حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل…

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حجر بن عدی کا معاملہ مکمل اور مستند تحقیق

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

صفحہ 7 از 7

ابو مخنف لوط بن یحییٰ کے متعلق کتب رجال میزان الاعتدال (امام ذہبی رحمة اللہ علیہ) ولسان المیزان (ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ) وغیرہ میں نقد و جرح موجود ھے ملاحظہ فرمائیں).

(١) دوسری چیز یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین جو قتال و حروب واقع ہوئے ہیں ان کے حق میں خود حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) کی طرف سے امت کو نصائح موجود ہیں کہ ان حضرات کے ساتھ ہماری عقیدت کا تقاضا یہ ہے کہ ھم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حق میں کفّ اللسان کریں اور عیب جوئی و نکتہ چینی سے زبان کو روک کر رکھیں.

حضرت حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) کی یہ نصیحت باالفاظ ذیل مذکور ھے، ملاحظہ فرمائیں :

((و قد سئل الحسن البصرى عن قتالهم فقال :قتال شهده أصحاب محمد (ص) و غبنا، وعلموا وجهلنا واجتمعوا فاتبعنا واختلفوا فوقنا))

یعنی جب حضرت حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مابین قتال کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان واقعات میں خود حاضر اور شاہد تھے

جب کہ ھم غائب تھے. انہیں ان واقعات کا براہ راست علم تھا اور ھم اصل حالات سے ناواقف ہیں. جن چیزوں پر ان کا اجماع ھوا ھم نے ان کی أتباع کی، اور جن امور میں ان کا اختلاف ھوا ھم ان میں متوقف ہیں (یعنی کف اللسان کئے ہوئے ہیں).

(٣) نیز اسی طرح ایک دیگر چیز حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) سے مروی ھے جس سے بھی معلوم ھوتا ھے کہ حضرت حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ذہن نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی دینی عظمت کے قائل تھے.

نمبر ١) تاریخ ابن جریر طبری ص ١٥٧ ج ٦ طبع قدیم تحت سنہ ٥١ھ

نمبر ٢) تفسیر قرطبی ص ٣٢٢ ج ١٢ تحت آیات سورة الحجرات۔

وہ اس طرح ھے کہ قتادہ (رحمة اللہ علیہ) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) کی خدمت میں عرض کیا کہ بعض لوگ اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی جماعت دوزخ میں جائے گی. یہ بات سن کر حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) نہایت برافروختہ ھوکر کہنے لگے کہ ایسے لوگوں پر خدا کی لعنت ھو، ان کو کس شخص نے بتلادیا کہ وہ دوزخ میں ھوں گے؟؟؟ یعنی اس چیز کا علم انہیں کیسے ھوگیا اور کس طرح یہ فیصلہ انہوں نے کر لیا؟؟؟

((حدثنا قتادة عن الحسن قالت قلت يا أبا سعيد! ان ناسا يشهدون على معاوية وذويه انهم فى النار فقال لعنهم الله وما يدريهم انهم فى النار))

حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) کے ان بیانات کی روشنی میں یہ بات واضح ھوتی ھے کہ حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف رحجانات نہیں رکھتے تھے اور ان پر طعن و تشنیع کرنے کے روادار نہیں تھے. پس مذکورہ روایت جس میں اربعہ خصائل کا طعن مذکور ھے وہ روایت حضرت حسن بصری (رحمة اللہ علیہ) کے دیگر واقعات اور بیانات کے خلاف پائی جاتی ہے، اس لئے اس کو صحیح نہیں سمجھا جاسکتا، حقیقت میں وہ ان کی طرف منسوب کی گئی ہیں اور ان کا کلام نہیں ھے بلکہ بعض معاندین صحابہ کرام  نے ان کی طرف منسوب کردیی ہیں۔

حاصل یہ ہے کہ اس قول پر روایتاً اور درایتاً کلام کردیاگیا ھے انصاف کے ساتھ اس پر غور فرمائیں اور جو حق بات ھو اس کو قبول کریں. اللہ ہمیں حق بات کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ۔ اور ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے خلاف چلنے سے بچنے کی توفیق اور سعادت عطاء فرماۓ۔

آمین یارب العالمین۔


صفحہ 7 از 7