سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6) - ردِ…

سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 3 از 4

4۔ اہل سنت کے ہاں چونکہ ذخیرہ روایات کم ہیں ، اس لئے بنیادی کتب میں موجود روایات میں مکررات ، شواہد ، مشترکات اور ایک روایت کے مختلف طرق واسانید پر بے تحاشا کام ہوا ہے ، مثلا بخاری شریف کی روایات میں کتنی روایات مکرر ہیں ؟ بخاری شریف میں کتنی ایسی روایات ہیں ، جو بقیہ ساتوں کتب میں نہیں ہیں؟ بخاری شریف کی روایت اگر دیگر کتب میں آئی ہے ، تو سند میں کتنے رواۃ کا اضافہ ہے؟ متن میں کس قسم کی تبدیلیاں ہیں؟ اس روایت کے ہم معنی روایت اور کن کن کتب میں کس کس صحابی سے مروی ہے؟ الغرض ہر کتاب پر اس طرح کا تفصیلی کام موجود ہے ، جبکہ اہل تشیع کے ہاں اس قسم کا مواد معدوم ہے ، کیونکہ دولاکھ کے قریب روایات کے انبار میں اس طرح کی چھان بین بے حد مشکل کام ہے ، اہل تشیع کی سب سے صحیح و مقبول ترین کتاب الکافی پر بھی اس طرح کا کام نہیں ہوا ، چہ جائیکہ بقیہ کتب پر ہوا ہو ،البتہ الکافی کی تازہ طبعات میں اس کی روایات کی دیگر کتب سے تخریج کی گئی ہے ، یہی وجہ ہے کہ کتب اربعہ میں مکرر و مشترک روایات کتنی ہیں ، اس پر کافی تلاش و جستجو کے بعد بھی کسی شیعہ محقق کی تحقیق نظر سے نہیں گزری ، معروف شیعہ محقق شیخ عبد الرسول عبد الحسن الغفار نے کافی کے تعارف پر ایک ضخیم کتاب " الکلینی و اکافی " لکھی ہے ، اس میں کافی کی روایات کی تعداد پر تو بحث ہے ، لیکن مکررات یا دیگر کتب میں مشترکات پر کوئی تحقیق موجود نہیں ہے ، حالانکہ یہ کتاب کافی کے تعارف پر سب سے تفصیلی کتاب شمار ہوتی ہے ،اس مضمون میں کتب اربعہ کی مکرر و مشترک روایات جاننے کے لئے کتب اربعہ کی روایات کو یکجا کر نے والے محسن کاشانی کی کتاب الوافی سے اندازہ لگایا گیا ، بعد کے ادوار میں لکھنے جانی والی ضخیم کتب جیسے بحار و وسائل الشیعہ وغیرہ پر بھی اس قسم کا کوئی مواد موجود نہیں ہے ۔

4۔ زمانہ روایت

اہل تشیع اور اہل سنت کے حدیثی مفاہیم و اصطلاحات کا ایک بڑا فرق زمانہ روایت کا فرق ہے ، زمانہ روایت سے مراد وہ زمانہ ہے ، جس میں محدثین اپنی سند کے ساتھ احادیث و روایات جمع کرتے ہیں ، زمانہ روایت کی لکھی گئی کتب احادیث عمومی طور پر اصلی مصادر و ماخذ شمار ہوتی ہیں ، بعد والے انہی مصادر پر اعتماد کرتے ہیں اور کسی حدیث کا حوالہ دیتے وقت عموما انہی کتب کے مصنفین کی تخریج کا حوالہ دیتے ہیں ، اہلسنت کے حدیثی ذخیرے میں زمانہ روایت ایک قول کے مطابق تیسری صدی ہجری اور دوسرے قول کے مطابق پانچویں صدی ہجری تک ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الرحمان الاعظمی رواۃ کی تقسیم پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

إن هذا التقسيم الذي ذكره الحافظ ابن حجر من أنسب التقاسيم للرواة؛ حيث ينتهي عصر الرواية بآخر المئة الثالثة على رأي بعض العلم ، وهو عصر الأئمة الستة ومن معهم، كبقي ابن مخلد (ت 276ھ)، والإسماعلي القاضي (ت 282ھ)، والإسماعيلي أبو بكر محمد بن إسماعيل (ت 289هـ)، والبزار (ت292هـ)، ومحمد بن نصر المروزي (ت294هـ)، وغيرهم ، لذا يرى الذهبي عام ثلاثمائة حدا فاصلأبين المتقدم والمتأخر.إلا أن عصر الرواية استمر إلى نهاية القرن الخامس؛ لأنه توجد روايات مخرجة في مصنفات البيهقي، والخطيب، وابن عبد البر، وابن حزم، وغيرهم من الحفاظ۔

(مجم مصطلحات الحديث ولطائف الاسانید ، ضیاء الرحمان الاعظمی ، دار ابن حزم ، بیروت ، ص 246)

ترجمہ : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے رواۃ کے طبقات کی جو تقسیم کی ہے ، وہ مناسب تقسیم ہے ، کیونکہ بعض اہل علم کے نزدیک تیسری صدی ہجری کے اختتام پر زمانہ روایت ختم ہو جاتا ہے ، تیسری صدی ہجری صحاح ستہ اور دیگر جیسے بقے بن مخلد ،اسماعیل قاضی ، محمد بن اسماعیل ، امام بزار ، امام مروزی وغیرہ کا زمانہ ہے ،اسی وجہ سے علامہ ذہبی نے متقدمین و متاخرین کے درمیان حد فاصل تیسری صدی ہجری کو قرار دیا ہے۔ البتہ صحیح بات یہ ہے کہ زمانہ روایت پانچویں صدی ہجری کے اختتام تک جاتا ہے ، کیونکہ امام بیہقی ، خطیب بغدادی ، ابن عبد البر اور بن حزم جیسے حفاظ حدیث کی تصانیف میں ایسی روایات ملتی ہیں ، جن کی تخریج انہی حضرات نے کی ہے ۔

اہل سنت میں پانچویں صدی ہجری کے بعد حدیث کی مستقل کتاب نہیں لکھی گئی، بلکہ پانچویں صدی کے بعد پچھلی کتب کی شرح ، جمع، تلخیص ، تخریج وغیرہ پر کام ہوا ہے ۔

اہل سنت کے برعکس اہل تشیع اس معاملے میں الگ زاویہ نظر کے حامل ہیں ، اہل تشیع کے ہاں زمانہ روایت کی کوئی تحدید نہیں ہے ، بلکہ اہل تشیع کے ہاں حدیث کی مستقل کتب زمانہ حال یعنی تیرہویں اور چودہویں صدی میں بھی لکھی گئیں ہیں ، چنانچہ مرزا حسین نوری طبرسی کی کتاب مستدرک الوسائل اہل تشیع کے آٹھ مصادر اصلیہ میں سے ایک اہم کتاب ہے اور اس کتاب کے مصنف علامہ طبرسی 1320ھ میں وفات پاگئے ، یعنی چودہویں صدی ہجری کے مصنف کی لکھی گئی کتاب بھی اصلی حدیثی مصادر میں شمار ہوتی ہے ، یاللعجب ۔

اس کتاب کے بارے میں معروف شیعہ محقق آغا بزرگ طہرانی لکھتے ہیں :

"وهو رابع المجاميع الثلاثة الاخيرة المعتمدة المعول عليها في هذه الاعصاراعنى الوافي ،والوسائل والبحار"۔

(الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ، آغا بزرگ طہرانی ، دار الاضواء ، بیروت، ج 21، ص 7)

مستدرک الوسائل آخری زمانے میں لکھی گئی تین معتمد کتب ( وافی ، وسائل الشیعہ ، بحار الانوار ) کے بعد چوتھی کتاب ہے ، جن پر اس زمانے میں حدیث کے معاملے میں اعتماد کیا جاتا ہے۔

مرزا حسین نوری طبرسی نے اس کتاب میں جتنی احادیث نقل کی ہیں ، کتاب کے خاتمے میں ان تمام مصادر تک اپنی سند ذکر کی ہیں ، یوں یہ کتاب مرزا نوری طبرسی کی سند و تخریج کے ساتھ حدیث کی مستقل کتاب ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسے شیعہ کے آٹھ مصادر حدیث میں شمار کیا جاتا ہے ۔

صفحہ 3 از 4