔
صحابہؓ سے حسد رکھنے والے: 
یعنی اسلامی کھیتی کی یہ تازگی اور رونق و بہار دیکھ کر کافروں کے دل غیظ و حسد سے جلتے ہیں، اس آیت سے بعض علماء نے یہ نکالا کہ صحابہ سے جلنے والا کافر ہے مومنین سے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ: حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں یہ وعدہ دیا انکو جو ایمان والے ہیں اور بھلے کام کرتے ہیں۔ حضرت کے سب اصحاب ایسے ہی تھے مگر خاتمہ کا اندیشہ رکھا حق تعالیٰ بندوں کو ایسی صاف خوشخبری نہیں دیتا کہ نڈر ہو جائیں اس مالک سے اتنی شاباشی بھی غنیمت ہے۔ 
تم سورۃ الفتح بفضل اللہ و رحمۃ فللہ الحمد والمنہ:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا تُوۡبُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ تَوۡبَةً نَّصُوۡحًا ؕ عَسٰى رَبُّكُمۡ اَنۡ يُّكَفِّرَ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَيُدۡخِلَـكُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ يَوۡمَ لَا يُخۡزِى اللّٰهُ النَّبِىَّ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ‌ ۚ نُوۡرُهُمۡ يَسۡعٰى بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَبِاَيۡمَانِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَ تۡمِمۡ لَـنَا نُوۡرَنَا وَاغۡفِرۡ لَـنَا‌ ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ
(سورۃ التحریم: آیت، 8)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کے حضور سچی توبہ کرو، کچھ بعید نہیں کہ تمہارا پروردگار تمہاری برائیاں تم سے جھاڑ دے، اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کر دے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب اللہ نبی کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا۔ وہ کہہ رہے ہوں گے کہ: اے ہمارے پروردگار ہمارے لیے اس نور کو مکمل کر دیجیے اور ہماری مغفرت فرما دیجیے یقینا آپ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
تشریح:
اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہونگے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا، جیسا کہ سورة حدید: آیت، 12 میں گزر چکا ہے۔
یعنی آخر تک اسے برقرار رکھیے، کیونکہ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافق بھی شروع میں اس نور سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن بعد میں ان سے نور سلب کر لیا جائے گا۔


صفحہ 4 از 4