حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل…

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 4 از 7

ناظرین کرام پر واضح رہے کہ حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) کا یہ فرمان قبل ازیں ہماری کتاب مسئلہ.

نمبر ١.اخبار الطوال (دینوری شیعی) ص ١٦٥ طبع مصر (تحت واقعات صفین)۔

وقعتہ الصفین (نصر بن مزاحم منقری) ص ١١٥ طبع مصر تحت نصحیتہ علی الحجر بن عدی و عمروبن حمق۔

(٢) نہج البلاغہ ج ١ص ٤٢٠ تحت من کلام لہ (ع) فی النہی عن سب اہل الشام.

اقربانوازی ص ١٨٥.١٨٦ میں درج ھو چکا ہے. البتہ منقری کے حوالہ کا یہاں اضافہ کیا گیا ہے. حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) کے اس بیان سے جسے قدیم شیعہ مؤرخین دینوری و منقری وغیرہ نے نقل کیا ہے.

یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ

(1) جناب علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہل شام کو سب وشتم اور لعن طعن کرنے کے روادار نہیں تھے اور باوجود سیاسی اختلافات کے اس طریق کار کو مکروہ و مبغوض جانتے تھے. حجر بن عدی اور عمرو بن حمق وغیرہ جب ان چیزوں کا ارتکاب کرتے تو حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) أن کو اس طريق کار سے برملا منع فرماتے اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار فرماتے تھے.

بلکہ ان کو حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے تعلیم و تلقین ہوتی تھی کہ فریق مقابل کے حق میں صلح و مصالحت کے لئے دعائیں مانگیں اور حق بات کے قبول کرنے کے لیے ہدایت کی اللہ جل شانہٗ سے استدعا کریں.

(٢) نیز ان لوگوں کی سرشت میں تشدد اور تفرق کے جذبات یہاں سے ظاہر ہوتے ہیں اور خصوصاً حجر بن عدی اور عمرو بن حمق وغیرہ کے متشددانہ رجحانات کا اندازہ ھوتا ھے کہ یہ لوگ ابتدا ہی سے ان مسائل میں سخت ترین رَوِش اختیار کیے ہوئے تھے جو خود حضرت علی المرتضٰی (رضی اللہ عنہ) کے منشاء و مقصد کے خلاف تھی اور ان کی تعلیم و تلقین کے بر عکس تھی.

*(٢) سیدنا امام حسن (رضی اللہ عنہ) کے ارشادات*

اب ذیل میں ھم سیدنا امام حسن (رضی اللہ عنہ) اور حجر بن عدی کا ایک مکالمہ شیعہ مؤرخین کی زبان سے مختصراً نقل کرتے ہیں :

(١) جب سیدنا حسن (رضی اللہ عنہ) نے حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ مسئلہ خلافت میں مصالحت کرلی اور منصب خلافت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپُرد کردیا اور ان سے اس امر پر بیعت کرلی تو اس وقت حجر بن عدی حضرت امام حسن (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں پہنچے اور آپ کو اس فعل پر شرم و ندامت دلائی اور ملامت کرنے لگے اور تقاضا کیا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس معاملہ میں جنگ و قتال کرنا چاہئے اور مزید کہنے لگے کہ یہ معاملہ آپ نے ایسا کردیا ھے کہ مجھے اس واقعے سے پہلے موت آجاتی تو بہتر ھوتا. اے حسن! آپ نے ہمیں عدل سے نکال کر ظلم کی طرف ڈال دیا ہے اور ہم حق کو چھوڑ کر باطل میں داخل ہوگئے ہیں جس سے ھم بھاگنا چاہتے تھے. آپ کی وجہ سے ھمیں وہ خست اور ناءت نصیب ھے جو ہمارے لائق نہیں تھی.

((وكان أول من لقى الحسن بن على ما صنع و دعاه الى ردا الحرب حجر بن عدى. فقال يابن رسول الله لوددت انى مت قبل ما رأيت اخر جتنا من العدل الى الجور فتركنا الحق الذي كنا عليه و دخلنا في الباطل الذي كنا نهرب منه واعطينا و قبلنا الخسيسة التى لم تلق بنا))

اس مکالمہ کا حاصل یہ ہے کہ حجر بن عدی اس صلح کو کسی قیمت پر قبول نہیں کرتے تھے. اور وہ امام حسن (رضی اللہ عنہ) کو اس فعل پر ملامت کرتے تھے اور ندامت دلاتے تھے اور کہتے تھے کہ آپ نے بڑا ظلم کیا ھے، حق کو چھوڑ کر باطل کو اختیار کر لیا ھے حجر بن عدی حضرت حسن (رضی اللہ عنہ) کو صلح کے مقابلے میں جنگ و قتال کھڑا کرنے کی دعوت دیتے اور اس پر آمادہ کرتے تھے.

(٢) اس کے بعد یہ شیعہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ حضرت امام حسن (رضی اللہ عنہ) کو حجر بن عدی کا کلام نہایت شاق گزرا اور سخت ناگوار ھوا. چنانچہ سیدنا حسن (رضی اللہ عنہ) اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کی بڑی خواہش صلح میں دیکھی ھے اور وہ جنگ کو مکروہ جانتے تھے. اس لئے میں نے یہ بات پسند نہیں کی کہ ان کو مکروہ بات پر برانگیختہ کروں. ان حالات میں اپنے ساتھیوں کے قتل و قتال سے بچاؤ کی خاطر میں نے صلح کرلی ھے اور میں نے جنگ وجدال کو ایک وقت تک موقوف کردیا ہے.

((فاشثد على الحسن (رض) كلام حجر، فقال له انى رأيت هوى عظم الناس فى الصلح و كرهوا الحرب، فلم احب ان احملهم على ما يكرهون، فصالحت بقيا على شيغتنا خاصة من القتل، فرأيت دفع هذه الحرب الى يوم ما فان الله كل يوم هو شان)).

یہاں سے معلوم ہوا کہ حضرت امام حسن (رضی اللہ عنہ) کو حجر بن عدی کے متشددانہ و متحاربانہ نظریات ناگوار تھے اور ان کی اپنی رائے اس معاملہ میں دوسری تھی یعنی وہ فساد و انتشار کے بجائے مسلمان قوم میں صلح جوئی اور مصالحت کو پسند فرماتے تھے.

*(٣) *سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے فرمودات*

شیعہ مؤرخین لکھتے ہیں کہ مذکورہ بالا مکالمہ اور گفتگو کے بعد حجر بن عدی، عبیدہ بن عمرو کے ہمراہ اپنے مخالفانہ نظریات کے مطابق حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں پہنچے اور کہنے لگے کہ تم نے عزت دے کر ذلت خریدلی ہے اور تم نے کثیر کو چھوڑ کر قلیل کو قبول کرلیا ہے. آج آپ اہل زمانہ کی نافرمانی کرکے ہماری بات تسلیم کیجئے اور اپنے بھائی حسن (رضی اللہ عنہ) کو بھی چھوڑیۓ اور جو کچھ انھوں نے صلح کررکھی ہے اسے جانے دیجئے.

نمبر ١) أخبار الطول (دینوری  شیعی) ص ٢٢٠ تحت زیاد بن ابیہ طبع اول مصر.

نمبر ٢) أخبار الطوال (دینوری شیعی) ص ٢٢٠ تحت زیاد بن ابیہ.

میں اہل کوفہ وغیرہ میں سے آپ کے شیعوں اور خیر خواہوں کو جمع کرکے آپ کی خدمت میں لاتا ہوں، مجھے آپ اس معاملہ پر والی بنائیے تاکہ ھم ابن ہند (معاویہ رضی اللہ عنہ) کے ساتھ تلواروں سے جنگ وقتال کریں.

((قال فخرج من عنده ودخل على الحسين (رض) مع عبيدة بن عمرو فقالا ابا عبدالله شريتم الذل بالعز و قبلتم القليل و تركتم الكثير اطعنا اليوم اعصينا الدهر دع الحسين وما رأى من هذا الصلح واجمع اليك شيعتك من اهل الكوفة و غيرها وولني و صاحبى هذه المقدمة فلا يشعر ابن هند الا ونحن نقارعه بالسيوف)).

صفحہ 4 از 7