تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور افسانہ خلافت بلافصل - ردِ…

تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور افسانہ خلافت بلافصل

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 2 از 3

"حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حج کے روز عرفات میں آ کر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچایا کہ علی کی خلافت کا اعلان کر دو تو رسولﷺ نے لوگوں کے ڈر سے اللہ کے حکم کو ٹال دیا وہاں سے واپس ہوئے جب مسجد خیف پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام دوسری بار نازل ہوئے اور پھر یہ حکم دیا کہ علی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کر دو پھر بھی ڈر کی وجہ سے رسولﷺ نے اعلان نہ کیا پھر وہاں سے چلتے چلتے "کراع غمیم" نامی مقام پر پہنچے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے رسولﷺ نے فرمایا مجھے اپنی قوم سے ڈر ہے اللہ تعالیٰ سے میرے لئے حفاظت کی کوئی آیت لاؤ تب میں یہ حکم لوگوں میں پہنچاؤں گا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے واپس بارگاہِ الٰہی میں سارا ماجرہ عرض کیا اور رسولﷺ چلتے چلتے غدیر خم پر پہنچے تو چوتھی بار جب جبرائیل علیہ السلام آئے اس وقت جبکہ دن کی پانچ گھڑیاں گزر رہی تھی جبرائیل علیہ السلام رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور سخت زجر و توبیخ سے کہا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ علی کی خلافت کا اعلان کر دو میں تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھوں گا اگر تم نے اب بھی علی  کی خلافت کا اعلان نہ کیا تو تم نے رسالت کا فریضہ ادا نہ کیا تو پھر اس زجر و توبیخ کے بعد رسول اللہﷺ (نے صریح اور صاف اعلان خلافت بلافصل کے بجائے) من کنت مولا فہذا علی مولا کے الفاظ سے اعلان فرمایا جو کہ خلافت مطلقہ کا بھی معنیٰ نہیں دیا جا سکتا کہ خلافت بلا فصل پر دلالت کرے"

لفظ مولا کے معنیٰ کی وسعت کو دیکھ کر شیعہ مجتہد علامہ نوری طبرسی نے فیصلہ کن بات کہہ دی

"کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن اپنے بعد خلافت بلا فصل کی ہرگز وصیت نہیں فرمائی" فصل الخطاب 182

شیعوں نے حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کے لئے تو یہ کہانی گھڑ لی لیکن بیچاروں کو یہ نہیں خیال رہا کہ اس کہانی سے رسولﷺ کی رسالت پر کیسی زد پڑے گی حضورﷺ ساری کائنات کے بہادروں سے زیادہ بہادر تھے اور جو مکہ اور طائف احد و احزاب میں کسی سے خوفزدہ نہ ہوئے ان کے بارے میں یہ کہانی بہتان اور خلاف قرآن ہے

اۨلَّذِيۡنَ يُبَـلِّـغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخۡشَوۡنَهٗ وَلَا يَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ 

 (سورۃ الأحزاب   آیت 39)

ترجمہ: "اللہ کے رسولﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے"

اگر رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کا اعلان کر چکے ہوتے تو حضرت علیؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کیوں کرتے؟؟ 

جیسا کہ شیعہ کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 56 پر لکھا ہے:

اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) اور ان کی شہادت کے بعد جب آپ لوگوں نے ان کو خلیفہ بننے کے لئے کہا تو علی نے فرمایا:

"مجھے چھوڑو کسی اور کو بنا لو اگر تم مجھ کو چھوڑ دو تو میں باقی مسلمانوں کی طرح رہوں گا اور جس کو تم امیر بناؤ گے میں تم سے زیادہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کروں گا اور میرا وزیر ہونا میرے خلیفہ ہونے سے تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔

(نہج البلاغہ: جلد 1 صفحہ 182)

غور کیجئے! حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل منصوص من اللہ تھی تو وہ کس طرح کہتے کہ کسی اور کو خلیفہ بنا لو میں اس کی فرمانبرداری تم سے زیادہ کروں گا جو چیز توحید و رسالت کی طرح اصول دین میں سے ہے اس کے خلاف حضرت علیؓ جیسے کامل الایمان کیسے کر سکتے تھے؟

نیز سیدنا علیؓ نے مہاجریں وانصار کے اجتماع اور شوریٰ سے منتخب شدہ امام کو امام برحق اور رضائے الہٰی کے موافق بیان فرمایا۔

(نہج البلاغہ: جلد 3 صفحہ 8)

اگر بالفرض خلافت علیؓ منصوص من اللہ یعنی کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب شدہ ہے تو حضرت علیؓ اس کے خلاف یہ کیسے فرماتے کہ مہاجرین انصار کا منتخب شدہ امام اللہ کا پسندیدہ امام ہو گا بلکہ آپؓ تو یوں فرماتے نص خلافت کے بعد دوسرے کو امام بنانا کفر ہے۔

مذکورہ امور کے بعد اب اس روایت کے معنیٰ پر غور کرتے ہیں:

تحقیق لفظ مولیٰ: واضح رہے کہ"مولیٰ" فصیح عربی زبان کا لفظ ہے جس کا استعمال قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور کلام عرب میں موجود ہے علماء عربیت نے اس کے پچاس سے زائد معانی بیان کیے ہیں، عام لغات میں بھی اس کے پندرہ سترہ معانی بآسانی دستیاب ہیں۔ اسی لفظ کے ساتھ "نا" ضمیر بطور مضاف الیہ استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کے سب سے پہلے استعمال کی بات ہے تو خود اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں رسولﷺ کی طرف نسبت کر کے جبریل امین اور نیک مسلمانوں کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌

(سورۃ التحريم آیت 4)

ترجمہ: یعنی بے شک اللہ تعالیٰ اور جبریل اور نیک اہل ایمان آپﷺ  کے مولیٰ ہیں۔

یہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہلِ ایمان (یعنی نیکوکاروں) کے لیے بھی یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جبرئیل امین اور تمام نیکو کار اہلِ ایمان رسولﷺ کے مولیٰ ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہ ایزدی سے عطا ہوا ہے۔ اس سے آگے چلیں تو خود رسولﷺ نے حضرت زیدؓ کو فرمایا:

"یا زید انت مولانا"

معلوم ہوا کہ حضرت زیدؓ رسولﷺ کے مولیٰ ہیں۔ نیز آپﷺ نے حضرت علیؓ کے متعلق فرمایا کہ: "من کنت مولاہ فعلی مولاہ"

جس طرح شیعہ لفظ مولا سے سیدنا علیؓ کی خلافت ثابت کرنا چاہتے ہیں اس طرح کیا حضرت زیدؓ بھی رسولﷺ کے خلیفہ بلا فصل تھے؟

شیعہ حضرات جو اپنے مولوی صاحبان کو فلاں مولانا، فلاں مولانا کہا کرتے ہیں تو کیا وہ بھی خلیفہ بلافصل ہوتے ہیں؟

ان مذکورہ بالا متعدد معانی میں سے اس روایت کے معنیٰ خود اس روایت کے آخری الفاظ "أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ"  متعین کرتے ہیں کیونکہ ان کے معنیٰ ہر شخص کے نزدیک یہی ہیں کہ:

"یا اللہ تو اس شخص کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس شخص کو جو علی کو دشمن رکھے"

صفحہ 2 از 3