ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان بدر میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

ابوبکر رضی اللہ عنہ میدان بدر میں

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

ترجمہ: ’’اے ابوبکرؓ! خوش ہو جاؤ، تمہارے پاس اللہ کی فتح ونصرت آگئی، یہ جبریل امین اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے بڑھ رہے ہیں اور گردوغبار میں اٹے ہوئے ہیں۔‘‘

اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سائبان سے باہر نکلے اور لوگوں کو قتال پر ابھارا۔

(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام: جلد، 2 صفحہ، 457 بحوالہ تاریخ الدعوۃ: 125)

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ سے اللہ تعالیٰ کی فتح ونصرت کے لیے نفسانی خواہشات سے دوری، اخلاص، اللہ سے لو لگانا، اس کے سامنے سجدہ ریز ہونا اور گھٹنے ٹیکنے سے متعلق ربانی دروس سیکھے۔ یہ منظر آپ کے ذہن ودماغ اور قلب و وجدان میں راسخ ہو گیا تھا، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں اس طرح کے مواقع پر اس کو نافذ کرتے اور یہ منظر ہر اس قائد، حاکم، لیڈر اور ہر فرد کے لیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی اقتدا کرنا چاہتا ہے، درس و عبرت پیش کرتا ہے۔

جب گھمسان کی جنگ شروع ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے تشریف لائے اور لوگوں کو قتال پر ابھارا۔ لوگ اپنی صفوں میں اللہ کا ذکر کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود خوب قتال کیا اور آپ کے پہلو بہ پہلو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ قتال کرتے رہے۔(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 3 صفحہ، 278) آپ کی بے نظیر اور نادر الوجود شجاعت سامنے آئی، آپ ہر سرکش کافر سے لڑنے کے لیے تیار تھے، اگرچہ آپ کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ اس معرکہ میں آپ کے بیٹے عبدالرحمٰن کفار کی جانب سے لڑنے کے لیے آئے تھے اور عرب میں سب سے بڑے بہادر سمجھے جاتے تھے اور قریش میں تیر اندازی میں سب سے بڑے ماہر تھے۔ جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو اپنے والد سے عرض کیا: بدر کے دن آپ میرے سامنے واضح نشانہ و ہدف پر تھے، لیکن آپ سے ہٹ گیا اور آپ کو قتل نہ کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تو میرے سامنے آتا تو میں تجھ سے ہٹتا نہیں۔

(تاریخ الخلفاء للسیوطی: 94)

5: صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور جنگی قیدی:

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ: جب مسلمانوں نے بدر میں کفار کو گرفتار کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا:

ان قیدیوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟

تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! یہ سب چچیرے بھائی اور خاندان و کنبے ہی کے لوگ ہیں، میری رائے ہے کہ آپ انہیں فدیہ لے کر چھوڑ دیں، اس طرح کفار کے مقابلہ کے لیے ہمیں قوت حاصل ہو گی اور امید ہے کہ اللہ انہیں ہدایت دے دے اور یہ مسلمان ہو جائیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب! تمہاری رائے کیا ہے؟

عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: واللہ میری وہ رائے نہیں جو ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ہے، میری رائے تو یہ ہے کہ انہیں آپ ہمارے حوالے کر دیں اور ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ عقیل بن ابی طالب کو علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ کریں وہ اس کی گردن ماریں اور فلاں کو (جو عمر رضی اللہ عنہ کا قریبی تھا) میرے حوالہ کریں اور میں اس کی گردن مار دوں۔ یہ سب کفر کے لیڈر اور قائدین ہیں۔

عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بات پسند فرمائی اور میری بات پسند نہیں فرمائی، چنانچہ قیدیوں سے فدیہ لینا طے کر لیا۔ اس کے بعد جب اگلا دن آیا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے رو رہے ہیں۔

میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے بتائیں آپ اور آپ کے ساتھی کیوں رو رہے ہیں، اگر مجھے بھی رونے کی وجہ ملی تو روؤں گا اور اگر نہ مل سکی تو آپ حضرات کے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی نے جو فدیہ لینے کی رائے مجھے دی تھی، اسی کی وجہ سے رو رہا ہوں۔ اور آپ نے ایک قریبی درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسی کی وجہ سے مجھ پر ان کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب پیش کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:

 مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌo لَوْ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ o فَکُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ  (سورۃ الانفال: آیت، 67 تا 69)

ترجمہ: ’’نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے۔ اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے، اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی، پس جو کچھ حلال اور پاکیزہ غنیمت تم نے حاصل کی ہے خوب کھاؤ پیو اور اللہ سے ڈرتے رہو یقینا اللہ غفور و رحیم ہے۔‘‘

اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مال غنیمت حلال کر دیا۔ (مسلم: الجہاد والسیر: جلد، 3 صفحہ، 1385 اور 1763)

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ جب بدر کی جنگ ختم ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کہا:

ان قیدیوں کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟

ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہی کی قوم اور کنبے کے لوگ ہیں ان کو چھوڑ دیں اور انہیں مہلت دیں، شاید اللہ ان کو توبہ کی توفیق دے دے۔

عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! انہوں نے آپ کو مکہ سے نکالا ہے اور آپ کی تکذیب کی ہے، آپ انہیں قریب کریں، میں ان کی گردنیں اڑا دوں۔

عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایسی وادی دیکھیں جہاں خوب زیادہ ایندھن ہوں، انہیں اس میں داخل کر کے ان پر آگ لگا دیں۔

اس پر عباس نے کہا: تم نے اپنے رشتے توڑ دیے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ کہے بغیر گھر میں داخل ہو گئے۔ لوگ آپس میں قیاس آرائی کرنے لگے۔

کچھ لوگوں نے کہا: ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے پر عمل کریں گے۔

صفحہ 2 از 3