سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 1 از 3

سیرت سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ

سیدنا امیر معاویہؓ ایک جلیل القدر صحابی رسولﷺ، عظیم المرتبت خلیفہ، کاتب وحی، اللہ کی وحی کے امین، رازدار رسولﷺ، ہادی و مہدی، یزیدؓ بن ابوسفیانؓ اور ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہؓ کے بھائی اور آنحضرتﷺ کے برادر نسبتی تھے۔ سیدنا عمر فاروقؓ، سیدنا عثمان غنیؓ اور دیگر جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معتمد خاص تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؓ خلافت صدیقی، خلافتِ فاروقی اور خلافتِ عثمانی میں اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔ آپؓ فقیہ صحابی تھے۔ آپؓ کا حلم تمام امت میں مشہور تھا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فتوحات، عسکری نظام، مملکت کا نظم و نسق، معاشی و اقتصادی اصطلاحات، فہم و فراست، ظرافت و خطابت اور عدل و انصاف بے مثال تھا۔ آپؓ کے دورِ خلافت میں دین اسلام ایک طرف قسطنطنیہ یعنی یورپ کے دروازے تک جا پہنچا، تو دوسری طرف براعظم افریقہ کے پار اس ساحل تک جا پہنچا جو بحیرہ روم جیسے بڑے سمندر سے وابستہ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے آپؓ کے لیے دعا فرمائی:

اللھم اجعلہ ھادیا ومھدیا واھدبہ

ترجمہ: اے اللہ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا دیجئے اور اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہدایت دیجئے۔

(جامع ترمذی: صفحہ، 247 جلد، 2)

نام و نسب اور خاندان:

نام معاویہ رضی اللہ عنہ اور کنیت ابو عبد الرحمٰن تھی۔ آپؓ کے والد ماجد کا نام صخر اور کنیت ابو سفیانؓ تھی اور اسی نام سے مشہور ہوئے۔ والدہ محترمہ حضرت ہندؓ تھیں۔ یہ دونوں فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے۔

والد ماجد کی جانب سے سلسلہ نسب یوں ہے:

معاویہؓ بن ابوسفیانؓ بن حرب بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔

اس طرح آپؓ کا شجرہ نسب پانچویں پشت میں سرکار دو عالمﷺ سے جا ملتا ہے۔

والدہ ماجدہ کی جانب سے سلسلۂ نسب یوں ہے:

حضرت ہندؓ بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف۔

نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بہن تھی۔

ولادت باسعادت:

سیدنا امیر معاویہؓ بعثت نبویﷺ سے پانچ سال قبل 608 عیسوی میں پیدا ہوئے۔

(ابن حجر الاصابہ: صفحہ، 412 جلد، 3)

علامہ ابنِ کثیرؒ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے والد سیدنا ابو سفیانؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

وکان رئیسًا مطاعاً ذا مال جزیل۔

یعنی آپ اپنی قوم کے سردار تھے، آپ کے حکم کی اطاعت کی جاتی تھی اور آپ کا شمار مالدار لوگوں میں ہوتا تھا۔

(ابن کثیر، البدایہ والنہایہ: صفحہ، 21 جلد، 8 طبع مصر)

ایک دفعہ جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نو عمر تھے۔ آپؓ کے والد ماجد سیدنا ابو سفیانؓ نے آپ کی طرف دیکھا اور کہنے لگے  میرا بیٹا بڑے سر والا ہے اور اس لائق ہے کہ اپنی قوم کا سردار بنے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت ہندؓ نے یہ سنا، تو کہنے لگیں فقط اپنی قوم کا؟ میں اس کو روؤں اگر یہ پورے عالم عرب کی قیادت نہ کرے۔

(ابن حجر الاصابہ: صفحہ، 412 جلد، 3)

آپؓ کے والدین نے آپؓ کی تربیت خاص طور پر کی۔ مختلف علوم و فنون سے آراستہ کیا۔ آپؓ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو علم و فن سے آراستہ تھے اور لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔

قبول اسلام:

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ظاہری طور پر فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے مگر حقیقت یہ ہے کہ آپؓ اس سے قبل ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔ چنانچہ مشہور مؤرخ واقدی کہتے ہیں سیدنا معاویہؓ صلح حدیبیہ کے دن اسلام لائے مگر آپؓ نے اپنے اسلام کو چھپائے رکھا اور فتح مکہ کے دن ظاہر کیا۔

مؤرخ ابنِ سعد فرماتے ہیں:

حضرت معاویہؓ فرمایا کرتے تھے کہ میں عمرۃ القضاء کے روز ایمان لایا تھا لیکن اپنے والد کے ڈر سے اپنے ایمان کو فتح مکہ تک چھپائے رکھا۔

(البدایہ والنہایہ: جلد، 8 صفحہ، 118)

شیخ الاسلام علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں ہیں:

معاویہؓ بن ابوسفیانؓ ایک صحابی اور خلیفہ راشد ہیں۔ فتح مکہ سے قبل مشرف بہ اسلام ہوئے اور آپؓ کاتب وحی بھی تھے۔

(تقریب التہذیب: صفحہ، 375)

مذکورہ بالا حوالہ جات اس بات پر شاہد ہیں کہ سیدنا معاویہؓ فتح مکہ سے قبل اسلام لائے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ بدر، احد، خندق اور غزوہ حدیبیہ کے معرکوں میں کفار کی جانب سے شریک نہ ہوئے، حالانکہ آپؓ جوان تھے۔

کتابت وحی کے فرائض:

سیدنا امیر معاویہؓ کو بارگاہ رسالتﷺ سے کتابت وحی کا منصب عطا ہوا۔ جو وحی آپﷺ پر نازل ہوتی، اسے قلمبند فرماتے اور جو خطوط و فرامین حضور اکرمﷺ کے دربار سے جاری ہوتے، انھیں بھی آپؓ تحریر فرماتے۔

چنانچہ علامہ ابنِ حزم اندلسیؒ کہتے ہیں

نبی اکرمﷺ کے کاتبین وحی میں سب سے زیادہ سیدنا زید بن ثابتؓ آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر رہے اور اس کے بعد دوسرا درجہ سیدنا معاویہؓ کا تھا۔ یہ دونوں حضرات رات دن آپﷺ کے ساتھ لگے رہتے اور اس کے سوا کوئی کام نہ کرتے تھے۔

(ابن حزم, جوامع السیرۃ: صفحہ، 27 تاریخ التشریح الاسلامی صفحہ، 12)

عہد صدیقیؓ میں آپؓ کا مقام:

آنحضرتﷺ کے دور میں آپؓ نے مختلف غزوات میں شرکت کی اور کفار سے جہاد کیا۔ آپؓ نے آنحضرتﷺ کے ہمراہ غزوہ حنین میں بھی شرکت فرمائی۔ نبی کریمﷺ کے بعد خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپؓ کی فہم و فراست، دیانت وامانت، ذہانت و ذکاوت اور تدبر پر مکمل اعتماد کیا اور آپؓ کو شام بھیجے جانے والے لشکر کے ہر اول دستے کا علمبردار مقرر فرمایا جب کہ اس لشکر کے امیر اور سپہ سالار آپؓ کے بھائی یزید بن ابوسفیانؓ تھے۔

(دیکھیے محاصرات تاریخ الامم الاسلامیہ: جلد، 4 صفحہ، 471 فتوح البلدان صفحہ، 48)

عہد فاروقیؓ میں آپؓ کا مقام و مرتبہ:

عہد فاروقیؓ میں بھی آپؓ (سیدنا معاویہؓ) اعلٰی عہدوں پر فائز رہے۔ 18 ہجری میں عمواس کے طاعون میں آپؓ کے بھائی یزیدؓ کے انتقال کے بعد سیدنا عمر فاروقؓ نے آپؓ کو دمشق کا گورنر مقرر فرما دیا۔

(البدایہ والنہایہ: جلد، 8 صفحہ، 124 ابنِ خلدون: جلد، 3 صفحہ، 6)

صفحہ 1 از 3