حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل…

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 3 از 7

حقیقت واقعہ اور ان لوگوں کے مقاصد کی وضاحت معلوم کرنے کے لیے تاریخوں میں مفصل مواد موجود ہے جس میں مؤرخین نے ان کے خلیفہ وقت کے خلاف نظریات کو برملا طور پر ذکر کردیا ہے. گزشتہ حوالہ جات میں ابن جریر، ابن کثیر، ابن خلدون کی عبارات بلفظہٖ نقل کر دی گئی ہیں جو ان لوگوں کے نظریات کی پوری طرح آئینہ دار ہیں.

اسی طریق سے بے شمار مؤرخین نے یہ بات واضح کردی ھے کہ مسلمانوں کا اس وقت ایک خلیفہ اسلام پر اتفاق ھوگیا تھا اور ہاشمی حضرات سمیت اکابرین وقت نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرکے امت کے اختلاف و افتراق کو ختم کردیا تھا. اس طریقہ سے اسلام کی ایک نئی شیرازہ بندی ھوگئی تھی، اسلامی حکومت کا نظام ایک مرکز کے تحت قائم ھو گیا تھا. اب ان حالات میں مسلمانوں کی اس اجتماعی قوت اور مرکزی طاقت کو ختم کرنے کے لیے یہ ایک گونہ سبائی پارٹی کی طرف سے تحریک تھی جو کسی طرح جائز نہیں تھی اور اس میں افتراق پیدا کرنے کا شرعاً کوئی جواز نہ تھا.

اسلام میں اطاعت امیر واجب ھے اور اس کے خلاف کرنا شرعاً منع ھے نبی اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) کی احادیث میں امت میں اتفاق قائم رکھنے اور افتراق سے بچنے کی بڑی تاکید آئی ھے حتّیٰ کہ بعض جگہ افتراق جماعت پر وعیدیں مذکور ہیں. چنانچہ چند ایک ارشادات نبوی ﷺ یہاں نقل کیے جاتے ہیں.

(1) ((عن اسامة بن زيد (رض) قال قال رسول الله (ص) من فرق بين امتى وهم جميع فاضربوا رأسه كائنا من كان)).

یعنی نبی اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا :درآں حالے کہ امت مجتمع ھے پھر ان کے درمیان کوئی تفریق کھڑی کرتا ھے تو اس کا سر اڑادو خواہ وہ کوئی بھی ہو.

نمبر ١.مصنف ابن ابی شیبہ ص ١٠١ج١٥کتاب الفتن طبع کراچی.

 

(2) ((عن عرفجة (رض) قال سمعت رسول الله (ص) يقول انه سيكون هنأت هنأت فمن اراد ان يفرق امر هذه الامة وهى جميع فاضربوه بالسيف كائنا ما كان.))

عرفجہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب نبی اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا آپ فرماتے تھے کہ عنقریب کئی شر و فساد ھوں گے. پس جو شخص اس امت کے اجتماع میں تفریق ڈالے اسے تہہ و تیغ کر دو خواہ وہ کوئی بھی ہو.

اس نوع کے بہت سے فرامین نبوی ﷺ احادیث میں موجود ہیں. حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا فرامین نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی روشنی میں یہ اقدام کرنا ضروری سمجھا.

*شیعہ روافض کی طرف سے اس مسئلے کی تائید*

شیعہ روافض کے قدیم ترین مؤرخ ابو حنیفہ احمد بن داؤد دینوری شیعی (المتوفی ٢٨٢ھ) نے مسئلہ ہٰذا کے متعلق چند تصریحات ذکر کی ہیں جو اس مرحلے کے واقعات کو صاف کرنے میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں. وجہ یہ ہے کہ شیعہ لوگ حجر بن عدی و عمرو بن حمق وغيرہ مقتولین کے حامی ہیں اور ان کو بہتر سمجھنے والے ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ہیں، لہٰذا ان لوگوں کے بیانات ان واقعات میں ضرور قابل توجہ ہیں۔

بنا بریں ھم ناظرین کرام کی خدمت میں ان چیزوں کو ایک ترتیب کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جو منصف طبائع کےلئے حقیقت واقعہ معلوم کرنے میں مفید ھوں گے اور اختلاف کھڑا کرنے والی جماعت کا پس منظر معلوم کرنے میں معاون ھونگی:

(1) ایک تو حضرت علی المرتضی (رضی اللہ عنہ) کے فرمودات۔

(2) دوسرے سیدنا حسن (رضی اللہ عنہ) کے اقوال۔

(3) اور تیسرے نمبر پر سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے ارشادات ہیں۔

اب علی الترتیب ان مندرجات پر بغور نظر فرمائیں :

*(١)حضرت علی (رضی اللہ عنہ)کے فرمودات*

(١) شیعہ مورخ احمد بن داؤد ابوحنیفہ دینوری شیعی اپنی مشہور تصنیف اخبار الطوال میں ذکر کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی (رضی اللہ عنہ) کے خاص طرفداروں میں سے حجر بن عدی اور عمرو بن حمق وغیرہ (حضرت) امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کو برملا سب و شتم اور لعن طعن کرتے تھے. جب یہ چیز حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) کو معلوم ہوئی.

نمبر ١.مشکوة شريف ٣٢٠ باب الامارة بحوالہ مسلم شریف۔

مسلم شریف ص١٢٨ج٢باب و جوب ملازمتہ جماعتہ المسلمین......... الخ۔

تو جناب مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف اپنا فرستادہ بھیج کر یہ فرمان جاری کیا کہ سب وشتم اور لعن طعن سے آپ لوگ باز آجائیں. اس پیغام کے بعد وہ دونوں حضرات حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے امیرالمؤمنین! کیا ھم حق پر اور وہ باطل پر نہیں ھے؟ جناب مرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم یہ بات بالکل درست ہے. پھر وہ کہنے لگے کہ آنجناب ان کو سب وشتم اور لعن طعن کرنے سے ہمیں کیوں منع کرتے ہیں؟ تو جناب مرتضیٰ (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا میں تمہارے سب وشتم اور لعن طعن کرنے کو مکروہ جانتا ھوں لیکن تم لوگوں کو دعا کرتے ہوئے یوں کہنا چاہیے کہ اے اللہ. ھم دونوں فریق کو خون ریزی سے بچالے اور ہمارے اور ان کے درمیان اصلاح فرما دے اور ان کو بھٹک جانے سے ہدایت فرما. حتیٰ کہ جو حق سے ناواقف ہے وہ حق بات کو پہچان لے اور نزاع کھڑا کرنے والا سخت جھگڑے سے باز آجائے.

((و بلغ عليا ان حجر بن عدى و عمرو بن الحمق يظهر ان شتم معاوية ولعن اهل الشام، فارسل اليها ان كفا عما يبلغني عنكما فاتياه فقالا يا أمير المؤمنين ألسنا على الحق، وهم على الباطل؟ قال بلى ورب الكعبة المسندنة قالوا :فلم تمنعنا من شتعهم و لعنهم؟ قال كرهت لكم ان تكونوا شنامين لعانين ولكن قولوا اللهم احقن دماءنا و دماءهم واصلح ذات بيننا و بينهم واهدهم من ضلالتهم حتى يعرف الحق من جهله ويرعوى عن الغى من لجج به)).

اسی طرح شیعوں کا دیگر قدیم مؤرخ جو خالص رافضی ھے اور دینوری سے بھی سابق دور کا آدمی ھے یعنی نصر بن مزاحم منقری المتوفی ٢١٢ھ نے حضرت علی المرتضی (رضی اللہ عنہ) کے مذکورہ فرمان کو اپنی سند کے ساتھ اپنی تصنیف وقعتہ الصفین میں مفصل طور پر درج کرتا ھے. چونکہ ان دونوں دینوری و منقری کی روایات کا مضمون و مفہوم ایک ہی ھے اس لئے منقری کی روایت کی عبارت کو ترک کرکے صرف حوالہ پر اکتفا کیا ھے.

(٣) حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) کا یہ فرمان نہج البلاغہ میں بھی مذکور ھے. چند الفاظ کا جزوی فرق پایا جاتا ھے باقی مضمون ایک ہی ہے.

صفحہ 3 از 7