حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل…

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 5 از 7

اس کے جواب میں سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے حجر بن عدی اور عبیدہ بن عمرو کی اس تلخ گفتگو اور قتال پر آمادہ کرنے والے کلام کے جواب میں فرمایا :ھم امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرچکے ہیں اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرچکے ہیں، اب اس بیعت کے توڑنے کا کوئی راستہ نہیں ھے.

((فقال الحسين انا قد بايعنا و عاهدنا ولا سبيل ااى نقض بيعننا))

حضرت سیدنا حسین (رضی اللہ عنہ) کے فرمان کا حاصل یہ ہے کہ اہل اسلام میں مصالحت ھوچکی ھے، اب اس معاہدہ صلح کی عہد شکنی کرکے پھر قتال بین المسلمین زندہ کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا، اب ھم سے معاہدہ کا خلاف نہیں ھوسکتا.

مختصر یہ ھے کہ مسئلہ (ظلماً قتل) پر پہلے مشہور مؤرخین طبری، ابن کثیر اور ابن خلدون وغیرہ کے بیانات ھم نے پیش کیۓ ہیں ان میں اس گروہ کے نظریات اور جارحانہ اقدامات واضح طور پر سامنے آ گئے ہیں. اس جماعت کے سرکردہ لیڈران حجر بن عدی اور عمرو بن حمق تھے. ان لوگوں کی تمام جدوجہد مساعی و افتراقی نوعیت کی تھیں اور حرب وقتال کھڑا کرنے میں پیش پیش تھے.

پھر اس کے بعد ھم نے شیعہ کے اکابر مؤرخین کے بیانات درج کیے ہیں جن سے اصل مسئلے کی تائید مطلوب ہے. اور شیعہ کے مندرجات سے بھی یہ بات عیاں ھوتی ھے کہ جن اکابر علوی حضرات کا یہ خانگی مسئلہ تھا (حضرات حسنین کریمین (رضی اللہ عنہم) ان کے فرمودات و نظریات حجر بن عدی اور عمرو بن حمق وغیرہ کی جارحانہ رائے کے بالکل برعکس پائے جاتے تھے.

ان تمام امور پر نظر کرلینے کے بعد یہ چیز ثابت ھوتی ھے کہ حضرت امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے جو ان لوگوں کے قتل کا اقدام کیا ھے وہ حسب قواعد شرعی پوری شہادتیں حاصل کرنے اور جرم ثابت ھوجانے کے بعد کیا.

نمبر (١)أخبار الطول (دینوری شیعی) ص ٢٢٠ تحت زیاد بن ابیہ۔

نمبر ٢. اخبار الطول (دینوری شیعی)  ص ٢٠٠ تحت زیاد بن ابیہ طبع اول مصر۔

یہ کام خلاف شرع نہیں کیا اور نہ ظلماً قتل کیا  گیا ھے بلکہ اس کے لئے شرعی جواز کے اسباب و عوامل موجود تھے. یہ لوگ خلیفہ وقت کی نظروں میں فساد فی الارض کی سعی کررہے تھے اور اہل اسلام کے مرکزی وفاق اور اجتماعی قوت کو پارہ پارہ کرنا چاہتے تھے. یہ چیزیں بغاوت کی حدود میں آتی ہیں جن کے فرو کرنے میں خلیفة المسلمین بااختیار ھے۔

*اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ*

مؤرخین نے لکھا ہے کہ مرج عذرا کے مقام پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی اور اس کے چند ساتھیوں کو وجود قتل ثابت ہونے پر قتل کروادیا تھا. حجر بن عدی کے دو بیٹے عبداللہ اور عبدالرحمن تھے جو اپنے آپ کو متشیع کہتے تھے. یہ دونوں بھائی عبداللہ ابن زبیر (رضی اللہ عنہ) کی خلافت کے سخت خلاف تھے اور ان کی اطاعت تسلیم نہیں کرتے تھے اور ان کے خلاف بغاوت کی شورش برپا کیے ہوئے تھے۔

ابن تشبیہ لکھتے ہیں کہ اس بغاوت کی بنا پر ان دونوں بھائیوں کو عبداللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہ) کے بھائی مصعب بن زبیر نے قتل کر دیا تھا۔

((حجر بن عدى....... فقتله معاوية بمرج عذراء مع عدة وكان له ابنان متشبعان يعالى لها عبدالرحمن قتلهما مصعب بن زبير صبرا)).

مطلب یہ ہے کہ خلیفہ وقت کے خلافت بغاوت کرنے والوں کو ان کی شورش کی بنا پر قتل کردیا جاتا ہے. حجر بن عدی کا قتل جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا وہ ان دونوں بھائیوں کے قتل کے مشابہ ھے. اسلامی مملکت کی حفاظت کی خاطر اس نوع کے قتل تاریخ میں پائے جاتے ہیں.

*حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) کے تاثرات*

مؤرخین لکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب معلوم ہوا کہ حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کو خلیفہ وقت کے خلاف متشددانہ مساعی کی بنا پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے قتل کی سزا کا حکم صادر کیا گیا ھے تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ازراہ شفقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کی سزا معاف کرنے کے لئے قاصد بھیجا. لیکن جب حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان لے کر قاصد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاں پہنچا تو حجر بن عدی اور اس کے کچھ ساتھی پہلے ہی قتل ھوچکے تھے لہٰذا حضرت صدیقہ (رضی اللہ عنہ) کے فرمان کی رعایت نہ کی جاسکی. البدایہ میں ھے کہ

((و جا رسول عايشة بعد ما فرغ من شأنهم))

البدایہ (ابن کثیر) ص٥٤ج٨تحت سنہ ٥١ھ (حالات واقعہ ہذا)

تاریخ ابن خلدون ص ٢٩ج ٣ تحت بحث معاویہ العمال الی الامصارطبع بیروت.

جب یہ واقعہ رونما ہوچکا تو اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک بار مدینہ منورہ تشریف لائے اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا. دوران گفتگو حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کے قتل کا ذکر آیا.

اس مقام پر مؤرخین نے متعدد روایات اس گفتگو کے متعلق ذکر کی ہیں :

بعض روایات میں ھے کہ جب حضرت صدیقہ (رضی اللہ عنہا) نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے حجر بن عدی وغیرہ کے قتل کے سلسلے میں بطور شکوہ گفتگو کی تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا.

((لست انا قتلهم انما قتلهم من شهد علیھم))

یعنی میں نے ان لوگوں کو قتل نہیں کیا بلکہ جن لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی ھے انھوں نے قتل کیا ھے.

مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے قتل کا باعث اصل میں وہ شہادتیں ہیں جو ان کے خلاف حسب قاعدہ قائم ہوئیں اور ان گواہیوں کی بنا پر یہ نتیجہ مرتب ہوا.

(٢) ایک دوسری روایت میں ہے کہ

((قالت له حجرا فقال وجدت فى قتله صلاح الناس و خفت من فسادهم))

یعنی حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کیا آپ نے حجر بن عدی کو قتل کردیا؟ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ان کے قتل میں لوگوں کی بھلائی اور بہتری تھی، میں نے ان لوگوں کے شرور و فساد سے خوف کھایا (اس وجہ سے یہ اقدام کیا گیا)

اسی طرح ایک دیگر روایت اس طرح ھے کہ

((فلما حج معاوية (رض) قالت له عائشة (رض): ابن غاب عنك حلمك حين قتلك حجرا!؟ فقال حين غاب عنى مثلك من قومى))

نمبر ١. تاريخ ابن جرير طبرى ص ١٥٦ج٦تحت سنه ٥١ھ

سيرت حليه ص ١٩١ج٣تحت سرية الرجيع (حالات خبيب (رضی اللہ عنہ) کے آخر میں)

صفحہ 5 از 7