Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے سورج پلٹا تھا؟ کیا یہ روایت درست ہے؟

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

سوال: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لئے سورج پلٹا تھا؟ کیا یہ روایت درست ہے؟
 وعلیکم اَلسَلامُ وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
جواب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیئے سورج کی واپسی
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے منسوب ہے:
کان رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یوحی إلیہ، و رأسہ فی حجر علي، فلم یصل العصر حتّٰی غربت الشمس، فقال رسول اللہصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صلیت یا علیي؟، قال :لا، فقال رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللّٰھم، إنہ کان في طاعتک و طاعۃ رسولک، فاردد علیہ الشمس،قالت أسماء: فرأیتھا غربت، ثم رأیتھا طلعت بعد ما غربت۔
نبی کریمﷺ پر وحی کا نزول ہو رہا تھا اور آپﷺ کا سر مبارک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں تھا۔ وہ عصر کی نماز نہ پڑھ سکے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ آپدیوانﷺ نے دعا کی: اے اللہ! علی تیری اور تیرے رسول کی فرمانبرداری میں مشغول تھے، ان کے لئے سورج کو لوٹا دے۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: میں نے سورج کو غروب ہوتے دیکھا، پھر سورج کے غروب ہو جانے کے بعد اسے طلوع ہوتے دیکھا۔"

(السنۃ لابن أبي عاصم: 1323، مختصراً، مشکل الأ ثار للطحاوی: جلد 2 صفحہ 9، المعجم الکبیر للطبرانی: جلد 24 صفحہ 147، 152، تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد 42 صفحہ 314)
ضعیف: اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
ابراہیم بن حسن بن حسن بن ابی طالب کی صریح توثیق، زمانئہ تدوین حدیث میں سوائے حافظ ابن حبان کے کسی نے بھی نہیں کی اور مجہول و مستور کی توثیق میں ابن حبان متساہل تھے لہٰذا ابراہیم بن حسن مذکور مجہول الحال ہیں اور حافظ ذہبی نے انھیں ضعیف راویوں میں ذکر کیا ہے۔
دیکھیے (دیوان الجعفاء و المتروکین: جلد 1 صفحہ 46 -169)
حافظ ابن تیمیہ رحمۃاللہ نے فرمایا: فضیل بن مرزوق کا ابراہیم (بن حسن بن حسن) سے سماع معلوم نہیں، ابراہیم کا (اپنی ماں) فاطمہ سے اور فاطمہ کا اسماء (بنت عمیس رضی اللہ عنہا) سے سماع معلوم نہیں ہے۔
(منہاج السنہ: جلد 4 صفحہ 190)
اس روایت کے بارے میں جمہور ائمہ محدثین کے اقوال ملاحظہ ہوں
حافظ ابوبکر محمد بن حاتم بن زنجویہ بخاری رحمۃاللہ اپنی کتاب (إثبات إمامۃ الصدیق) میں فرماتے ہیں:
یہ روایت سخت ضعیف اور بے اصل ہے، یہ روافض کی کارستانی ہے۔
(البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر: جلد 6 صفحہ 87)
حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ امام ابن مدینی رحمۃاللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ روایت بے اصل ہے۔
(البدایۃ والنھایۃ: جلد 6 صفحہ 93)
حافظ ابن عساکر رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
یہ حدیث منکر ہے، اس میں کئی ایک مجہول راوی ہیں۔
(تاریخ دمشق: جلد 42 صفحہ 314)
امام عقیلی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
اس روایت میں کمزوری ہے۔
(الضعفاء الکبیر: جلد 3 صفحہ 328)
حافظ جورقانی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
یہ حدیث منکر اور مضطرب ہے۔
(الأباطیل والمناکیر و الصحاح و المشاھیر: جلد 1 صفحہ 308)
حافظ ابن الجوزی رحمۃاللہ نے اسے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
(الموضوعات: جلد 1 صفحہ 356)
 حافظ محمد بن ناصر بغدادی رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
یہ حدیث من گھڑت ہے۔
(البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر: جلد 6 صفحہ 87)
حافظ ذہبی فرماتے ہیں: یہ روایت جھوٹی ہے، صحیح نہیں۔
(تلخیص الموضوعات: 118)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اسے من گھڑت قرار دیا ہے۔
(منھاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 185، 195)
 محمد بن عبید طنافسی اور یعلیٰ بن عبید طنافسی رحمہما اللہ نے بھی اسے من گھڑت ہی قرار دیا ہے۔
(البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر: جلد 6 صفحہ 93)
حافظ ابو الحجاج یوسف مزی رحمۃاللہ نے بھی اسے "موضوع" قرار دیا ہے۔
(البدایۃ والنھایۃ لابن کثیر: جلد 6 صفحہ 93)
 حافظ ابن القیم رحمۃاللہ نے بھی اسے جھوٹی روایتوں میں ذکر کیا ہے۔
(المنار المنیف: جلد 1 صفحہ 56)
حافظ ابن کثیر رحمۃاللہ فرماتے ہیں:
یہ روایت جمیع طرق کے ساتھ ضعیف و منکر ہے۔ اس کی کوئی ایک سند بھی شیعہ، مجہول الحال اور شیعہ و متروک راویوں سے خالی نہیں ہے۔
(البدایۃ والنھایۃ: 87)