Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

22 رجب کو کونڈوں کی حقیقت اور اس میں شرکت کرنے کا حکم


22 رجب کو کونڈوں کی حقیقت اور اس میں شرکت کرنے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: 22 رجب کو بعض جگہ کونڈے کرنے کا بڑا رواج ہے، اس میں جو رسمیں کی جاتی ہیں ان کا کیا حکم ہے؟ کیا مسلمان اہلِ سنت کو یہ رسم کرنی چاہئے؟ مسلمان اہلِ سنت والجماعت کی رہنمائی فرمائیں؟
جواب: کونڈوں کی مروجہ رسم مذہب اہلِ سنت والجماعت میں محض بےاصل، خلافِ شرع اور بدعتِ ممنوعہ ہے۔ کیونکہ 22 رجب نہ تو سیدنا جعفر صادقؒ کی ولادت ہے اور نہ ہی تاریخ وفات بلکہ 22 رجب سیدنا امیر معاویہؓ کی تاریخ وفات ہے :قال على بن محمد مات معاويةؓ بدمشق سنة ستين يوم الخميس لثمان بقين من رجب:
(تاریخ طبری:جلد:3:صفحہ:261)
اس سے پتہ چلا کہ یہ رسم دشمنانِ سیدنا معاویہؓ کی ایجاد کردہ ہے، اور خواہ مخواہ اپنے راز کو چھپانے کے لئے سیدنا جعفر صادقؒ کی طرف منسوب کر کے امام موصوف پر تہمت لگائی کہ انہوں نے خود خاص اس تاریخ میں اپنی فاتحہ کا حکم دیا ہے، حالانکہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو اس سے بہت دور رہنا چاہئے خود بھی کونڈہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے اور شرکت سے بھی بچنا چاہئے۔
(فتاویٰ قاسمیه:جلد:2:صفحہ:497)