شیعہ کے الاصول الاربعمائتہ کا تعیین اور مصنفین (قسط 5) -…

شیعہ کے الاصول الاربعمائتہ کا تعیین اور مصنفین (قسط 5)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 3

اہم کتب ہیں ، ان مصنفین نے اصول اربعمائتہ پر بحث کے ساتھ شیعہ حدیثی ذخیرے کے مختلف مراحل بیان کئے ہیں ، جن میں عمومی طور پر ہر امام کے دور کو ایک مرحلہ قرار دیا گیا ہے ، ان میں سے ایک دو کتب کو چھوڑ کر باقی سب کتب کا ہم نے تفصیلی جائزہ لیا، تاکہ اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی قبل از تدوین کی صورتحال سامنے آ جائے ، ان کتب کے تفصیلی مطالعے سے جو نکات ہمارے سامنے آئے، انہیں ترتیب وار پیش کیا جاتا ہے :

1۔ان سب کتب میں ایک مشترک خصوصیت یہ ہے کہ ان میں صرف حدیثی مجموعوں کا ذکر نہیں ہے ، بلکہ مواد کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے دیگر فنون کی کتب کا بھی ساتھ ذکر کیا گیا ہے ، مثلا محمد رضا المودب نے

"الاثار الروائية الاخرى في القرن الاول "

کا عنوان باندھ کر درجہ ذیل کتب کا ذکر کیا ہے :

1۔ السنن والقضايا والاحكام لابی رافع

2۔ کتاب علی بن رافع

3۔ نصاب زکاۃ الانعام الثلاثتہ لر بیعۃ بن سلیمان

4۔ کتاب الاصبغ بن نباتہ الذی روی عہد مالک الاشتر

5- کتاب زید بن وہب المشتمل على خطب على

6۔ کتاب ابی ذر الغفاري حول ما وقع بعد وفاة النبی  ﷺ

7۔ کتاب عبد اللہ بن الحر الحجفی

8۔کتاب نعمان بن سعید

9۔ کتاب عبد اللہ بن بلال المشتمل على روايات عن بلال

10۔ کتاب سلمان الفارسي الذي روی حدیث الجاثلق

11۔ کتاب میثم التمار في تفسير القرآن

12۔ کتاب ابی مقدام من روایات علی بن الحسین

13۔ کتاب بریر بن خضیر الہمدانی

14۔ کتاب الحارث بن اعور الحمداني من روايات الامام علی

15۔ کتاب سلیم بن قیس فی شرح و قائع الاسلام

16۔ کتاب محمد بن قیس البجلی

17۔ کتاب یعلی بن مرۃ الثقفی (تاریخ الحدیث، ص 53)

پہلی صدی ہجری میں مصنف نے تلاش و جستجو کے بعد سترہ کتب کا ذکر کیا ، ان کی درجہ بندی یوں کی جاسکتی ہے :

الف : چار کتب ایسی ہیں ،جو براہ راست حدیثی روایات کی بجائے دیگر موضوعات پر بھی مشتمل ہیں :

1۔ کتاب الاصبغ بن نباتہ الذی روی عہد مالک الاشتر

2۔ کتاب ابی ذر الغفاري حول ما بعد وفات النبی ﷺ

3۔ کتاب میثم التمار فی تفسیر القرآن

4۔ کتاب سلیم بن قیس فی شرح و قائع الاسلام

ب :ائمہ کی روایات پر صراحتا مشتمل صرف تین کتب ہیں :

1۔ کتاب زيد بن وهب المشتمل على خطب على

2۔ کتاب ابی مقدام من روايات من روایات علی بن الحسین

3 ۔ کتاب الحارث بن اعور المدانی من رويات الامام علی

اگر ہم فقہ کی دو کتب

"السنن ولقضايا والاحكام لابی رافع "

اور

"کتاب زکاۃ الانعام الثلاثہ "

کو بھی حدیثی کتب شمار کریں ، تو ان سترہ کتب میں صرف پانچ کتب حدیث کی ہیں۔

ج ۔ بقیہ آٹھ کتب ایسی ہیں ، جن میں مطلقا کتاب کا ذکر ہے ، جس میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ حدیثی ذخیرہ ہے یا کسی اور فن کی کتاب ہے ؟ ان کو حدیثی ذخیرہ کی فہرست میں شمار کرنا دعوی بلادلیل ہے ۔

یہی روش تاریخ حدیث کی بقیہ کتب میں بھی ہے ، یہاں تک کہ مصاحف کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

(تدوين الحديث عند الشيعة الامامیہ ، ص419 ۔

مصحف علی کا ذکر کیا گیا ہے )،

حدیثی ذخیرے کی فہارس مرتب کرنے والی کتب میں مصاحف کا ذکر کس قدر علمی و تحقیقی وزن رکھتا ہے ، اہل علم پر مخفی نہیں ہے۔

2۔ حدیث و غیر حدیث کے مجموعات کے باوجود تعداد انتہائی کم بنتی ہے ، مثلا محمد مہدوی نے جو ذخیرہ ذکر کیا ہے ، وہ کچھ یوں ہے :

الف : حضرت علی ؓ کے دور میں حدیث و غیر حدیث کو ملا کر تیرہ اشخاص کی تصانیف کا ذکر کیا ہے۔

ب : حضرت حسن  و حضرت حسین رضی اللہ عنہما کے دور میں کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا، صرف ان کے اقوال ذکر کئے ، جو روایات کی کتابت کی ترغیب پر مشتمل ہیں۔

ج : امام زین العابدین کے دور میں حدیث و غیر حدیث کو ملا کر کل گیارہ مجموعات کا ذکر کیا۔

د: امام باقر کے دور میں حدیثی و غیر حدیثی کل سولہ مجموعات کا ذکر کیا۔

ر : امام جعفر صادق کے دور میں کل تیس مجموعات کا ذکر کیا۔

ذ: امام موسی کے دور میں تیرہ مجموعات کا ذکر کیا۔

س : امام رضا کے دور میں بائیس مجموعات کا ذکر کیا۔

ش : امام محمد ہادی کے دور میں کسی کتاب کا ذکر نہیں کیا ، اور امام علی و امام حسن عسکری کے ادوار کو ملا کر کل پندرہ مجموعات کا ذکر کیا۔

یہ تقریبا کل ملا کر 133 مجموعات ہوگئے ۔ حدیثی و غیر حدیثی مجموعات کو ملا کر یہ تعداد بنتی ہے ، محض حدیثی مجموعات اس سے کہیں کم بنتی ہیں ، یوں امام حسن عسکری (260ھ ) تک ڈھائی سو سال میں اہل تشیع کے مجموعات حدیث سو تک بھی نہیں پہنچتے ، لیکن پھر کتب اربعہ کی صورت میں ایک صدی کے اندر چالیس ہزار سے زائد روایات منظر عام پر آ جاتی ہیں !!

3۔ بعض کتب میں جیسے محمد رضا المودب کی تاریخ الحدیث اور سید احمد میر خانی کی کتب میں ہر مرحلے کے مجموعات کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی ہے ، مثلا صرف امام رضا کے دور میں دو سو سے اوپر کتب کا ذکر کیا گیا ہے ، لیکن ان میں نام و مصنف کی تفاصیل نہیں دی گئی ، صرف یہ کہا گیا ہے کہ اس دور میں ان کتب سمیت دو سو افراد نے بھی کتب لکھی ہیں ، مثلا رضاالمودب لکھتے ہیں :

وكان لثمانين تلميذا من تلامذته مولفات في الحديث بلغ عددها 207 كتاب

(تاریخ الحدیث ، ص 71)

آپ کے اسی شاگردوں نے حدیث کی کتب لکھی ہیں ، جن کی تعداد 207 تک پہنچتی ہے ۔ اب یہ کتب کن کی تصانیف ہیں؟ کیا واقعی یہ حدیث کی کتب ہیں ، یا دیگر فنون و مطلق کتاب کے عنوان پر مشتمل کتب بھی اس میں شامل ہیں، نیز یہ تعداد کہاں سے ثابت ہے؟ اس طرح کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

دراصل تفصیلی فہارس مرتب کر نے والے معاصر اہل تشیع مصنفین نے دو مفروضات پر یہ عمارت کھڑی کی ہے :

1۔ ائمہ کا ہر شا گرد شیعی امامی ہے ، حالانکہ ائمہ سے خصوصا امام جعفر صادق سے بہت سے اہل سنت حضرات نے بھی استفادہ کیا۔

2۔ائمہ کے تلامیذ کے ساتھ کتاب کے عنوان کا مطلب یہ ہے کہ وہ کتاب ضر ور ائمہ سے منقول رویات و احادیث پر مشتمل ہوگی۔

صفحہ 2 از 3