تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور افسانہ خلافت بلافصل - ردِ…

تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور افسانہ خلافت بلافصل

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 3 از 3

یہ الفاظ بالکل اسی طرح اور واضع ہیں کہ اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست اور محب کے ہیں جس کی بنا پر روایت کے معنیٰ میں یہ ہے کہ جس کا میں دوست ہوں اس کا علی دوست ہے اس فرمان نبویﷺ میں اس شخص کو تنبیہ مقصود تھی جس کی حضرت علیؓ سے کچھ رنجش ہو گئی تھی اس رنجش کا رسول اللہﷺ کو اسی جنگل کے غدیر تالاب پر علم ہوا جس کا وہیں یہ فیصلہ فرمایا ورنہ اگر خلافت بلافصل کا اعلان مقصود ہوتا تو عرفات کے میدان میں جہاں تمام لوگ ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے وہاں اعلان فرماتے عقلمند اور دیانتدار باشعور اور مصنف مزاج حضرات غور فرمائیں! اگر سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کا مسئلہ اصول دین میں توحید رسالت کی طرح تھا جیسے شیعہ کہتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ اس کا اعلان و بیان نہ قرآن مجید میں نہ صریح حدیث متواتر میں نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ بیت اللہ میں مسجد نبویؐ میں نہ عرفات و منیٰ و مزدلفہ میں جہاں تمام مسلمان ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے بلکہ ایسا ضروری اور اہم اعلان غدیر خم جنگل کے تالاب پر وہ بھی گول مول الفاظ میں جن کے معنیٰ خلافت بلا فصل قطعاََ نہیں ہو سکتے بلکہ اس روایت میں کوئی ادنیٰ سا اشارہ بھی خلافت علیؓ بلافصل کا نہیں کیونکہ اس میں تو دوامی حکم ہے کسی خاص وقت کے متعلق حضور ﷺ کی زندگی یا آپﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تک کا حکم نہیں بلکہ حضورﷺ کی امت پر قیامت تک یہ حکم ہے کہ جس شخص کے لئے رسول اللہﷺ مولا ہیں اس کے لئے حضرت علیؓ بھی مولا ہیں تو یہ تو دوامی حکم محبت و دوستی کا تو صحیح ہو سکتا ہے لیکن خلافت بلافصل کا صحیح نہیں ہو سکتا ہے البتہ اس میں شک نہیں کہ سیدنا علیؓ کو خلفاء ثلاثہؓ کے بعد چوتھے خلیفہ راشدؓ ہیں۔


صفحہ 3 از 3