Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سنی عورت کا شیعہ مرد سے نکاح


سنی عورت کا شیعہ مرد سے نکاح

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ دلہا کا تعلق فقہ جعفریہ سے ہے یعنی شیعہ اور دکن کا تعلق اہلِ سنت والجماعت سے ہے۔ کیا ان کا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے؟ اور جو لوگ نکاح میں شریک ہو چکے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: فقہ جعفریہ کے عقائد کے فساد کی وجہ سے کسی سنی لڑکی کا نکاح فقہ جعفریہ سے تعلق رکھنے والے شخص سے جائز نہیں ہے، اگر نکاح پہلے ہو چکا ہے تو یہ نکاح ناجائز ہے۔

نعم لاشک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشهؓ او انکر صحبۃ الصدیقؓ او اعتقد الا لوھیۃ فی علیؓ او ان جبرئیلؑ غلط فی الوحی اونحو ذلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن ولکن لو تاب تقبل توبته: 

(فتاویٰ شامی:جلد:3:صفحہ321)

ویجب اکفار الروافض فی قولھم برجعۃ الاموات الی الدنیا وبتناسخ الارواح وبانتقال روح الا له الی الانمۃ وبقولھم ان جبرئیلؑ غلط فی الوحی الی محمدﷺ دون علیؓ بن ابی طالب وھؤ لاء القوم خارجون عن ملۃ الاسلام و احکامھم احکام المرتدین کذافی الظھیرۃ:

(الھندیۃ:جلد:2:صفحہ:264)

عن جریر بن عبداللّٰہؓ قال سمعت رسول اللّٰہﷺ یقول مامن رجل یکون فی قوم یعمل فیھم بالمعاصی یقدرون علی ان یغیروا علیه ولا یغیرون الا اصابھم اللّٰہ منه یعقاب قبل ان یموتوا:

(مشکوۃ المصابیح:جلد:2:صفحہ:450)

ومنھا اسلام الرجل اذا کانت المرءۃ مسلمۃ یجوزا نکاح المؤمنۃ الکافر:

(بدانع الصنائع:جلد:2:صفحہ:554)

(ارشاد المفتین:جلد:2:صفحہ:201)