ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان بدر میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان بدر میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان بدر میں

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غزوہ بدر میں شرکت کی جو 2 ہجری میں واقع ہوا۔ اس غزوہ میں آپ نے عظیم کردار ادا کیا جس میں سے اہم ترین یہ ہیں:

1: جنگی مشورہ:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ قریش کا تجارتی قافلہ بچ کر نکل گیا ہے اور سرداران مکہ جنگ پر مصر ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس سلسلہ میں مشورہ لیا۔(البخاری: 3952) سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اچھی گفتگو کی پھر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور اچھی گفتگو کی۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 2 صفحہ، 447)

2: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فراہمی اطلاعات میں آپ کا کردار:

ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشرکین کے لشکر کے حالات معلوم کرنے نکلے، دونوں اس علاقہ میں گھوم رہے تھے، ایک عربی بوڑھے سے ملاقات ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے قریشی لشکر، محمد اور ان کے اصحاب کے متعلق دریافت کیا۔ (قریشی لشکر کے ساتھ اپنے بارے میں پوچھنے کا مقصد تھا کہ آپ کی شخصیت پوشیدہ رہے، راز افشا نہ ہونے پائے۔ (مترجم))

اس بوڑھے نے کہا: میں اس وقت تک تمہیں کچھ نہ بتاؤں گا جب تک یہ نہ بتاؤ کہ آپ کون ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ ہمیں بتا دو گے تو ہم بھی تمہیں بتا دیں گے کہ ہم کون ہیں۔

اس نے کہا: بات پکی ہے؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ہاں۔

اس نے بتایا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ محمد اور ان کے ساتھی فلاں دن نکلے ہیں اگر خبر دینے والا سچا ہے تو آج فلاں جگہ ہوں گے۔ (ٹھیک اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں اسلامی لشکر فروکش تھا) اور مجھے خبر ملی ہے کہ قریش فلاں دن نکلے ہیں اگر خبر دینے والا سچا ہے تو آج وہ فلاں جگہ ہوں گے۔ (ٹھیک اس جگہ کی نشاندہی کی جہاں کفار کا لشکر فروکش تھا۔)

اس کے بعد بوڑھے نے کہا: میں نے آپ کو مطلوبہ چیز بتلا دی، اب آپ ہمیں بتائیں کہ آپ لوگ کون ہیں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم پانی سے ہیں۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے چل پڑے، بوڑھا بکتا رہا ’’پانی سے ہیں‘‘ کیا مطلب؟ کیا عراق کے پانی سے ہیں؟

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 2 صفحہ، 228)

اس مؤقف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قربت واضح ہوتی ہے، آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے اسباق سیکھے۔

3: مرکز قیادت (سائبان) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں:

جنگ کے لیے اسلامی لشکروں کی صفوں کو ترتیب دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرکز قیادت میں واپس آگئے، جو ایک ٹیلے پر جھونپڑا ڈال کر تیار کیا گیا تھا، جہاں سے میدان جنگ سامنے نظر آتا تھا، اس کے اندر آپ کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور انصاری نوجوانوں کی ایک جماعت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اس مرکز پر پہرہ دے رہی تھی۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 2 صفحہ، 233)

علی رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس مؤقف کی وضاحت کی ہے، آپ نے لوگوں سے سوال کیا:

سب سے بڑا بہادر کون ہے؟

لوگوں نے جواب دیا: امیر المومنین! آپ ہیں۔

آپ نے فرمایا: میرا معاملہ تو یہ ہے کہ جو میرے مقابلہ میں آیا میں نے اس سے بدلہ لیا، لیکن سب سے بڑے بہادر ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ہم نے بدر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک سائبان بنایا اور کہا: کون آپ کے ساتھ یہاں رہے گا تاکہ کوئی مشرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک نہ پہنچ سکے۔ اللہ کی قسم ابوبکر رضی اللہ عنہ تلوار لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے رہے، جو مشرک بھی ادھر کا رخ کرتا آپ اس کی طرف بڑھ کر مار بھگاتے، یقینا ابوبکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑے بہادر ہیں۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 271 اور 272)

4: فتح ونصرت کی بشارت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو بہ پہلو قتال:

جنگی اسباب اختیار کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رب العالمین کی طرف متوجہ ہوئے اور فتح ونصرت کی دعا میں لگ گئے، آپ اپنی دعا میں یہ فرما رہے تھے:

اللہم أنجزلی ما وعدتنی ، اللہم ان تہلک ہذہ العصابۃ من اہل الاسلام فلا تعبد فی الارض ابدا

’’الٰہی تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے پورا کر دکھا، اگر مسلمانوں کا یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو زمین میں کبھی تیری عبادت نہ ہو گی۔‘‘

آپ برابر دعا و استغاثہ میں لگے رہے، یہاں تک کہ چادر مبارک آپ کے شانہ مبارک سے گر گئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ردائے مبارک تھام لی اور شانہ مبارک پر دوبارہ ڈال دی اور عرض کرنے لگے: یا رسول اللہ! کافی ہو گیا، اللہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔

(مسلم: الجہاد، باب الامداد بالملائکۃ ببدر: جلد، 3 صفحہ، 1763 اور 1764)

اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ(سورۃ الانفال: آیت، 9)

ترجمہ: ’’اس وقت کو یاد کرو جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی۔‘‘

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے دن فرمایا:

اَللّٰہُ اَنْشُدُکَ عَہْدَکَ وَوَعَدَکَ اللّٰہُ اِنْ شِئْتَ لَمْ تَعْبَدْ۔

ترجمہ: ’’اے اللہ! تو اپنے عہد و وعدے کو پورا کر دکھا، اللہ اگر تو چاہے تو تیری عبادت نہ ہو۔‘‘

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام لیا اور عرض کیا: اللہ آپ کے لیے کافی ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیت پڑھتے ہوئے باہر نکلے:

سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ (سورۃ القمر: آیت، 45)

(بخاری: المغازی، باب قصۃ بدر: جلد، 5 صفحہ، 6 حدیث، 3953)

ترجمہ: ’’عن قریب یہ جماعت شکست دی جائے گی اور پیٹھ دے کر بھاگے گی۔‘‘

سائبان کے اندر آپ پر غنودگی سی طاری ہوئی پھر آپ نے متنبہ ہو کر فرمایا:

ابشر یا ابابکر! اتاک نصر اللہ، ہذا جبریل آخذ بعنان فرسہ یقودہ علی ثنایاہ النقع۔

صفحہ 1 از 3