اہل سنت اور اہل تشیع کتب حدیث کے مخطوطات و نسخ(قسط 7) - ردِ…

اہل سنت اور اہل تشیع کتب حدیث کے مخطوطات و نسخ(قسط 7)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 2 از 3

اس کے برعکس اگر ہم صحیح بخاری کے نسخوں کو دیکھیں ، تو ان میں انتخاب مشکل ہو جاتا ہے کہ کس نسخہ کا ذکر کیا جائے؟ کیونکہ سب ہی اتقان و صحت میں ایک دوسرے سے بڑھے ہوۓ ہیں ، بطور مثال صرف ایک نسحے کا ذکر کرنا چاہوں گا، کہ صحیح بخاری کا ایک معروف نسخہ حافظ یونینی کا نسخہ ہے ، یہ نسخہ چار جید محدثین ابو محمد الاصیلی، ابوذر الہروی ،ابوالوقت السجزی ، ابوالقاسم ابن عساکر کے سامنے پڑھے گئے نسخہ جات کے ساتھ تقابل کر کے تیار کیا گیا، یہ چاروں حضرات صحیح بخاری کے معروف رواة سے روایت کرنے والے ہیں، مثلا ابو ذر الہروی نے صحیح بخاری کے تین براہ راست رواۃ المستملی ،الحموی اور الکشمیھنی سے صحیح بخاری کو روایت کیا ہے ۔ (دیکھیں مقدمہ ، صحیح بخاری ، دار طوق النجاة، بیروت ) یہ صرف ایک نسخہ ہے ، ورنہ صحیح بخاری کو صرف امام بخاری سے نوے ہزار سے زائد شاگردوں نے براہ راست پڑھا ہے ۔

معروف شیعہ محقق شیخ حیدر حب اللہ الکافی و دیگر کتب حدیث کے نسخ و مخطوطات کی کمیابی کی توجیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"و اذا كان الذين سمعوا من الامام البخاري كما يقول الفربري تسعين الف رجل، وان أخر من سمع من ببغداد حسين المحاملي ،فان عدد الامامية كلهم في ذلك الزمان قد لايجاوزون عدد من سمع من البخاري من طلاب العلم "۔

(المدخل الى موسوعۃ الحدیث، حیدر حب الله ، ص455)

ترجمہ :فربری کے بقول امام بخاری سے بخاری شریف نوے ہزار شاگردوں نے براہ راست پڑھی ہے، اور امام بخاری سے آخر میں سماع کرنے والے حسین محاملی ہیں ، جبکہ اس زمانے میں اہل تشیع کی کل تعداد صحیح بخاری کا سماع کرنے والوں کے بمشکل برابر تھی۔

وجہ جو بھی ہو ، اہلسنت واہل تشیع کی کتب حدیث کے نسخہ جات و مخطوطات کا جب تقابل کیا جائے تو اہلسنت کی کتب کے نسخے و مخطوطات اہل تشیع کی تراث حدیث کے نسخہ جات و مخطوطات سے کئی درجے زیادہ نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شیعہ تراث حدیث کی استنادی حیثیت کو ثابت کرنے والے معروف شامی محقق حیدر حب اللہ نے شیعہ تراث حدیث میں تشکیک کی جن وجوہات پر بحث کی ہے ، ان میں نسخ و مخطوطات کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ (دیکھیے:المدخلی الی موسوعۃ الحدیث، حیدر حب الله ، ص 453تا460)

ایک اشکال اور اس کا جواب

اہل تشیع کی تراث حدیث کے مخطوطات و نسخ کی کمیابی چونکہ شیعہ ذخیرہ حدیث کو مشکوک بنانے کے لئے اہم ترین عامل ہے ، اس لئے بعض اہل تشیع اہل علم نے بجواب آن غزل صحیح بخاری کی قدیم مخطوطات کو زیر بحث لانے کی کوشش کی ، چنانچہ معروف شیعہ محقق حیدر حب اللہ لکھتے ہیں :

"فلو نظرنا في كتاب البخاري الذي اشتغل عليه اهل السنة بشكل هائل عبر التاريخ، وبلغت مواضع نسخه في العالم ما بين نسخة كاملة واجزاء او قطع زماء 2327 موضعا، وعلمنا ان مكتبة الملك عبد العزيز بالمدينة المنورة لوحدها على 226 نسخة اصلية من هذا الكتاب، بعضها كاملة واخرى اجزاء، تعود لفترات مختلفة و عليها خطوط مشاهير العلماء، لتوقعنا ان نملك نسخة بخط المولف او الذي املى عليه المولف كالفريري، لكن اقدم نسخة مخطوطة في العالم لهذا لكتاب هي على ما يبدو القطعة التي نشرها المستشرق منجانا في كمبردج 1936، وقد كتب عام 370 براوية المروزي عن الفريرى، اى بعد حوالي 115 عاما من وفاة البخاري، واما سائر النسخ الهامة والمعتمدة لهذا الكتاب فتعود الى نسخة الحافظ ابي على الصدفي (514ھ) ونسخة الحافظ ابن سعادة الاندلسي (566هـ ) و نسخة عبد الله بن سالم البصري المكي (1134ھ) وأمثالها من النسخ والمخطوطات القديمة التي يقع اختلاف بينها وبعضها ناقص وبعضها كامل، وهذا هو حال النسخ في العادة، فلا يضر أن تتوفرأقدم نسخة لكتاب الكافي في القرن السابع الهجري۔

(المدخل الى موسوعۃ الحدیث ، حیدر حب الله ، ص454)

ترجمہ : اگر ہم صحیح بخاری کو دیکھیں ، جس کے ساتھ اہلسنت کی بڑی تعداد کا مسلسل علمی اشتغال رہا ، دنیا میں صحیح بخاری کے کامل ، ناقص ، مخطوطات 2327 کے قریب ہیں ، صرف مکتبۃ الملک عبد العزیز میں اس کتاب کے کامل ناقص 226 مخطوطات ہیں ، جو مختلف زمانوں کے ہیں ، اور ان پر مختلف مشاہیر کے دستخط ہیں۔ ہم یہ توقع رکھتے تھے کہ ہمیں مولف کا براہ راست مخطوطہ یا مولف نے جن تلامذہ پر کتاب کی املاء کرائی، جیسے فربری ، ان کا براہ راست مخطوطہ مل جائے گا، لیکن اس کتاب کا دنیا میں قدیم ترین نسخہ ، جو ایک مستشرق نے کیمبرج میں نشر کیا ، وہ امام بخاری کی وفات کے 115 سال بعد کا نسخہ ہے ،جو 370 میں امام مروزی نے فربری سے نقل کیا، جبکہ باقی نسخوں کا مرجع چھٹی صدی ہجری کے ابو علی صدفی ، چھٹی صدی ہجری کے ابن سعادۃ اور بارہویں صدی ہجری کے ابن سالم المکی اور دیگر اہل علم کے کامل و ناقص مخطوطات ہیں ، جن میں اختلافات بھی ہیں ، اور نسخوں کا حال یہی ہوتا ہے ، لھذا اگر الکافی کا ساتویں صدی ہجری سے پہلے کوئی نسخہ نہیں ہے ، تو اسے اس کی استنادی حیثیت کو کوئی ضرور لاحق نہیں ہوتا۔

شیعہ محقق نے صحیح بخاری کے نسخوں پر اعتراض کر کے الکافی کی مشکوک استنادی حیثیت کو ڈھانپنے کی کوشش کی ہے ، لیکن علمی میزان میں یہ اعتراض کوئی خاص وزن نہیں رکھتا، ہم چند نکات کی شکل میں اس مغالطے کا جواب دیتے ہیں :

1۔اگر اس اعتراض کو جوں کا توں مانا جائے، تب بھی صحیح بخاری نسخ و مخطوطات کے حوالے سے الکافی سے کہیں زیادہ فائق نظر آتی ہے ، کیونکہ صحیح بخاری کا قدیم ترین نسخہ امام بخاری کی وفات کے صرف 115 سال بعد کا ہے ،اور یہ نسخہ بھی کسی غیر معروف ناسخ کا نہیں ، بلکہ ایک معروف محدث امام مروزی نے امام بخاری کے براہ راست شاگرد اور صحیح بخاری کی کتابت کے مرکزی راوی امام فربری سے نقل کیا ہے ، کیا شیعہ محققین الکافی کا کوئی ایسا نسخہ دکھا سکتے ہیں ، جو امام کلمینی کے براہ راست شاگرد سے نقل کیا گیا ہو ؟ یہاں تو صورتحال یہ ہے کہ امام کلینی کے چار سو سال بعد ساتویں صدی ہجری کا جو نسخہ ہے ، اس کی بھی کوئی سند نہیں ہے کہ ناسخ نے یہ نسخہ کس نسخے سے نقل کیا ، اور منقول عنہ نسخہ کس درجے کا تھا؟

صفحہ 2 از 3