سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

  نقیہ کاظمی

صفحہ 3 از 3

آپؓ (معاویہؓ) کے زمانہ میں دشمن کے ممالک میں جہاد کا سلسلہ جاری تھا۔ اللہ کا کلمہ بلند تھا۔ غنیمتیں زمین کے سب گوشوں سے سمٹ کر آپؓ کے پاس آتی تھیں اور مسلمان آپؓ کے دورِ خلافت میں عدل و انصاف اور راحت و آرام کے ساتھ اپنی زندگی کے دن گزارتے تھے۔

(البدایہ و النہایہ: جلد، 8 صفحہ، 188)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا اپنی رعایا سے سلوک بہترین حکمرانوں کا تھا اور آپؓ کی رعایا آپؓ کو دل دل و جان سے چاہتی تھی۔

(منہاج السنہ: جلد، 3 صفحہ، 189)

دار الفناء سے دار البقاء کی طرف:

60 ہجری میں جب سیدنا معاویہؓ کی عمر کا اٹھتّرواں سال تھا۔ اسلامی حکومت کی سرحدیں 64 لاکھ 65 ہزار مربع میل رقبہ تک پھیل چکی تھیں۔ آپؓ کی طبیعت کچھ ناساز ہوئی ۔۔۔ اور طبیعت کی ناسازی مرض وفات میں تبدیل ہو گئی۔ یہاں تک کہ دمشق کے مقام پر 22 رجب المرجب 60 ہجری میں علم، حلم اور تدبر کا یہ آفتاب و ماہتاب آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون  آپؓ کی نمازِ جنازہ مشہور صحابی رسولﷺ حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ دمشق میں ہی بابِ صغیر میں آپؓ کی تدفین ہوئی۔


صفحہ 3 از 3