تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور افسانہ خلافت بلافصل - ردِ…

تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور افسانہ خلافت بلافصل

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 1 از 3

افسانہ خلافت بلافصل اور تحقیق

مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ

شیعہ عموماً اس روایت کے معنیٰ توڑ موڑ کر عوام الناس کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں رسولﷺ نے غدیر خم کے موقع لوگوں کو فرمایا:

مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ

ترجمہ: "میں جس کا محبوب اور دوست ہوں علی بھی اس کا محبوب اور دوست ہے یا اللہ تو اس شخص کو محبوب رکھ جو اس کو محبوب رکھے تو اس شخص کو دشمن رکھ جو اس کو دشمن رکھے"

پس منظر غدیر خم:

اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ سے پہلے رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن کی طرف والی/ عامل بنا کر بھیجا تھا، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کر کے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد حضرت علیؓ حضورﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علیؓ پر اعتراض کیا، اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریمﷺ  کی خدمت میں حاضر ہو کر دوہرایا، آپﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور حضرت علیؓ کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق تھا، نیز آپﷺ نے انہیں حضرت علیؓ سے محبت کا حکم دیا اور حضرت علیؓ کے بارے میں دل میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا، چنانچہ ان حضرات کے دل حضرت علیؓ کی طرف سے بالکل صاف ہو گئے، وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علیؓ محبوب ہو گئے۔ البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں، آپﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپﷺ حضرت علیؓ کی قدر و منزلت اور ان کا حق ہونا بیان فرمائیں، چنانچہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریمﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ حکیمانہ اسلوب میں حضرت علیؓ کا حق واضح فرمایا، اور جن لوگوں کے دل میں حضرت علیؓ کے بارے میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں ارشاد فرما کر دور فرما دیا:

اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاه قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ"

یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی کو بھی دوست رکھے گا میں جس کا محبوب ہوں گا علی بھی اس کا محبوب ہو گا، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس کا دشمن ہو جا۔

آپﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمرؓ حضرت علیؓ سے ملے تو فرمایا: اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔ حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل میں حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے تھی، جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے آپﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی حضرت علیؓ کی محبت سے سرشار ہو گئے۔ اس خطبہ سے آنحضرتﷺ کا مقصود یہ بتلانا تھا کہ حضرت علیؓ اللہ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں، ان سے اور میرے اہلِ بیتؓ سے تعلق رکھنا مقتضائے ایمان ہے، اور ان سے بغض وعداوت یا نفرت و کدورت ایمان کے منافی ہے۔

مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آنحضرتﷺ کا غدیرخُم  میں "من کنت مولاه فعلي مولاه" ارشاد فرمانا حضرت علیؓ کی خلافت کے اعلان کے لیے نہیں، بلکہ حضرت علیؓ کی قدر و منزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرنے کے لیے تھا نیز  حضرت علیؓ کی محبت کا ایک فریضہ لازمہ کے طور پر امت کی ذمہ داری قرار دینے کے لیے تھا اور الحمدللہ! اہلِ سنت والجماعت اتباعِ سنت میں حضرت علیؓ کی محبت کو اپنے ایمان کا جز سمجھتے ہیں، اور بلاشبہ حضرت علیؓ سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔

مذکورہ خطبے اور ارشاد کی حقیقت یہی تھی جو بیان ہو چکی۔ باقی ایک گمراہ (شیعہ) فرقہ اس سے حضرت علیؓ کے لیے خلافت بلافصل ثابت کرتا ہے اور چونکہ یہ خطبہ ماہ ذوالحجہ میں ہی ارشاد فرمایا تھا اس لیے ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسی خطبہ کی مناسبت سے عید مناتا ہے، اور اسے ’’عید غدیر‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اس دن عید کی ابتداء  کرنے والا ایک حاکم معزالدولۃ گزرا ہے، اس شخص نے 18 ذوالحجہ 351 ہجری کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا تھا اور اس کا نام "عید خُم غدیر" رکھا۔

اس سے پہلے ہم اس روایت کی تحقیق بیان کریں شیعہ کتابوں میں حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق حیرت انگیز تعجب خیز ایک کہانی پیش کرتے ہیں پڑھیں پھر اس روایت پر تحقیق ہو گی۔

شیعہ کتاب احتجاج طبرسی کتاب صفحہ 70 اور طبع قدیم صفحہ 33 پر مرقوم ہے:

صفحہ 1 از 3