اہل سنت اور اہل تشیع کتب حدیث کے مخطوطات و نسخ(قسط 7) - ردِ…

اہل سنت اور اہل تشیع کتب حدیث کے مخطوطات و نسخ(قسط 7)

  مولانا سمیع اللہ سعدی

صفحہ 3 از 3

2۔ مخطوطات و نسخ کے محققین جانتے ہیں کہ کسی کتاب کی استنادی حیثیت کو قوی ثابت کرنے کے لئے اس کتاب کے مخطوطے کی قدامت زیادہ اہم عامل نہیں ، بلکہ مخطوطے کی سند ، مخطوطے کو لکھنے والا ، اور اس مخطوطے کو کہاں سے لیا گیا ہے ؟ یہ عوامل زیادہ اہم ہوتے ہیں ، صحیح بخاری کے جو بھی اہم نسخے ہیں ،اس میں مذکورہ امور کی وضاحت بالتفصیل ہوتی ہے ، اوپر حافظ یونینی کے نسخے کے حوالے سے تفصیل آچکی ہے کہ کس طرح چار جید محدثین کے سامنے پڑھے گئے نسخہ جات سے نقل کیا گیا ، اور وہ محدثین براہ راست صحیح بخاری کی کتابت والے راویوں سے ناقل ہیں ، اسی طرح ابو علی الصدفی کے جس نسخے کا ذکر شیعہ محقق نے کیا ہے ، وہ بظاہر تو چھٹی صدی ہجری کا ہے ، لیکن اس پر جو عبارت لکھی ہے ، اس سے اس مخطوطے کی استنادی حیثیت خوب واضح ہوتی ہے ، اس مخطوطہ پر درجہ ذیل عبارت لکھی ہے :

"كتبه حسين بن محمد الصدفي من نسخة بخط محمد بن علی بن محمود مقروءة على ابی ذر رحمه الله وعليها  

(روایات ونسخ الجامع الصح، محمد بن عبد الکریم بن عبید ، دار امام الدعوة ،ریاض ، ص 43)

ترجمہ : یہ نسخہ حسین بن محمد صدفی نے محمد بن علی بن محمود کے لکھے گئے نسخے سے نقل کیا ، جو ابوذر پر پڑھا گیا تھا ، اور اس نسخے پر ابوذر کی کتابت بھی ہے ۔

یہ ابوذر الھروی وہی محدث ہیں ، جنہوں نے صحیح بخاری کے تین معروف رواۃ ، المستملی، الحموی اور الکشمیھنی سے براہ راست صحیح بخاری کو نقل کیا ہے ۔

اسی طرح جس نسخے کو شیعہ محقق امام بخاری کے 115 سال والا نسخہ کہہ کر بظاہر عدم قدامت سے اس کی استنادی حیثیت کو مشکوک بنارہے ہیں ، یہ نسخہ امام مروزی نے براہ راست صحیح بخاری کے کاتب و راوی امام فربری سے نقل کیا ہے ۔

الکافی پر بنیادی اعتراض اس کے مخطوطات کی قدامت کا نہیں ، بلکہ موجود نسخوں کی استنادی حیثیت ، موجود نسخوں کا ماخذ نسخہ اور ان ماخذ نسخوں کی مصنف یا مصنف کے براہ راست تلامذہ تک سند متصل جیسے امور کا فقدان ہے۔

شاید مکمل و معتمد نسخہ جات کے فقدان کی وجہ ہے کہ الکافی کی موجودہ شروحات سب نویں صدی ہجری ( دور صفوی ) اور اس کے بعد کے ادورا کی ہیں ، یعنی ان ادوار کی ہیں ، جب الکافی کے مکمل نسخنے منظر عام پر آنا شروع ہوئے ، الکافی کی کوئی ایسی شرح اب تک سامنے نہیں آئی ہے ، جو موجود ہو اور وہ ساتویں صدی ہجری سے پہلے لکھی گئی ہو۔ چنانچہ الکافی کے معروف محقق شیخ عبد المحسن عبد الغفار نے اپنی تفصیلی کتاب "الکلینی و الکافی " میں الکافی کے ستر کے قریب شروح و حواشی کا ذکر کیا ہے ،ان میں سب سے قدیم ترین شرح (جس کا بھی وجود نہیں ، صرف فہارس کی کتب میں ہے) ساتویں صدی ہجری کے عالم نصیر الدین طوسی کی شرح ہے ۔

(الکلینی والکافی، عبد المحسن عبد الغفار، موسی النشر الاسلامی، قم، ص 443) 

باقی سب شروحات و تعلیقات ساتویں صدی کے بعد کے ادوار کی ہیں ۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ الکافی کا قدیم ترین نامکمل نسخہ ساتویں صدی ہجری کا ہے اور اس کی اولین شرح بھی اسی زمانے کی ہے ۔

( جاری ہے )

 


صفحہ 3 از 3