حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل…

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 2 از 7

مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں اعتراض کرتے تھے اور ان کے حق میں جود و ظلم منسوب کرتے تھے. وہ امراء و حکام کی سخت عیب جوئی کرتے تھے اور ان پر انکار کرنے میں جلد بازی کرتے تھے اور اس معاملے میں غلو کرتے تھے، شیعان علی کی دوستی کا دم بھرتے تھے اور دین کے معاملات میں تشدد اختیار کیے ہوئے تھے. گویا اس جماعت کے طریق کار کو بطور نمونہ ذکر کیا ھے ان کے کارناموں کی مزید تشریح آئندہ سطور میں آرہی ھے. اس سلسلے میں معارضہ کے واقعات کو زیاد نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بصورت مکتوب لکھا۔

نمبر ١ البدایہ (ابن کثیر) ص ٥٠ ج ٨ تحت سنہ ٥١ھ.

نمبر ٢ البدایہ (ابن کثیر) ص ٥١ ج ٨ تحت سنہ ٥١ھ.

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا کہ حجر بن عدی اور شورش میں شامل اس کے دیگر ساتھیوں کو گرفتار کرکے یہاں دمشق بھیج دیا جائے.

چنانچہ زیاد نے ان لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے چند آدمی بھیجے تو حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں نے پتھروں اور ڈنڈوں سے ان کا پورا پورا مقابلہ کیا. مگر زیاد کے آدمی انھیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوگئے اور زیاد نے انہیں دس دن اپنے پاس حراست میں رکھا. پھر اس کے بعد ان کو خلیفہ وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا اور ان کے ساتھ ایک جماعت کو بھیجا جو گواہی دیتے تھے کہ :

1) حجر بن عدی نے خلیفہ وقت پر سب و شتم کیا ھے.

2) امیر وقت کے ساتھ محاربہ قائم کیے ہوئے ہیں.

3) یہ کہتے ہیں کہ امارت اور خلافت آل ابی طالب کے علاوہ کسی کے لئے درست نہیں.

((انه سب الخليفة وانه حارب الامير وانه يقول ان هذا لامرلايصلح الا في آل على بن ابى طالب))

ان واقعات کے لئے جو شہادت زیر تحریر لائی گئی تھی ابن جریر طبری نے اس کو باالفاظ ذیل درج کیا ھے.

((ان حجرا جمع اليه الجموع واظهر شتم الخليفة ودعا الى حرب أمير المؤمنين وذعم ان هذا الامر لا يصلح الا فى آل ابى طالب و وئب المصر وأخرج عامل امير المؤمنين وأظهر عذرا أبى تراب والترجم عليه والبراءة من عدوه واهل حربه وان هؤلاء النفر الذين معه هم رءوس أصحابه و على مثل رأيه وأمره)).

مطلب یہ ہے کہ ان اکابر لوگوں نے شہادت دی کہ حجر بن عدی نے اپنے گرد ایک جمعیت جمع کر رکھی ہے، خلیفہ وقت کو سب وشتم کرتے ہیں، امیر المومنین کے خلاف قتال کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آل آبی طالب کے علاوہ کسی کے لیے امارت و خلافت درست نہیں، اور شورش کھڑی کر کے امیر المومنین کے حاکم و عامل کو شہر سے نکال دیا ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی معذوری ظاہر کرکے ان کے ساتھی ہیں یہ ان کی جماعت کے سربرآور وہ لوگ ہیں، حجر بن عدی اور ان کی جماعت کی ایک رائے ہے اور ایک ہی نظریہ کے حامل ہیں.

نمبر ١. البدایہ (ابن کثیر) ص٥١ھج٨تحت سنہ ٥١ھ(حالات قتل حجر بن عدی)

نمبر ٢.تاریخ طبری ص ١٥٠ج٦تحت سنہ ٥١ھ حالات واقعہ ہذا.

اور اس شہادت کو ابن خلدون نے باالفاظ ذیل درج کیا ھے.

((افشهدو كلهم ان حجرا اجتمع الجموع واظهر شتم معاويه ودعا الى حربه وزعم ان الامر لا يصلح الا فى الطالبين)).

مختصر یہ ہے کہ حجر بن عدی اور ان کی سبائی پارٹی اس وقت کے نظام حکومت اور انتظامی خلافت کو الٹ کر کوئی دوسرا اقتدار قائم کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے اور لوگوں کو اس تحریک میں شامل ھونے کی دعوت دیتے تھے. گویا اسلام کی متفقہ قوت میں پھر انتشار ڈالنا ضروری سمجھتے تھے.

*ارسال شہادات اور اس کے نتائج*

ان حالات کے تحت زیاد نے اس معاملے کے متعلق ان شہادتوں کو مرتب کرکے مرکزی حکومت کو ارسال کرنا ضروری خیال کیا تھا.

چنانچہ گزشتہ واقعات پر شہادت دینے والے ستر افراد میں درج ذیل شاہدین شامل تھے (جن میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین اور بعض تابعین کرام رحمہم اللہ عنہم ہیں).

ابوہریرہ بن ابی موسیٰ، وائل بن حجر، عمرو بن سعد بن ابی وقاص، اسحاق و اسمعیل و موسی فرزندان طلحہ بن عبیداللہ منذر بن کثیر بن شہاب اور ثابت بن ربعی وغیرھم.

یہ شہادتیں مرتب کر کے زیاد بن ابیہ والِئ کوفہ و بصرہ نے خلیفہ وقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں سمیت ارسال کیں اور ساتھ ہی مذکورہ ستر شاہدین میں سے کچھ افراد کو بھی خلیفہ کے سامنے براہ راست شہادت پیش کرنے کےلئے دمشق بھیجا. ان میں سے وائل بن حجر اور کثیر بن شہاب مشہور ہیں۔

چنانچہ حجر بن عدی اپنے ساتھیوں سمیت مذکورہ شاہدین کے ہمراہ پیش ہوئے اور مرتب شدہ شہادتیں بھی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کی گئیں. آپ نے مرتب شدہ شہادتیں ملاحظہ کرنے اور شاہدین سے براہ راست شہادت لینے کے بعد جرم ثابت ہونے پر حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کو عذرا کے مقام (جو دمشق کا ایک قریہ ھے) پر لے جا کر قتل کرنے کا حکم صادر کیا۔

لہٰذا خلیفہ وقت کے احکام کے مطابق حجر بن عدی، شریک بن شداد، صیفی بن فسیل، قبیصہ بن ضبیعہ، محرز بن شہاب منکری اور کدام بن حبان، ان چھ افراد کو عذرا کے مقام پر لے جاکر قتل کردیا گیا۔

حجر بن عدی کے بعض دیگر ساتھیوں کا معاملہ قتل کی سزا تک نہیں پہنچا تھا اور بعض مزید عوارض بھی پیش نظر ہونگے لہٰذا ان کو سزا نہیں دی گئی اور آزاد کردیا گیا.

نمبر ١ تاریخ ابن خلدون ص ٢٦ج٣ق اول (تحت واقعات ہذا) طبع بیروت.

نمبر ٢.البدایہ والنہایہ (ابن کثیر) ص٥٢ج٨تحت واقعہ ہذا سنہ ٥١ھ.

*ازالہ شبہات*

واقعہ ہٰذا میں معترضین نے بہت کچھ شبہات پیدا کردیے ہیں جن میں سے ضروری شبہات کا ازالہ کرنا مناسب خیال کیا گیا ہے. چنانچہ اس کے متعلق ذیل میں چند امور پیش کیے جاتے ہیں. طعن کرنے والے احباب حجر بن عدی وغیرہ کے قتل کو بلا جواز شرعی ظلماً قتل کیا جانا شمار کرتے ہیں اور ان کے قول کے مطابق یہ مقتولین اس وقت حق گوئی کرتے تھے اور والیوں کے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے تھے، اس سے زیادہ کچھ نہیں. بقول معترضین یہ لوگ خلیفہ وقت کے خلاف باغی نہ تھے اور بغاوت کی تعریف ان پر صادق نہیں آتی.

*ازالہ*

صفحہ 2 از 7