حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل…

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 6 از 7

نمبر ٢ تاریخ اسلام (ذہبی) ص ٢٧٦ج ٢ تحت حجر بن  عدی طبع اول مصر دول الاسلام (ذہبی) ص ٥٥ج٨تحت سنہ ٥١ ھ

البدایہ (ابن کثیر) ص ٥٥ج٨ تحت واقعہ ہذا سنہ ٥١ھ.

نمر٣. البدایہ والنہایہ ( ابن کثیر) ص ٥٤ج ٨ تحت واقعہ ہذا سنہ ٥١ھ

تاریخ ابن خلدون ص٢٩ج ٣ تحت بعث معاویہ العمال الی الامصار.

یعنی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حجر بن عدی کے قتل کے موقع پر اے معاویہ (رضی اللہ عنہ)! آپ کی حلم و بردباری کہاں غائب ھو گئی؟ تو حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے گزارش کی کہ مسلمان قوم میں سے جب آپ جیسی (خیر خواہ) شخصیت میرے پاس موجود نہ تھی اس بنا پر یہ واقعہ رونما ہوا۔

(٤) نیز اس پر یہ چیز بھی اہل روایات ذکر کرتے ہیں کہ جب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حجر بن عدی وغیرہ کے قتل سے متعلق گفتگو ہوئی اور حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اظہار افسوس کرتے ہوئے اہل عذراء کے قتل کا ذکر کیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے امت کی اصلاح ان لوگوں کے قتل میں دیکھی اور ان کی بقا میں امت کا فساد معلوم کیا، اس بنا پر یہ معاملہ پیش آیا۔

*تنبیہ*

مذکورہ بالا روایت کے بعض مقامات پر مندرجہ ذیل کلمات کا اضافہ پایا جاتا ہے :

((فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول سيقتل بعذرا ء ناس يغضب الله لهم واهل السماء))

یعنی حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا، آپ فرماتے تھے عنقریب عذراء کے مقام پر بعض لوگ قتل کئے جائیں گے. اللہ تعالیٰ اور آسمان والے ان کی وجہ سے غضبناک ھونگے.

ناظرین کرام اس اضافے کے متعلق یاد رکھیں کہ حافظ ابن کثیر (رحمہ اللہ علیہ) نے اس کے متعلق تحریر کیا ھے کہ  هٰذا اسناد ضعيف منقطع. یعنی یہ روایت راویوں کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ھے اور سلسلہ سند میں إنقطاع پایا جاتا ہے. یہ اضافہ کئی مقامات پر دستیاب ھوتا ھے. اس کے متعلق ناظرین کرام متنبہ رہیں کہ اصل روایت میں راویوں نے یہ جملہ الحاق کرکے اضافہ کردیا ہے. تاکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں مزید تقبیح پائی جائے اور تنفر قائم رہ سکے.

دیگر گزارش یہ ہے کہ اگر بالفرض مندرجہ بالا روایت کو علٰی سبیل التنزل درست تسلیم کر بھی لیاجائے تو علماء نے یہ تصریح کردی ھے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں اپنے فعل پر برملا معذرت کردی تھی اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان کی اس معذرت کو قبول فرمالیا تھا.

((وفى رواية...... فلم يزل يعتذر حتى عذرته وفى رواية فلما اعتذر إليها۔

نمبر ١. المعرفہ التاريخ (یسوی) ص ٣٢٠.٣٢١ ج ٣ تحت سنہ ٥١ھ۔

نمبر ٢ البدایہ ابن کثیر ص٥٥ج٨تحت سنہ ٥١ھ(بحث ہٰذا)۔

یہاں سے واضح ہے کہ اس طریقہ سے ان دونوں حضرات کا باہمی رنج وملال ختم ہوگیا تھا اور یہ باہم کشیدہ خاطر نہیں رہے تھے۔

روایت کے اعتبار سے

کلام مذکور بااعتبار روایت کے ذکر ہوا ہے۔

ذیل میں بااعتبار روایت یہ چیز ذکر کی جاتی ھے کہ اگر اہل عذراء کے قتل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اور اہل سماء ناراض ہیں (جیسا کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی روایت بالا میں مذکور ھے) تو پھر صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اہل عذراء کے قاتلین (حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے حکام) کے ساتھ روابط اور مراسم کیسے جاری رکھے؟ جب یہ لوگ اللہ کی طرف سے مغضوب تھے اور ظالم تھے اور حق سے تجاوز کرنے والے تھے.

حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلقات کے مستقل عنوان قائم کئے گئے ہیں اس کے تحت وہ مراسم مذکور ہیں. ھم بھی (ان شاء اللہ تعالیٰ) اس عنوان کو اسی تصنیف میں اپنے موقع پر ذکر کریں گے.

مختصر یہ ھے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ان افعال کے بعد ان سے تعلقات منقطع نہیں کیے اور بدستور سابق روابط قائم رکھے. اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ان کے وظائف وغیرہ جاری رہے اور حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا تازیست یہ وظائف وصول فرماتی رہیں. مزید تفصیلات اپنے موقع پر درج ھونگی. ان شاء اللہ تعالیٰ.

حاصل یہ ہے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی گفتگو سے یہ چیز ثابت ھوتی ھے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بطور شِکوہ کلام فرمایا اور اس واقعہ پر اظہار افسوس کیا اس قتل کو شرعاً ناجائز اور ظلم قرار نہیں دیا. یعنی ان کی خواہش تھی کہ حلم و بردباری کا برتاؤ کرتے ہوئے اہل عذراء کو معاف کردیا جائے. اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا مؤقف یہ تھا کہ انہوں نے امت میں ایک بہت بڑے قتال کے کھڑے ھونے سے قوم کو بچانا ضروری سمجھا اور فساد کی بیخ کنی کرنے کو لازم جانا، اس بنا پر درگزر نہیں کیا.

*ایک شبہ کا ازالہ برائے قول حسن بصری تابعی (رحمة اللہ علیہ)*

اس مقام پر طعن کرنے والے احباب کی طرف سے حضرت حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) کا ایک قول نقل کیا جاتا ھے جس میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر چند چیزوں کی بنا پر عیب لگایا ھے، ان میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کو قتل کیا. وقتله حجرا ويلا له من.

نمبر ١.البدايه ابن كثير ص ٥٥ ج ٨ تحت سنہ ٥١ھ(بحث ہذا)۔

*حجر و اصحاب حجر مَرَّتين*

تو اس شبہ کا ازالہ کے متعلق ذیل میں بعض چیزیں ذکر کی جاتی ہیں، ان پر توجہ فرمائیں :

(١) گزارش یہ ہے کہ یہ روایت جو حضرت حسن بصری (رحمہ اللہ علیہ) کی طرف منسوب کی گئی ہے اس کا راوی ابومخنف (لوط بن یحییٰ) ھے اور لوط بن یحییٰ کٹر شیعہ اور رافضی ھے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اعلٰی درجے کے مخالفین و معاندین میں سے ھے.

چنانچہ ابو مخنف نے حضرت حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) سے منسوب اس قول کو خود تصنیف کرکے حضرت معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے اربع خصائل کے نام سے موسوم کیا ھے. ان خصائل میں سے ایک حجر بن عدی کا قتل ھے. لہٰذا حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) سے منسوب روایت جس میں چار خصائل کا بطور طعن ذکر کیا گیا ھے یہ قابل قبول نہیں.

صفحہ 6 از 7