سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6) - ردِ…

سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 4

1۔اہل سنت کا ذخیرہ مرویات تکرار کی بھٹی سے گزرا ہے ، چار ہزار روایات تعدد طرق و اسناد سے باسٹھ ہزار مرویات کی شکل میں ہم تک پہنچا ہے ، اس طرح سے ہر روایت اوسطا پندرہ بار سے زائد مختلف کتب میں مکرر آئی ہے ، جبکہ اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے میں تکرار تقریبا ناپید ہے ، کیونکہ ایک لاکھ ستانوے ہزار روایات میں سے مکر رات نکال کر بقیہ ایک لاکھ پانچ ہزار بچتی ہیں ، یوں تکرار کا تناسب دو کو بھی نہیں پہنچتا ، اہل علم جانتے ہیں کہ تکرار و شواہد روایت کی قوت و استنادی حیثیت میں بنیادی عامل ہے ، خاص طور پر جب ایک روایت مختلف خطوں کے افراد و مصنفین ذکر کرتے ہیں ، تو اس سے وضع و کذب کا عنصر تقریبا ختم ہو جاتا ہے ، یہی صور تحال اہل سنت کے حدیثی ذخیرے میں ہے ، جبکہ اہل تشیع کا حدیثی ذخیرہ جب تکرار و شواہد سے خالی ہے ، تو یقینا اس میں کذب و وضع کا احتمال قوی تر ہو جاتا ہے ۔

2۔اہل سنت کی چار ہزار روایات قبل از تدوین تحریر و تقریر کی صورت میں محفوظ رہا، تحریری ثبوت ڈاکٹر مصطفی اعظمی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب دراسات في الحديث النبوی و تاریخ تدوینہ میں دی ہے ، جن میں صرف ایک صدی کے اندر ساڑھے چار سو مجموعات حدیث مرتب ہوئے ، جبکہ تقریری ثبوت الرحله في طلب الحدیث اور اسفار محد ثین کی کتب میں مذکور ہے کہ حجاز ، یمن ، بغداد ، بصرہ ، کوفہ اور شام کی علمی درسگاہوں میں یہ احادیث تعلیم و تعلم کی بھٹی سے گزریں ہیں ، جب صرف چار ہزار مرویات کی حفاظت کے لئے بڑے پیمانے پر جتن کئے گئے، تو یقینا ایک لاکھ سے زائد روایات کو محفوظ کرنے کے لئے اس سے بڑی کاوشیں و کوششیں درکار ہوں گی ،لیکن باعث صد تعجب ہے کہ اہل تشیع کی ایک لاکھ مرویات کی حفاظت کے لئے قبل از تدوین تحریری و تقریری کوششیں تقریبا عنقا ہیں ، تحریری ثبوت کے لئے الاصول الاربعمائتہ کی اصطلاح مشہور کی گئی ، جس کے تاریخی استناد پر ہم بحث کر چکے ہیں ، کہ دو سو اٹھتر اصول کے مصنفین ہی نامعلوم ہیں ، چہ جائیکہ دیگر تفاصیل موجود ہوں ، جبکہ تقریری طور پر خود اہل تشیع محققین اور ائمہ کرام کی شہادتیں ہم پیش کر چکے ہیں کہ تقیہ کی وجہ سے ائمہ معصومین نے اہل تشیع کی مرویات کے لئے کھلم کھلا دروس اور تعلیمی مجالس کا انعقاد نہیں کیا ، یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک لاکھ مرویات کی حفاظت کے لئے جس بڑے پیمانے پر تحریری و تقریری کوششوں کی ضرورت تھی ، وہ ناپید کیوں ہیں ؟اور کوششوں کی عدم موجودگی سے ایک لاکھ روایات کا یہ ذخیرہ استناد و ثبوت کی کس درجہ بندی میں آتا ہے ؟ غیر جانبدار محققین پر یہ بات مخفی نہیں ۔

3۔اہل تشیع کے مصادر حدیث میں اکثر روایات امام جعفر صادق اور ان کے والد امام باقر کی ہیں ، معروف شیعہ محقق ڈاکٹر محمد حسین الصغیر اپنی کتاب "الامام جعفر الصادق زعیم مدرسۃ اہل البیت " میں لکھتے ہیں :

كتب الاحاديث الابعمة و مستدركاتها و ما جرى مجرابا تعد المصدر الرئيس لحادیث اہل البیت عامة و احادیث الامام الصادق و ابيه الامام باقر خاصة۔

(الامام جعفر الصادق زعیم مدرسۃ اہل البیت، ص 386)

یعنی کتب اربعہ اور اس کے مستدرکات اور دیگر کتب حدیث عمومی طور پر اہل بیت کی احادیث کا مصدر ہیں، لیکن اہل بیت میں سے خاص طور پر امام جعفر صادق اور ان کے والد امام باقر کی روایات کا ماخذ ہیں۔

اگر ایک لاکھ روایات کا نصف حصہ بھی دونوں ائمہ کرام کا مان لیں (اگرچہ فی الواقع یہ تعداد دو تہائی تک پہنچتی ہے تو پچاس ہزار روایات ہر دو حضرات کی بنیں گی ، یوں ہر ایک امام کی پچیس ہزار مرویات بنتی ہیں ، تو سوال یہ بنتا ہے کہ پچیس ہزار مرویات لینے کے لئے کتنے تلامذہ چاہیئے ، آپ علیہ السلام کی چار ہزار احادیث کو روایت کرنے والے رواۃ صحابہ کی تعداد ایک ہزار یا پندرہ سو تک پہنچتی ہے ، تو پچیس ہزار روایات کو لینے کے لئے کم از کم چھ ہزار تلامذہ کی ضرورت ہوگی ، لیکن امام باقر کے تلامذہ استقصا کے بعد 482 تک پہنچتے ہیں ، یہ تعداد معروف شیعہ عالم باقر قریشی نے اپنی ضخیم کتاب "حياة الامام الباقر " کی دوسری جلد (ص 189تا383) میں ذکر کی ہے ، جبکہ امام جعفر صادق کے تلامذہ کی تعداد بقول ڈاکٹر محمد حسین الصغیر ساڑھے تین ہزار تک پہنچتی ہے۔

(الامام جعفر الصادق زعیم مدرسۃ اہل البیت، ص 303)

یہاں بجاطور پر سوال بنتا ہے کہ چار سو بیاسی حضرات نے پچیس ہزار روایات کیسے محفوظ کیں ؟ جبکہ صرف چار ہزار مرویات کو ایک ہزار حضرات جان توڑ کوششوں کے بعد ہی محفوظ کر سکے؟ اس پر مستزاد یہ کہ آپ علیہ السلام نے پوری زندگی ابلاغ و تبلیغ پر مبنی تھی، ہر لحظہ اور ہر گھڑی آپ اللہ کا پیغام صحابہ کرام تک پہنچاتے رہے ، تئیس سالہ دور نبوت کی بھرپور تبلیغی زندگی کے بعد بھی آپ کے ارشادات چار ہزار بنتے ہیں ، تو امامین کریمین نے کیسے پچاس ہزار ارشادات اپنی زندگی میں صادر کئے؟ اگر تنیس سال کی انتھک محنت و ابلاغ کے بعد بھی اقوال چار ہزار بنتے ہیں ، تو پچیس ہزار اقوال کے لئے کم از کم ایک سو اڑتیس  (138) سال ( تئیس کو چھ گنا کر کے ) در کار ہیں ، جبکہ امام باقر کی عمر 57 سال اور امام جعفر صادق کی عمر شریف 65 یا 68 سال تھی؟ ان میں بھی بلوغ اور حصول تعلیم کا کم ترین عرصہ بیس سال نکال کے امام باقر کی زندگی 37 اور امام جعفر صادق کی 48 سال بچتی ہے ۔ کیا ایک سو اڑتیس سال میں بولے جاسکتے والے کلمات محض 37 یا 48 سال میں کہنا عقلا ممکن ہے؟

صفحہ 2 از 4