سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 2 از 3

محمد حسین ہیکل نے ایک روایت نقل کی ہے کہ شام سے واپسی پر جابیہ کے مقام پر سیدنا عمر فاروقؓ نے سیدنا شرحبیل بن حسنہؓ کو معزول فرما کر ان کی جگہ سیدنا معاویہؓ کو گورنر مقرر فرما دیا۔ جب امیر المومنینؓ سے سیدنا شرحبیل بن حسنہؓ کی وجہ معزولی دریافت کی گئی، تو آپؓ نے فرمایا: 

میں نے کسی ناراضی کی وجہ سے انہیں معزول نہیں کیا بلکہ اس لیے معزول کیا ہے کہ یہاں ایک مضبوط سیاسی گورنر کی ضرورت تھی۔

(الفاروق: صفحہ، 298)

سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں سیدنا معاویہؓ نے چار سال شام کے گورنر کی حیثیت سے گزارے۔ اس دوران آپؓ نے روم کی سرحدوں پر جہاد جاری رکھا اور بہت سارے شہر فتح کیے۔

عہد عثمانیؓ میں آپؓ کا مقام اور فتوحات:

خلیفہ ثانی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا عثمان غنیؓ نے اپنے عہد خلافت میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حسن انتظام، تدبر اور سیاست سے متاثر ہو کر حمص، قنسرین اور فلسطین کے علاقے بھی آپؓ کے ماتحت کر دیے۔

(تاریخ ابن خلدون)

25 ہجری میں آپؓ نے روم کی جانب جہاد کیا اور عموریہ تک جا پہنچے۔ نبی کریمﷺ نے پہلا بحری جہاد کرنے والے لشکر کے حق میں ان الفاظ میں جنت کی بشارت دی تھی: اوّل جیش من امتی یغزون البحر قد اوجبوا

ترجمہ: یعنی میری امت کے پہلے لشکر نے جو بحری لڑائی لڑے گا اپنے اوپر جنت واجب کر لی ہے۔

(صحیح البخاری: صفحہ، 410 جلد، 1)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسلامی تاریخ میں پہلی بار بحری بیڑہ تیار کرایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت کے ہمراہ 27 ہجری میں قبرص کی جانب روانہ ہوئے۔

(حافظ ذہبی العبر: جلد، 1)

ابنِ خلدون لکھتے ہیں:

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے بحری بیڑہ تیار کرایا اور مسلمانوں کو اس کے ذریعے جہاد کی اجازت دی۔

(مقدمہ ابنِ خلدون: صفحہ، 453)

27 ہجری میں آپؓ قبرص (Cyprus) کی طرف اپنا بحری بیڑہ لے کر روانہ ہوئے اور 27 ہجری میں وہ آپؓ کے ہاتھوں فتح ہو گیا۔

(النجوم الزاہراہ: صفحہ، 85، مطبوعہ مصر) اور آپؓ نے وہاں کے لوگوں پر جزیہ عائد کیا۔

(ابنِ خلدون: صفحہ، 1008 جلد، 2)

تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ سب سے پہلا بحری لشکر جس نے 28 ہجری میں سمندر کے سینے کو چیر کر قبرص (Cyprus) پر حملہ کیا اور اس کو فتح کر کے اسلامی پرچم لہرایا اس کی قیادت سیدنا معاویہؓ بن ابوسفیانؓ نے کی۔

علامہ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

خلافتِ عثمانیؓ میں جب یہ حملہ ہوا تو اس لشکر کے امیر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابوسفیانؓ تھے اور ان کے ساتھ ابوذر رضی اللہ عنہ اور ابو الدرداء رضی اللہ عنہ جیسے کئی دوسرے صحابہؓ تھے۔

(اسد الغابہ: جلد، 5 صفحہ، 575)

33 ہجری میں آپؓ نے افرنطینہ، ملطیہ اور روم کے کچھ قلعے فتح کیے۔ 35 ہجری میں غزوہ ذی خشب پیش آیا۔ آپؓ نے اس میں امیرِ لشکر کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔

عہدِ خلافت:

36 ہجری میں سیدنا عثمان غنیؓ شہید ہوئے۔ شہادتِ عثمانؓ کے بعد جنگ صفین و جمل کے واقعات پیش آئے۔ آپؓ کے اور سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے درمیان یہ جنگ چار پانچ سال تک جاری رہی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف یہ تھا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے قاتلینِ عثمانؓ کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے جبکہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا مؤقف یہ تھا کہ حضرت عثمان بن عفانؓ کے قتل میں میرا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ میں نے بلوائیوں کو ہر چند سمجھانے کی کوشش کی تھی اور میرے بیٹے قصرِ عثمانؓ کا پہرا دیتے رہے ہیں۔

17 رمضان المبارک 40 ہجری کو ایک خارجی عبد الرحمٰن بن ملجم نے حضرت علی المرتضٰیؓ پر تلوار سے وار کیا جس کے نتیجے میں آپؓ شدید زخمی ہو گئے اور 21 رمضان المبارک 40 ہجری کو جامِ شہادت نوش فرمایا۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے سیدنا حسنؓ نے حضرت امیر معاویہؓ سے صلح کر کے خلافت ان کے سپرد کر دی۔ اس سال کو تاریخِ عرب میں عام الجماعۃ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ سال ہے کہ جس میں امت کا شیرازہ پھر مجتمع ہوا اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے ایک خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

چنانچہ علامہ ابنِ حجر مکیؒ فرماتے ہیں: 

صحیح اور حق بات یہ ہے کہ حضرت حسنؓ کی صلح کے بعد سیدنا معاویہؓ کے خلافت صحیح معنوں میں ثابت ہے اور اس کے بعد وہ خلیفہ حق اور امام صادق ہیں۔ 

(الصواعق المحرقہ: صفحہ، 216)

بلاشبہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تاریخ اسلام کے سب سے بڑے مسلم حکمران تھے۔ آپؓ نے 19 سال تک نصف سے زائد دنیا یعنی 64 لاکھ 65 ہزار مربع میل کے وسیع و عریض رقبہ پر اسلامی حکومت قائم کی۔

فتوحاتِ معاویہؓ پر ایک نظر:

سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ کے زمانہ میں بے شمار علاقے فتح کیے۔ فتوحات کا وہ سلسلہ جو سیدنا عثمان غنیؓ کی شہادت کے بعد رک گیا تھا، سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے دور خلافت میں اس کو دوبارہ جاری کیا۔ اپنے بہترین کمانڈر عقبہ بن نافعؓ کے توسط سے 41 ہجری میں شمالی افریقہ کے ایک وسیع علاقے کو اسلامی سلطنت میں شامل کیا۔ آپؓ کے جرنیل مہلب بن ابی صفرؓ نے 44 ہجری میں سندھ اور ترکستان کے علاقوں پر اسلامی پرچم لہرایا۔ پھر اپنے صاحبزادے یزید بن معاویہ کی زیرِ قیادت قسطنطنیہ پر حملہ کروایا۔

53 ہجری میں بحری لڑائی کے ذریعے آپؓ کے جرنیل جنادہ بن امیہؓ نے روڈس فتح کیا۔

54 ہجری میں قسطنطنیہ کے قریب اروارڈ نامی جزیرے کو اسلامی حکومت میں داخل کیا۔

علامہ خیر الدین زرکلی کہتے ہیں:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے مسلمان ہیں جنہوں نے بحرِ روم کو اپنے جہازوں کی بازی گاہ بنایا۔ آپؓ کے عہد میں یونان کے بے شمار جزیرے اور درہ دانیال وغیرہ علاقے فتح ہوئے۔

(الاعلام: جلد، 8 صفحہ، 173 الفتوحات الاسلامیہ: جلد، 2 صفحہ، 98)

رعایا سے بہترین سلوک:

سیدنا امیر معاویہؓ نے ملک میں رعایا کی خوشحالی اور آرام کے لیے مختلف اصلاحات نافذ کیں۔ چنانچہ علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

صفحہ 2 از 3