کیا صحیح مسلم کی حدیث میں حضرت امیر معاویہ رض نے سیدنا علی رض کو گالیاں دینے کا حکم دیا؟
مولانا ابوالحسن ہزارویحضرت سعد رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیں، جس پر سعد رض نے اسی وقت اس کے لیے بددعا کی
ثُمَّ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّ هَذَا يَشْتِمُ وَلِيًّا مِنْ أَوْلِيَائِكَ، فَلَا تُفَرِّقْ هَذَا الْجَمْعَ حَتَّى تُرِيَهُمْ قُدْرَتَكَ. قَالَ قَيْسٌ: فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا حَتَّى سَاخَتْ بِهِ دَابَّتُهُ فَرَمَتْهُ عَلَى هَامَتِهِ فِي تِلْكَ الْأَحْجَارِ، فَانْفَلَقَ دِمَاغُهُ وَمَاتَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
[التعليق - من تلخيص الذهبي]
6121 - على شرط البخاري ومسلم
مستدرک حاکم ج3 ص 571
سعد رض نے قبلے کی طرف منہ کیا اور دعا کی کہ
اے اللہ یہ شخص تیرے ولیوں میں سے ایک ولی کو گالیاں دے رھا ھے، اے اللہ اس مجمعے کے منتشر ھونے سے پہلے اس کو اپنا عذاب دکھا۔
قیس (راوی ) کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ابھی ہم منتشر بھی نہیں ہوئے تھے کہ وہ سواری سے گر گئے اور اس کے سر پر ایک پتھر لگا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ مرگیا۔
علامہ ذھبی رح کہتے ہیں کہ یہ روایت بخاری مسلم کے شرائط کے مطابق ہے.
اگر سیدنا معاویہ رض نے حضرت سعد رض کے سامنے سیدنا علی رض کو گالیاں دیں تو حضرت سعد رض نے ان کے لیے بددعا کیوں نہیں کی؟
کیوں ان کی بیعت کی اور ان کے ساتھ ملتے اور عطیات لیتے رہے؟
أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا بَعْدَ عُثْمَانَ أَقْضَى بِحَقٍّ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْبَابِ - يَعْنِي مُعَاوِيَة
البدایہ و النھایہ ج8 ص َ142
سعد بن ابی وقاص رض کہتے ہیں کہ میں نے عثمان رض کے بعد معاویہ رض سے زیادہ حق کا فیصلہ کرنے والا نہیں دیکھا.
صحیح مسلم کی روایت کا صحیح مطلب علماء اھل السنت سے
اکمال اکمال المعلم شرح المسلم، امام ابو عبد اللہ محمد بن خلفہ الوشتانی الابی، ج 6 ص 224
پر لکھتے ہیں
لانہ لیس بصریح فی انہ امرہ بسبہ، انما سالہ عن المانع..
یعنی بلا شبہ یہاں سب کا حکم دینے کی کوئی صراحت نہیں، بلکہ معاویہ رض نے تو سعد رض سے گالی نہ دینے سے مانع کا پوچھ رہے ہیں
اسی شرح کے ساتھ ایک دوسری شرح
مکمل اکمال الاکمام، ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن یوسف السنوسی کی، وہ بھی اس سے ایک صفحہ پہلے ص 223
پر واضح لکھتے ہیں
لانہ لیس بصحیح فی انہ امرہ بسبہ، انما سالہ عن المانع..
مجمع البحار الانوار میں علامہ طاھر فتنی گجراتی لکھتے ہیں.
ومنه: ما منعك أن "تسب" أبا تراب، هذا لا يستلزم أمر معاوية بالسب بل سؤال عن سبب امتناعه عنه
ج 3 ص 10
یعنی
"ما منعک ان تسب ابا تراب"
ان الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ معاویہ رض نے گالی دینے کا حکم دیا تھا، بلکہ گالی دینے سے رکنے کے سبب کے بارے میں سوال کیا تھا.
الناھیہ عن طعن معاویہ
میں علامہ عبد العزیز پڑھاروی لکھتے ہیں
اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہنے کا حکم نھیں دیا گیا بلکہ سبب مانع کو دریافت کیا گیا ہے...
ص 77 مترجم