سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6) - ردِ…

سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 1 از 4

سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات

اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی ذخیرے کا ایک بڑافرق فریقین کے مجموعات حدیث میں مدون روایات کی تعداد کا مسئلہ ہے ، اس فرق سے متنوع سوالات جنم لیتے ہیں ،اولا فریقین کے مصادر حدیث میں موجود روایات کا ذکر کیا جاتا ہے ، ثانیا اس فرق سے پیدا شدہ بعض اہم نتائج کو سوالات کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے :

اہل سنت کے اساسی مصادر کی مرویات

اہل سنت کے بنیادی مصادر حدیث صحاح ستہ اور مسند احمد و موطا ہیں ، ان آٹھ کتب کی مجموعی مرویات مکررات سمیت یوں ہیں :

  

مجموعه روایات :

ان آٹھ کتب کی روایات انہی میں سے دوسری کتب میں بھی مذکور ہیں ،اگر ہم آٹھ کتب کی انفرادی زوائد مرویات کو الگ کر کے دیکھیں ، تو تعداد اس سے بھی کہیں کم بنتی ہے ، ذیل میں ان کی انفرادی زوائد روایات کا ذکر کیا جاتا ہے :

بخاری کے زوائد : 430

بخاری پر مسلم کے زوائد : 578

صحیحین پر ابو داود کے زوائد : 1337

صحیحین و ابو داود پر تر مذی کے زوائد : 561

صحیحین ابو داود و ترمذی پر نسائی کے زوائد : 163

کتب خمسہ پر ابن ماجہ کے زوائد :184

صحاح ستہ پر موطا کے زوائد : 138

صحاح سته و موطا پر مسند احمد کے زوائد : 548

مجموعه روایات : 3939

نسخ و طبعات کے فروق کو شامل کرتے ہوۓ ہم اس تعداد کو 4000 شمار کر سکتے ہیں ، یوں اہل سنت کی آٹھ کتب میں موجود بلا تکرار و مشترکات کے کل روایات تقریبا 4000 ہیں ، یہی چار ہزار روایات اسانید و تکرار کے ساٹھ باسٹھ ہزار مرویات میں ڈھل جاتی ہیں ، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اہلسنت کی ایک ایک حدیث کتنی کثیر طرق کے ساتھ نقل ہوئی ہے کہ صرف چار ہزار روایات کے طرق و رواۃ اتنے زیادہ ہیں ، جس سے چار ہزار روایات باسٹھ ہزار روایات میں تبدیل ہو گئی ہیں ۔

(احصائية حدبیہ تبين العلاقة بين الكتب التسعة و حجم التوافق في الاحاديث ، عبد الله بن مبارک ، المجلس الالوکہ /0/79936/http://www.alukah.net/sharia)

اہل تشیع کے اساسی مصادر کی مرویات

اہل تشیع کے اساسی مصادر بھی آٹھ ہیں ، جن میں چار کتب متقدمین اور چار کتب متاثرین کی ہیں ، معروف شیعہ عالم محمد صالح الحائری لکھتے ہیں :

و اما صحاح الاماميه فهي ثمانية ،اربعة منها للمحمدين الثلاثة الاوائل ،و ثلاثة بعدها للمحمدين الثلاثة الاواخر ،و ثامنها لمحمد حسين المعاصر النوري۔

(الوحدة الاسلامیہ بحوالہ علم الحدیث بین اصالۃ اہل السنه وانتحال الشیعہ ، ص 107)

ان آٹھ کتب میں متقدمین کی چار کتب یہ ہیں :

1۔الکافی ،ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلمینی

2۔ من لا یحضرہ الفقیہ ، ابن بابویہ المی

3۔ تہذیب الاحکام ،ابو جعفر الطوسی

4۔الاستبصار فیما اختلف فيه من الاخبار ، ابو جعفر الطوسی

جبکہ متاخرین کی مرتب کردہ چار کتب یہ ہیں :

1۔ بحار الانوار ، محمد باقر مجلسی

2۔ وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ ، محمد بن حسن حر عاملی

3۔الوافی ، محسن کاشانی

4۔ مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ، محمد حسین نوری الطبرسی

ان کتب کی روایات مکررات سمیت کچھ یوں ہیں :

کتب اربعہ مقدمہ:

 ۔الکافی : 16000

من لا یحضره الفقیہ : 5963

تہذیب الاحکام :13590

الاستبصار : 5511

مجموعہ روایات : 41064

کتب اربعہ متاخرہ:

1۔ بحار الانوار ( شبکہ اہل المدینہ ) : 72000

2۔ وسائل الشیعہ (موسسہ اہل البیت لاحياء التراث ) : 35844

3۔الوافی (مکتبہ امیر المومنین ، اصفہان ) 25703

4۔ مستدرک الوسائل ( موسسہ اہل البیت ، بیروت )23129

مجموعه روایات : 156676

یوں آٹھ کتب کی مجموعی روایات مع مکررات : 41064+156676=197740

اب ان میں کتب اربعہ متقدمہ کی کل روایات کو مکررات و مشترکات کے حذف کے ساتھ محسن کاشانی نے الوافی میں جمع کیا ، جس کی روایات 25703 ہیں ، اس طرح سے کتب اربعہ سے مکررات و مشترکات کو نکال کر کل روایات 25703 بنتی ہیں ، اب بحارالانوار اور وسائل الشیعہ میں کتب اربعہ کی جملہ روایات کو اگر فرض کیا جائے، تو اہل تشیع کی احادیث بلا تکرار و مشترکات کچھ یوں بنتی ہیں :

کتب اربعہ کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات : 25703

بحار الانوار کی روایات ( کتب اربعہ کی روایات نکال کر ) :72000-25703= 46297

وسائل الشیعہ کی روایات (کتب اربعہ کی روایات نکال کر ) : 35844-25703=10141

مستدرک الوسائل کی روایات : 23129

مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات : 105270

( یاد رہے ، مستدرک الوسائل سے کتب اربعہ کی روایات منفی نہ ہونگی ، کیونکہ یہ کتاب متقدمین کے جملہ ذخیرے سے الگ جو روایات بچی ہیں ، ان پر مشتمل ہے )

اس ساری تفصیل کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے :

♦️ اہل سنت کی آٹھ بنیادی کتب کی مجموعی روایات مع مکررات و مشترکات : 62129( باسٹھ ہزار ایک سو انتیس )

♦️ اہل تشیع کی آٹھ بنیادی کتب کی مجموعی روایات مع مکررات و مشترکات : 197740 (ایک لاکھ ستانوے ہزار سات سو چالیس )

♦️ اہل سنت کی آٹھ مصادر کی بنیادی کتب کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات : 4000 ( چار ہزار )

♦️ اہل تشیع کی آٹھ بنیادی کتب کی مجموعی روایات بلا تکرار و مشترکات : 105270(ایک لاکھ پانچ ہزار دوسوستر)

تعداد مرویات کا عظیم فرق اور اس کے نتائج

اہل سنت واہل تشیع کی بنیادی کتب میں موجود روایات کی تعداد میں اس عظیم الشان فرق سے متعدد سوالات جنم لیتے ہیں :

صفحہ 1 از 4