سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6) - ردِ…

سنی و شیعہ کے مجموعات حدیث میں تعداد روایات (قسط 6)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 4 از 4

اب یہاں بجا طور پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہلسنت کے ہاں تیسری یا پانچویں صدی ہجری میں زمانہ روایت و تخریج کا اختتام ہوتا ہے ، کیونکہ بعد زمانہ کے ساتھ سند کی تصحیح و اتصال کا احتمال کم سے کم ہوتا جاتا ہے ، بلکہ کثرت وسائط کی وجہ سے باجود اتصال سند کے روایت میں ضعف کا عصر قوی ہو جاتا ہے ، تو اہل تشیع کے ہاں جو کتاب ائمه معصومین کے بارہ سو سال بعد لکھی گئی ہے ، اس کتاب میں موجود احادیث کی سند کی کیا وقعت ہو گی؟

نیز مولف کتاب علامہ طبرسی نے کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں :

"وقد عثرنا على جملة وافرة من الاخبار ،لم يحوها كتاب الوسائل ،و لم تكن مجتمعة في مولفات الاواخر و الاوائل "۔ (مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل ، مرزا حسین نوری طبرسی ، موسسه ال البيت لاحياء التراث ، قم، ج1، ص60)

ہم احادیث کے ایسے بڑے حصے پر مطلع ہو چکے ہیں ، جن کا ذکر کتاب الوسائل میں نہیں ہے، نہ ہی وہ روایات اولین و آخرین شیعہ مصنفین کی کتب میں اکٹھی تھیں" مصنف نے کتاب کے خاتمے میں ان کتب میں سے پینسٹھ اہم مصادر کا ذکر کیا ہے ، مولف کے بقول ان کتب تک رسائل پچھلے مصنفین کی نہ ہو سکی ہے ، میری دسترس میں یہ کتب آچکی ہیں ، اس لئے میں نے ان سے روایات لی ہیں ، تو سوال یہ ہے کہ ایسی کتب جو اتنی نایاب اور پردہ خفا میں تھیں ، جن تک ایک ہزار سالہ شیعہ محدثین کی رسائی نہ ہو سکی ، ان کتب تک صدیوں بعد صرف علامہ طبرسی کی رسائی ہوئی ، تو صدیوں تک پردہ خفا میں رہنے والی کتب کی استنادی ، ثبوتی ، خطی ، نسبت الى المصنف ، وحفاظت من الاخطاء والاغلاط وغیرہ کا معیار کیا ہو گا؟ اہل علم واہل تحقیق پر اس کا جواب مخفی نہیں۔ اتنی غیر معروف مصنفین یا کتب سے جس کتاب میں احادیث نقل ہوئی ہیں ، وہ کتاب پھر بھی اصلی و معتمد مصادر میں شمار ہو ، جیسا کہ اوپر علامہ طہرانی کا قول گزر چکا ہے ، تو اس سے اہل تشیع کے حدیثی ذخیرے کی استنادی حیثیت اور صحت وضعف کے معیارات کا پتا چلتا ہے۔

(جاری ہے)


صفحہ 4 از 4