حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل…

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 1 از 7

 *حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق* 

 سیّدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جملہ مطاعن میں سے اس دور کے بعض لوگوں کو قتل کرنے کا طعن اعتراض کرنے والوں کی طرف سے آب و تاب کے ساتھ ذکر کیا جاتا ھے اور اس کی تمہیدی چیزوں میں یہ بیان کیا کرتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو مسئلہ شرعی ھے اس کی آزادی سلب کر لی گئی تھی اور لوگوں کی زبانیں حق بات کہنے سے روک دی گئی تھی، ان پر قفل چڑھا دیے گئے تھے. جو حق بات کہتا تھا اس کو بدترین سزا دی جاتی تھی. اس سلسلے میں حجر بن عدی کا قتل سرفہرست ذکر کیا جاتا ہے کہ ان کو حق بات کہنے پر ھ51 میں بلاجواز قتل کردیا گیا.

*جواب*
اس طعن کو صاف کرنے کے لئے ذیل میں چند چیزیں ذکر کی جاتی ہیں ان پر انصاف سے غور کر لینے کے بعد طعن مرتفع ہوسکے گا.
پہلے ھم حجر بن عدی کی شخصیت کے متعلق کچھ وضاحت کرنا چاہتے ہیں، اس کے بعد باقی متعلقہ امور ذکر کیے جائیں گے.

*حجر بن عدی*

حجر بن عدی بن جبل بن عدی کوفہ کے قبیلہ کندہ کے رؤساء میں سے تھے. ان کو حجر الخیر اور حجر بن الادبر بھی کہتے تھے. بعض مؤرخین اور علماء نے حجر بن عدی کو صحابہ کرام میں شمار کیا ہے اور لکھا ھے کہ یہ اپنے بھائی ہانی بن عدی کے ساتھ نبی اقدس (صلہ اللہ علیہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ وہ عابد و زاہد تھے اور جمہور علماء مثلاً امام بخاری رحمہ اللہ ، ابن ابی حاتم رحمہ اللہ، خلیفہ ابن خیاط رحمہ اللہ اور ابن حبان رحمہ اللہ وغیرہ نے ان کو تابعین میں شمار کیا ہے.
ابن کثیر (رحمہ اللہ) نے یہ بات ذکر کی ھے کہ

((قال ابو احمد العسکری اکثر المحدثین لا یصححون له صحبة)).

نمبر ١.الاصابہ (ابن حجر) ص٣١٣ ج١تحت حجر بن عدی
نمبر٢ البدایہ (ابن کثیر) ص ٥٠ ج ٨ تحت سنہ ٥١ھ.

"یعنی ابو عسکری (رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ اکثر محدثین حجر بن عدی کے صحابی رسول ﷺ ہونے کو صحیح قرار نہیں دیتے.
آپ جنگ قادسیہ میں شامل ہوئے تھے اور حضرت علی المرتضی (رضی اللہ عنہ) کی حمایت میں صفین کی حروب میں بھی شامل ہوئے. آپ کا شمار حضرت علی المرتضی (رضی اللہ عنہ) کے خاص حامیوں میں ہوتا تھا.
آپ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے نظریاتی طور پر سخت خلاف تھے. کوفہ سبائی پارٹی کا خصوصی مرکز تھا. حکومت کے خلاف ان کی سازشوں اور فتنہ پردازیوں سے متاثر تھے ان میں حجر بن عدی نمایاں حیثیت رکھتے تھے اور فتنہ انگیز پارٹی کے اثرات سے کافی متاثر بلکہ مغلوب تھے. علماء نے لکھا ہے کہ حجر بن عدی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ عذرا کے مقام پر شعبان 51ھ میں قتل کیے گئے۔
*خلیفہ وقت کی مخالفت*
جب حضرت علی المرتضی اور حضرت امام حسن رضی اللہ عنہم کا دور خلافت گزر گیا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا دور آیا تو حجر بن عدی کے نظریات میں خاصا تصلب واقع ہو چکا تھا. امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے امیر مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہ) جب خطبہ دیتے تو یہ لوگ ان کے خلاف تشدد اور سخت کلامی کے ساتھ پیش آتے لیکن حضرت مغیرہ (رضی اللہ عنہ) اپنی قوت برداشت اور حلم کی بنا پر درگزر فرماتے اور مناسب فہمائش کرتے کہ امیر وقت کے ساتھ معارضہ کرنا درست نہیں مگر حجر بن عدی اپنے تشدد سے باز نہیں آتے تھے۔
*مسئلہ عطا پر نقد*
بعض دفعہ لوگوں کو وظائف کی ادائیگی میں تاخیر ہو جاتی تو حجر بن عدی حضرت مغیرہ (رضی اللہ عنہ) کی مذمت میں اٹھ کھڑے ہوتے. اور جب بعض لوگوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہ) کو حجر بن عدی پر سختی کرنے کے لئے کہا کہ یہ مسلمانوں کے اتفاق کی لٹھ توڑنا چاہتے ہیں اور امیر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو پھر بھی حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوئی سزا نہیں دی اور ان سے درگزر فرمایا۔

*بیت المال کے اموال پر معارضہ*

مؤرخین لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے والِئ کوفہ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہ) کو لکھا کہ بیت المال سے کچھ مال یہاں دارالخلافہ بھیج دیا جائے. چنانچہ جب حضرت مغیرہ (رضی اللہ عنہ) یہ مال بھیجنے لگے تو حجر بن عدی معارضہ کرتے ہوئے ان سواریوں کی لگام پکڑ کر مال روکنے پر اتر آئے اور کہنے لگے کہ یہاں حق والوں کا حق ادا کیا جائے. اس موقع پر بھی حضرت مغیرہ (رضی اللہ عنہ) نے حسب معمول سختی نہیں کی اور عفو و درگزر سے کام لیا۔
نمبر١ مستدرک حاکم ٤٦٩ج ٣
نمبر ٢ البدایہ (ابن کثیر) ص ٥٠ ج ٨ تحت حالات سنہ 51ھ.
بعد میں حضرت مغیرہ بن شعبہ (رضی اللہ عنہ)  50ھ میں وفات پا گئے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد بن ابیہ کو کوفہ اور بصرہ دونوں کا والی مقرر فرمادیا۔ حجر بن عدی اپنی سابقہ رَوِش کے مطابق زیاد بن ابیہ والِئ کوفہ و بصرہ کے خطبات پر بھی تنقید اور معارضہ کرنے لگے اور حکومت کے نظم کے معاملات میں دخیل ھونے لگے. 

*والِئ کوفہ پر کنکر پھینکنا*

ایک روز زیاد بن ابیہ کوفہ میں خطبہ دینے لگا، اس مقام پر حجر بن عدی اپنی جمعیت کے ساتھ موجود تھے اور ہتھیار لگا کر آئے تھے. زیاد نے خطبہ دیا اور حمد و ثنا کے بعد دیگر چیزوں کے علاوہ امیر المومنین کے حقوق کا ذکر کیا. اس مسئلے پر حجر بن عدی کو اختلاف تھا اس نے زیاد پر کنکر پھینکے اور کہا کہ تم جھوٹ بولتے ھو، تم پر اللہ کی لعنت ھے.

((و جعل زياد في خطبة ان من حق امير المؤمنين يعنى كذا و كذا فاخذ حجر كفا حصباء فحصبه و قال كذبت عليك لعنة الله))

*حجر بن عدی اور اس کے رفقاء کا رویہ*

ابن کثیر (رحمة اللہ علیہ) نے البدایہ والنہایہ میں ابن جریر طبری کے حوالے سے اس جمعیت کی شورشوں اور فتنہ پردازیوں کو متعدد بار ذکر کیا ہے اور ایک مقام پر اس چیز کو باالفاظ ذیل نقل کیا ھے.

((انهم كانوا ينالون من عثمان و يطلقون فيه مقا لة الجور و يتقدون على الامراء و يسارعون في الانكار عليهم، و يبالغون في ذالك ويتولون شيعة علي ويتسدون في الدين)).

صفحہ 1 از 7