سیرت سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیرت سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ

  محقق کبیر مولانا نافع رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 2

سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ سے صحاحِ ستہ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث ہرقل نقل کی ہے جب کہ ابو نعیم ایک اور روایت بھی نقل کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے مردار کھانے اور خون پینے سے منع فرمایا:

حدثنا حبیب بن الحسن ثنا موسی بن ھارون، ثنا أبو أیوب ثنا عبد الرحمن بْن بشیر عن محمد بْن إِسحاق عن الزھْري عن عبَید اللہ بْن عبدِ اللہ عَن ابْن عباس عن أبي سفیان بن حرْب قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الْمیتة والدم

(یعنی سیدنا ابو سفیان رضی اللہ عنہ بن حرب فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مردار (کھانے) اور خون (پینے) سے منع فرمایا ہے۔

(معرفۃ الصحابہ: صفحہ، 1151)

سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ آپؓ کی بیٹی سیدہ ام حبیبہؓ حضورﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں اور یوں آپؓ نبی کریمﷺ کے سسرالی رشتہ دار ہوئے۔ اور اپنے سسرالی رشتہ داروں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے متعلق آپﷺ کا فرمان ہے:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعوْا لی أصحابیْ و أصھارِی فمن سبھم فعلیْہ لعنة اللہ وَالملائکة والناس أجمعین

یعنی نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میری خاطر میرے صحابہؓ اور میرے سسرالیوں کو کچھ نہ کہو جو ان کو برا بھلا کہتا ہے تو اس پر اللہ کی، اس کے فرشتوں کی، اور تمام مخلوق کی لعنت ہے

(الشریعہ للآجری: جلد 3 صفحہ 125، رقم 3102)

ایک اور موقع پر آپﷺ نے فرمایا:

سألت ربی أن لا أتزوج الی أحد من أمتی ولا أزوج أحد من أمتی الّا کان معی فی الجنّة فأعطانیْ ذلک

یعنی نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ جس مسلمان گھرانے میں میں اپنا نکاح کروں یا جس مسلمان گھرانے میں اپنی کسی بیٹی کا نکاح کردوں وہ لوگ جنت میں میرے ساتھی ہوں گے اللہ نے میرے اس خواہش کو قبول فرما لیا۔

(بغیة الباحث عن زوائد مسند الحارث: للامام نور الدین علی بن سلیمان ابی بکر الہیثمی الشافعی، جلد، 2 صفحہ، 919 رقم 1008 کنز العمال: جلد، 12 صفحہ، 94 رقم، 24147 مجمع الزوائد: جلد، 9 صفحہ، 737 رقم، 16388 فیض القدیر للمناویٰ: جلد، 9 صفحہ، 20 الجامع الصغیر للسیوطی: جلد، 2 صفحہ، 149 حرف السین، دارالکتب العلمیة، المعجم الاوسط: جلد، 6 صفحہ، 50 رقم، 5762، دارالحرمین القاہرة المطالب العالیہ لابن حجر العسقلانی: جلد، 11 صفحہ، 248 رقم، 3987 دارالعاصمہ الریاض)

اسی طرح حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی اس آیت میں محبت سے حضورﷺ کا حضرت ابوسفیانؓ سے سسرالی رشتہ مراد ہے۔

عسی اللہ ان یجعل بینکم وبیْن الذیْن عادیتم منھم مودة قال مصاھرة النبيﷺ إلی أبي سفیان بن حرب

اسی طرح آپؓ کی نواسی سیدہ لیلیٰؓ حضرت حسینؓ کی زوجہ محترمہ تھیں، آپؓ کے بیٹے حضرت امیر المؤمنین امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو کاتبِ وحی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ازواج و اولاد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ:

سیدنا ابو سفیانؓ کی ازواج اور اولاد کا اجمالاً تذکرہ یہاں مفید سمجھا گیا ہے لہٰذا علی سبیل الا ختصار درج ذیل ہے:

عہد سابق کے قبائلی رواج اور اس دور کے معاشرتی احوال کے موافق لوگ متعدد ازواج کرتے تھے اسی طرح حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ کی بھی متعدد ازواج تاریخ میں مذکور ہیں۔

  1.  صفیہ بنت ابی العاص بن امیہ یہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، ان سے حضرت ابو سفیانؓ کا بیٹا حنظلہ ہوا، جس کی اولاد نہیں چل سکی اور بیٹی رملہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا (ام المؤمنین ام حبیبہؓ) اور دوسری بیٹی امیمہ بنت ابی سفیانؓ بھی ان کے بطن سے پیدا ہوئیں۔
  2.  ھند بنت عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمسؓ ان سے مندرجہ ذیل اولاد متولد ہوئی فرزند امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور عتبہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ اور بیٹیاں جویریہ اور ام الحکم بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہ۔
  3.  زینب بنت نوفل بن خلفؓ ان سے بیٹا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ ہوا، جو اسلام میں مشہور باکمال شخصیت ہے اور یزید الخیر کے نام سے ذکر کیا جاتا ہے۔
  4. صفیہ بنت ابی عمرو بن امیہؓ اس سے ایک بیٹا عمرو بن ابی سفیانؓ اور دو بیٹیاں صخرۃ بنت ابی سفیانؓ اور ھند بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا مذکور ہیں۔
  5. لبابہ بنت ابی العاص بن امیہؓ ان سے ایک بیٹی میمونہ بنت ابی سفیانؓ معروف ہے۔

نیز ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا عنبسہ بن ابی سفیان بھی بعض مقامات میں مذکور ہے۔

تنبیہ: مندرجہ بالا مختصرات کتاب نسب قریش از مصعب الزبیری (تحت ولد ابی سفیانؓ) سے نقل کیے گئے ہیں مزید احوال دیگر کتب تاریخ سے دستیاب ہو سکتے ہیں۔


صفحہ 2 از 2