شیعہ کے الاصول الاربعمائتہ کا تعیین اور مصنفین (قسط 5) -…

شیعہ کے الاصول الاربعمائتہ کا تعیین اور مصنفین (قسط 5)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 3 از 3

کیا کسی کے شاگرد بنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عالم اب جو بھی کتاب ، جس موضوع پر بھی لکھے گا ، وہ اسی استاد کی روایات پر مشتمل متصور ہوگی ؟ امام شافعی نے امام محمد سے استفادہ کیا ، اب کیا امام شافعی کی ہر کتاب کو امام محمد کی روایات کا مجموعہ کہا جائے؟ اور یہ کہا جائے کہ امام محمد کی روایات کو امام شافعی نے الام جیسی ضخیم کتاب میں جمع کیا ؟ اگر یہ نتیجہ غلط ہے اور یقینا غلط ہے تو محض ائمہ کے شاگردوں کے تذکرے میں لفظ " کتاب " دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ کتاب حدیث کی ہی ہے اور اس میں ائمہ کی ہی احادیث جمع ہوئی ہیں ، نتیجہ نکالنا بھی تحقیق کے میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتا ۔ جبکہ اس کے برخلاف ڈاکٹر مصطفی اعظمی صاحب نے جو مجموعات حدیث کی فہرست دی ہے ، وہ مختلف محدثین کی اپنے اساتذہ سے سنی ہوئی روایات پر مشتمل ہیں ، ان میں اس طرح کے غیر ثابت مفروضوں سے کام نہیں لیا گیا ، چند مثالیں ملاحظہ ہوں :

1۔ ذکوان ابو صالح السمان کی احادیث کا تذکرہ یوں کیا ہے :

من كانت عنده احاديث مكتوبة :

الاعمش ،قال الاعمش كتبت عند ابی صالح الف حدیث ۔۔۔۔

سہیل بن ابی صالح ،كانت لديه صحيفة عن ابيه (دراسات في الحديث النبوی و تار یخ تدوینہ ، ص 147)

2۔سالم ابن ابی الجعد کا مجموعہ حدیث یوں ذکر کیا :

قال منصور قلت لابراہيم النخعي ،ما لسالم ابن ابي الجعد اتم حديثا منك؟قال لانه كان يكتب (دراسات في الحديث النبوی و تار یخ تدوینہ، ص148)

3۔ شہر بن حوشب الاشعری کا مجموعہ یوں ذکر کیا :

و روی عبد الحميد بن بهرام عن شهر نسخة (دراسات في الحديث النبوی و تار یخ تدوینہ، ص151)

اس طرح سے ڈاکٹر صاحب نے مختلف شیوخ اور ان کے تلامذہ کے مرتب کردہ 456 مجموعات حدیث کی فہرست مرتب کی ہے ، الغرض اہل تشیع کی تفصیلی فہارس اولا تو انتہائی کم تعداد میں ہیں ، ثانیا انہیں بلا دلیل مجموعات حدیث اور ائمہ کی روایات پر مشتمل صحائف باور کرایا گیا ہے ۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اہل تشیع کی کتب اربعہ سے پہلے حدیثی ذخیره خواہ تحریری صورت ہو یا

تقریری یعنی درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کی صورت ہو ، اخفا کے دبیز پردوں میں مستور ہے ، اس کا تاریخی ثبوت دستیاب مواد کی مدد سے از حد مشکل ، بلکہ ناممکن ہے۔

( جاری ہے )


صفحہ 3 از 3