Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ماہ محرم کی چند بدعات و خرافات کا حکم اور اس سے بچنے کی تاکید


ماہ محرم کی چند بدعات و خرافات کا حکم اور اس سے بچنے کی تاکید

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید ایک عالم دین ہے، اپنی تقریر میں محرم کی جو رسومات ہیں اُن سے وہ منع کرتے ہیں مثلاً: سیدنا حسنؓ کی لاش رکھنا اور ان کی تابوت تعزیہ داری کرنا، امام باڑہ پر مرغ یا خصی ذبح کرنا اور پھر فاتحہ دینا، اور نفع و نقصان جاننا، سجدہ کرنا، نوحہ کرنا یا ماتم کرنا، سوگ منانا، ڈنکا وغیرہ پیٹنا، دسویں تاریخ کو تعزیہ لے کر ایک جگہ ملنا اور اکھاڑا لگانا جس کو مرد و عورتیں سب ملکر دیکھتے ہیں، اور پھر خوب دھوم دھام سے خوشی منانا وغیرہ، ان سب باتوں سے زید منع کرتے ہیں اور خوب تاکید کے ساتھ منع کرتے ہیں، مگر لوگ زید کو برا بھلا کہتے ہیں اور دیوبندی کہتے ہیں ہم ان کی بات نہیں مانیں گے، ہاں اگر مفتی کا فتویٰ آجائے تو سب چیزوں سے رُک جائیں گے۔ اس لئے مذکورہ باتوں کا جواب عنایت فرمائیں۔

جواب: سوال نامہ میں درج شدہ تمام اُمور ناجائز اور حرام ہیں، مسلمانوں پر ان کا ترک کرنا واجب ہے، زید عالم دین کا منع کرنا صحیح ہے۔

(فتاویٰ قاسمیه:جلد:2:صفحہ:451)